ایران امریکہ امن معاہدہ کی طرف پہلا قدم

کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے
آخر کار ساری دنیا کی نظریں جس امن معاہدے پر لگی ہوئی ہیں، اس کی طرف پہلا قدم اٹھا لیا گیا۔ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کر دیئے گئے۔ مفاہمت پر سہ فریقی دستخط ہو چکے ہیں۔ مفاہمت پر دستخط کی تصویریں سوشل و ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی رسائل و جرائد میں بھی بڑے طمطراق سے شائع ہو رہی ہیں۔ میڈیا پر چھائی ویڈیوز میں سب فاتحین کی صورت دستخط کرتے نظر آ رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان بطور فریق، جبکہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف بطور ثالث دستخط کرنے کے بعد یہ دستاویز دنیا کو یوں دکھا رہے ہیں، جیسے آج کے بعد راوی چین ہی چین لکھے گا۔ ارے یہ وہ دریائے راوی نہیں ہے، جس دریا کا پانی بھارت سرکار نے روک کر خشک کر دیا ہے، مگر سیلاب کے دنوں میں پانی چھوڑ کر یاد دلاتے رہتے ہیں، کہ یہاں راوی بھی بہتا ہے، بلکہ یہ بیچارہ وہ راوی ہے جو بس دور کھڑے ہو کر کچھ نہ کچھ لکھتا یا کہتا رہتا ہے۔ کبھی کوئی اس کی سن لیتا ہے، اور کبھی ان سنی کر کے دنیا کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے۔
اس مفاہمت کی رو سے اگلے 60 دن میں ایران اور امریکہ کے درمیان تمام تصفیہ طلب مسائل کو گفت و شنید سے حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اس مفاہمت پر دستخط ہونے کے صورت میں ایران اور امریکہ نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یوں آبنائے ہرمز پہلے کہ طرح تمام تجارتی جہازوں کے لئے کھول دی گئی ہے۔ سعودی عرب کے آئل ٹینکرز نے اس مفاہمت کے فوراً بعد اس آبنائے ہرمز کو پار کر کے اس خطے میں امن کی گھنٹی بجا دی ہے۔ شکر ہے جنگ کا بجتا وہ گھنٹا تو ساکت ہوا، جو اپنی گونج سے کانوں کے پردے پھاڑ رہا تھا۔ اب اس گھنٹی کی مد بھری آواز امن و امان کا راگ بجاتی رہے یہی اقوام عالم کی دعا ہے۔
اس مفاہمت پر پاکستان کے بطور ثالث دستخط اس بات کا بین ثبوت ہیں، کہ پاکستان دنیا میں امن کی کوششوں کا سب سے بڑا داعی ہے۔ ایک ایسی صورتحال میں جب دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر ، وزیراعظم شہباز شریف اور پوری پاکستانی قوم نے امن کی ضرورت پر زور دیا۔ پاکستان نے اپنی بھرپور کاوشوں سے جس طرح امن کی فاختہ کو جنگ کے میدان میں پرواز کا موقع فراہم کیا، وہ نا صرف ایک قابل تحسین اقدام ہے، بلکہ تاریخ عالم پاکستان کے اس کردار کو تادیر یاد رکھے گی۔ اس سے پاکستان کا وقار چہار عالم میں بلند ہوا ہے۔ اللہ پاکستان کو ترقی کی شاہراہ پر یوں ہی رواں دواں رکھے۔ اندرونی خلفشار اور معاشی مسائل سے نکال کر امن کا گہوارہ بنانے دے۔
14 نکاتی امن مفاہمت میں شامل چند نکات درج ذیل ہیں۔
فوری جنگ بندی کی جائے گی، ایک دوسرے کی سرحدی حدود کا احترام کیا جائے گا، مکمل امن معاہدہ کی طرف 60 دن میں بات چیت کے ذریعے حل نکالا جائے گا، آبنائے ہرمز کو ہر طرح کی آمدورفت کے لئے کھول دیا جائے گا، 300 بلین ڈالر کی امداد سے ایرانی معیشت کی بحالی پر توجہ دی جائے گی، ایران پر سے تمام پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے گا، ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائے گا، ایرانی کروڈ آئل پر لگی امریکی پابندیوں کا فوری خاتمہ کیا جائے گا، ایران کی منجمند اکاو¿نٹس کی بحالی کی طرف اقدامات کئے جائیں گے، کسی فریق کی طرف سے مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی نہ ہو اس پر بھرپور نظر رکھی جائے گی، مفاہمتی یادداشت اقوام متحدہ کی منظوری سے قابل عمل ہو جائے گی۔
یہ مفاہمت ایک اچھا قدم ہے۔ اس سے مشرق وسطٰی کے خطے میں نا صرف امن کی شمع روشن ہو گی، بلکہ علاقے پر اچھے معاشی اثرات بھی پڑیں گے۔ امریکہ اور ایران کے تعلقات جو انقلاب ایران کے بعد سے مدوجزر کا شکار رہے ہیں، ان میں اس مفاہمت کے ذریعے استحکام لا کر خطے پر امن کا جھنڈا مستقل بنیادوں پر لہرایا جا سکتا ہے۔
مفاہمت کے بعد مکمل نیک نیتی سے اب اگلے 60 دن میں بھرپور کوشش کی جانی چاہئے، کہ ان تمام حل طلب مسائل پر کھلے دل سے گفتگو ہو جن کا حل اس خطے کی بگڑتی صورتحال کو استحکام دے سکے۔ یہ سب خوش کن باتیں اپنی جگہ لیکن جب تک فلسطین کے دیرپا مسئلہ کا حل نہیں نکالا جائے گا۔ یہ خطہ گوں مگوں کی کیفیت کا ہی شکار رہے گا۔ یہ مسئلہ ایک ایسی تلوار ہے، جو امن کی فاختہ کے سر پر ہمیشہ لٹکتی رہے گی۔ اس مفاہمت کی صورت میں ہونے والے امن معاہدہ میں خاص طور پر فلسطین اور عمومی طور پر پورے خطے پر اپنے جارحانہ عزائم رکھنے والے اسرائیل کے لئے کوئی تنبیہ شامل ہونی ضروری ہے۔ وگرنہ یہ خوش کن معاہدہ کسی بد نظر دشمن کی بدنظری کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں