گورنمنٹ گرلز ہائی سکول لورالائی میں مسلم ایڈ پاکستان کے زیرِ اہتمام روزہ آگاہی و وکالت پروگرام

لورالائی(میاں محمدعامربشیر آرائیں )مسلم ایڈ پاکستان کے زیرِ اہتمام “نصاب سے آگے، متبادل تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے معیاری ابتدائی تعلیم تک رسائی” کے منصوبے کے پانچویں مرحلے کے تحت ایک شاندار آگاہی و وکالت پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد والدین، کمیونٹی، اساتذہ کرام اور محکمہ تعلیم کے درمیان مو¿ثر روابط قائم کرنا، بچوں کی تعلیم میں درپیش مسائل کی نشاندہی کرنا اور ان کے پائیدار حل کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اپنانا تھا۔ تقریب میں ڈویڑنل ڈائریکٹر ایجوکیشن لورالائی ڈویڑن سید عارف شاہ، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد بختیار خان کاکڑ، ڈی ای او فیمیل فوزیہ درانی، اے ڈی او عبدالرزاق میانخیل، سردار عبدالرشید جوگیزئی ڈسٹرکٹ کمپیوٹر پروگرامر، مسلم ایڈ پاکستان کے ہیڈ قاضی ثاقب، سبغت اللہ گنڈہ پور، ایجوکیشن آفیسر خالد خان کاکڑ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن خلیل الرحمن مردانزئی، ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن محمد سلیم خان اتمان خیل، میڈیا فوکل پرسن حاجی امیر محمد خان سمیت والدین، کمیونٹی نمائندگان، اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات اور دیگر متعلقہ افراد نے بھرپور شرکت کی۔مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق اور ایک مہذب، باشعور اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ ایک تعلیم یافتہ بچہ نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کی ترقی اور خوشحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تعلیم وہ روشن چراغ ہے جو جہالت کے اندھیروں کو ختم کرکے ترقی، شعور، برداشت اور کامیابی کی نئی راہیں کھولتا ہے۔ ڈویڑنل ڈائریکٹر سید عارف شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی بھی تعلیمی منصوبے کی کامیابی صرف محکمہ تعلیم کی کوششوں سے ممکن نہیں بلکہ والدین، کمیونٹی اور سماجی اداروں کی فعال شرکت بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے مسلم ایڈ پاکستان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے نے لورالائی کے مختلف سرکاری سکولوں میں فرنیچر، کتابیں، کاپیاں، سٹیشنری اور دیگر تعلیمی سہولیات فراہم کرکے بچوں کے تعلیمی سفر کو آسان بنایا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فراہم کردہ وسائل کی حفاظت اور ان کا درست استعمال ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر محمد بختیار خان کاکڑ نے کہا کہ قوموں کی ترقی کا راز تعلیم میں پوشیدہ ہے اور جو معاشرے تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں وہ ترقی کی منازل تیزی سے طے کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک گھر میں ایک بچہ بھی تعلیم یافتہ ہو تو اس کے مثبت اثرات پورے خاندان اور آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ انہوں نے مسلم ایڈ کے تعلیمی اقدامات کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایسے منصوبے مستقبل میں بھی جاری رہنے چاہئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچے معیاری تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔ مسلم ایڈ پاکستان کے ہیڈ قاضی ثاقب نے بتایا کہ گزشتہ تین سال کے دوران لورالائی میں چار ہزار سے زائد بچوں کو کتابیں، کاپیاں، سٹیشنری کا سامان فراہم کیا گیا جبکہ متعدد سکولوں میں فرنیچر اور دیگر ضروری سہولیات بھی مہیا کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف تعلیم ہی کافی نہیں بلکہ بچوں کی بہترین اخلاقی تربیت، کردار سازی اور مثبت سوچ کی نشوونما بھی ایک کامیاب معاشرے کے قیام کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ یونیسف منصوبے کے ڈویڑنل پروجیکٹ ڈائریکٹر عبید خان ترین نے کہا کہ ضلع لورالائی میں پی ٹی ایم سی، والدین، اساتذہ کرام اور محکمہ تعلیم کی مشترکہ کاوشوں سے داخلہ مہم کے اہداف کامیابی سے حاصل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج دیہی اور شہری علاقوں کے سرکاری سکولوں میں بچوں کے داخلوں اور حاضری میں نمایاں بہتری آئی ہے، جو تعلیمی شعبے کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔اس موقع پر سردار عبدالرشید جوگیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم ایڈ نے لورالائی میں غریب اور مستحق بچوں کے لیے سٹیشنری، یونیفارمز، سکول کمروں کی مرمت، فرنیچر اور کھیلوں کا سامان فراہم کرکے قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ کلسٹر ہیڈ ہائی سکول شبوزئی میں خدمات انجام دے رہے تھے تو فیز تھری (2023) کے دوران بھی اس منصوبے کے مثبت اثرات نمایاں تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ایڈ کا یہ تعلیمی منصوبہ لورالائی کے عوام کے لیے ایک اہم سرمایہ ہے، لہٰذا اس کے دائر? کار کو مزید وسعت دی جانی چاہیے تاکہ ضلع میں تعلیم کے فروغ اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے مزید مو¿ثر اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لورالائی کے مقامی باشندوں کی حیثیت سے وہ اور دیگر کمیونٹی نمائندگان مسلم ایڈ کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ معیاری تعلیم، بہتر تربیت اور محفوظ تعلیمی ماحول ہر بچے کا حق ہے۔ والدین، اساتذہ، کمیونٹی اور سرکاری و سماجی اداروں کے باہمی تعاون سے ہی ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں ہر بچہ تعلیم کی روشنی سے مستفید ہو اور ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا مو¿ثر کردار ادا کرے۔واضح رہے کہ یہ منصوبہ مسلم ایڈ برطانیہ کے مالی تعاون سے جاری ہے جبکہ اس پر عمل درآمد مسلم ایڈ پاکستان کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ پروگرام کے اختتام پر مہمانوں کے اعزاز میں پرتکلف ظہرانے کا اہتمام کیا گیا، جہاں شرکائ نے تعلیمی ترقی اور بچوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں