تحریر۔ محمد یونس عمرانی
نصیر آباد کے نوجوان آج شدید مایوسی اور بے چینی کا شکار ہیں۔ جب بھی کسی سرکاری محکمہ میں آسامیوں کا اعلان ہوتا ہے تو سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں نوجوان بہتر مستقبل کی امید میں اپنے کاغذات جمع کروانے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ فارم فیس، دستاویزات کی تیاری، سفری اخراجات اور دیگر ضروریات پر ہر امیدوار ہزاروں روپے خرچ کرتا ہے۔ اگر صرف دو ہزار نوجوان بھی درخواستیں جمع کروائیں تو مجموعی طور پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔بدقسمتی سے اکثر نوجوانوں کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ کئی مرتبہ یہ آسامیاں صرف رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہیں اور میرٹ کے بجائے سفارش، سیاسی وابستگی یا بااثر شخصیات کے قریبی افراد کو ترجیح دی جاتی ہے ایسے حالات میں نوجوانوں کی امیدیں دم توڑ جاتی ہیں اور ان کے جذبات کو شدید ٹھیس پہنچتی ہے۔نوجوان سوال کرتے ہیں کہ اگر ملازمتیں پہلے سے ہی مخصوص افراد میں تقسیم کرنی ہیں تو پھر اشتہارات، درخواستیں اور انٹرویوز کا یہ پورا عمل کیوں کیا جاتا ہے؟ کیا یہ صرف بے روزگار نوجوانوں کو جھوٹی امید دلانے کا ایک ذریعہ ہے؟ ایک طرف نوجوان روزگار کے لیے دربدر ہیں اور دوسری جانب ان کی امیدوں پر پانی پھیرا جا رہا ہے۔نصیر آباد کے نوجوان مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام سرکاری بھرتیاں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر کی جائیں تاکہ اہل اور مستحق نوجوانوں کو ان کا حق مل سکے۔ نوجوان اس علاقے کا مستقبل ہیں، اگر ان کی امیدیں اسی طرح ٹوٹتی رہیں تو مایوسی مزید بڑھتی جائے گی اور اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوں گے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں کو صرف وعدے نہیں بلکہ عملی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ وہ باعزت روزگار حاصل کرکے اپنے خاندان اور علاقے کی ترقی میں کردار ادا کرسکیں۔نصیر آباد میں جب بھی کسی سرکاری محکمہ میں ملازمتوں کا اعلان ہوتا ہے تو بے روزگار نوجوان نئی امیدوں کے ساتھ اپنے کاغذات جمع کروانے کے لیے دوڑ پڑتے ہیں۔ وہ اپنے محدود وسائل کے باوجود فارم، دستاویزات، تصاویر، سفر اور دیگر اخراجات برداشت کرتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید اس بار ان کی قسمت بدل جائے گی۔ اگر دو ہزار نوجوان بھی درخواستیں جمع کروائیں تو مجموعی طور پر لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ اکثر نوجوانوں کو بعد میں یہ احساس ہوتا ہے کہ ان کی امیدیں محض سراب ثابت ہوئیں۔عوامی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بعض اوقات ملازمتوں کے فیصلے پہلے ہی طے شدہ ہوتے ہیں اور فائدہ انہی افراد کو پہنچتا ہے جو بااثر شخصیات یا سیاسی نمائندوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کے دلوں میں مایوسی، احساسِ محرومی اور بداعتمادی جنم لیتی ہے۔نصیر آباد کے نوجوان سوال کرتے ہیں کہ اگر ملازمتوں کی تقسیم میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر نہیں ہونی تو پھر بھرتیوں کے اعلانات، درخواستوں کی وصولی اور امیدواروں کو امید دلانے کا مقصد کیا ہے؟ نوجوان نسل کو بار بار خواب دکھا کر ان کی امیدوں پر پانی پھیرنا کسی بھی معاشرے کےلئے نقصان دہ ہے۔آج نصیر آباد کا نوجوان روزگار، انصاف اور مساوی مواقع کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام سرکاری بھرتیوں کو مکمل طور پر شفاف بنایا جائے، میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کسی قسم کا کھلواڑ نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہی نوجوان کسی بھی علاقے کی ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کی ضمانت ہوتے ہیں۔
میرٹ کا بول بالا ہی نوجوانوں کے اعتماد کو بحال کر سکتا ہے