ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کردار

بین الاقوامی سیاست میں ایسے مواقع کم ہی آتے ہیں جب کوئی ملک متحارب یا ایک دوسرے کے سخت مخالف ممالک کے درمیان اعتماد سازی، مذاکرات اور مفاہمت کا ذریعہ بنے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مذاکرات کے سلسلے میں پاکستان کا کردار اسی نوعیت کی ایک اہم سفارتی کامیابی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ وہ خطے میں امن، استحکام اور مذاکرات کے فروغ کیلئے ایک مو¿ثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران اور امریکہ کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی، عدم اعتماد اور مختلف تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان اختلافات نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے امن، معیشت اور سیاسی استحکام کو متاثر کیا۔ ایسے حالات میں جب جنگ اور تصادم کے خطرات بڑھ رہے تھے پاکستان نے ایک متوازن اور دانشمندانہ سفارتی پالیسی اختیار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ تنازعات کے حل کیلئے مذاکرات، مفاہمت اور سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ پیش رفت میں بھی پاکستان نے یہی اصول اپنایا۔ پاکستانی قیادت نے دونوں ممالک کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جس میں اختلافات کے باوجود بات چیت کا عمل جاری رہ سکے۔ پاکستان کی میزبانی اور ثالثی کی سب سے بڑی کامیابی یہ رہی کہ اس نے دونوں فریقوں کے درمیان اعتماد سازی میں معاونت فراہم کی۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی طاقتور ممالک اس مسئلے کے حل میں مو¿ثر کردار ادا کرنے میں ناکام نظر آ رہے تھے پاکستان نے خاموش مگر نتیجہ خیز سفارت کاری کے ذریعے خود کو ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوایا۔ اس کردار نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار اور سفارتی اہمیت میں اضافہ کیا۔ پاکستان کی اس کامیابی کے پیچھے اس کی متوازن خارجہ پالیسی، علاقائی معاملات سے گہری واقفیت اور مسلم دنیا میں اس کا مقام بھی شامل ہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے جبکہ امریکہ کے ساتھ بھی پاکستان کے سفارتی تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان دونوں ممالک کیلئے ایک ایسا پل ثابت ہوا جس کے ذریعے مذاکرات اور پیغام رسانی کا عمل ممکن ہو سکا۔ اس ثالثی کردار کے مثبت اثرات صرف ایران اور امریکہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس سے پورے خطے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آتی ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے امکانات بڑھیں گے، عالمی توانائی کی منڈیوں میں بہتری آئے گی اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس طرح پاکستان کی سفارتی کوششیں عالمی امن کیلئے بھی ایک اہم خدمت شمار ہوں گی۔ پاکستان کی اس کامیاب سفارت کاری نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کیا ہے کہ عالمی تنازعات کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ مذاکرات، برداشت اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان نے ایک ذمہ دار اور امن پسند ریاست کے طور پر دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اختلافات کتنے ہی گہرے کیوں نہ ہوں، اگر نیک نیتی اور سنجیدگی کے ساتھ مذاکرات کیے جائیں تو مسائل کے حل کی راہیں ضرور نکل سکتی ہیں۔ پاکستان اپنی اس سفارتی کامیابی کو مزید مستحکم کرے اور مستقبل میں بھی علاقائی اور عالمی امن کے فروغ کیلئے اسی طرح فعال کردار ادا کرتا رہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان کی میزبانی اور ثالثی یقیناً اس کی خارجہ پالیسی کا ایک روشن باب ہے جس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ یہ کردار نہ صرف پاکستان کی سفارتی بصیرت کا مظہر ہے بلکہ اس کے امن پسند تشخص کو بھی دنیا کے سامنے اجاگر کرتا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ پاکستان آئندہ بھی عالمی امن، استحکام اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اسی طرح مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں