وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تاریخی امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ کے عالمی سفارتی مرکز جنیوا میں کرے گا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں سے جاری کشیدگی کے باعث خطے میں عدم استحکام، جنگی خدشات اور معاشی غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہوتی رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے گئے ہیں۔ ایسے پس منظر میں امن کی جانب بڑھنے والا یہ قدم عالمی امن، استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کو محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ عقل، تدبر اور سیاسی بصیرت کی فتح قرار دیا۔ ان کے مطابق جدید دور میں جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے بحرانوں کو جنم دیتی ہیں، جبکہ مذاکرات، رواداری اور باہمی احترام کی بنیاد پر ہی پائیدار امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے امریکی اور ایرانی قیادت کی دور اندیشی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اختلافات کے باوجود رابطوں کے دروازے کھلے رکھنا ہی اس مثبت پیش رفت کا بنیادی سبب بنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ بڑے تنازعات ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر حل ہوئے ہیں۔ جب سیاسی قیادت جنگ کے بجائے سفارت کاری اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرتی ہے تو ناممکن نظر آنے والی رکاوٹیں بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتی ہیں۔
اس پورے سفارتی عمل کے دوران قطر، سعودی عرب، ترکی اور چین سمیت کئی دوست ممالک کا کردار بھی انتہائی اہم رہا ہے۔ ان ممالک نے مختلف مراحل پر رابطوں، ثالثی اور اعتماد سازی کی کوششوں کے ذریعے ماحول کو سازگار بنانے میں اپنا حصہ ادا کیا۔ حقیقت میں آج کی پیچیدہ عالمی سیاست میں ایسے بڑے تنازعات کسی ایک ملک کی کوششوں سے حل نہیں ہو سکتے بلکہ اس کے لیے مشترکہ سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختلف ممالک کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ عالمی برادری مشرقِ وسطیٰ میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس امن معاہدے کو صرف امریکا اور ایران کے درمیان ایک پیش رفت نہیں بلکہ عالمی سفارت کاری کی مشترکہ کامیابی کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
ایسی صورتحال میں اگر امریکا اور ایران اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک جامع اور پائیدار امن معاہدے پر قائم رہتے ہیں تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ مشرقِ وسطیٰ، جو دہائیوں سے جنگوں، سیاسی بحرانوں اور طاقت کی کشمکش کا مرکز رہا ہے، وہاں امن کا قیام لاکھوں انسانوں کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف علاقائی تنازعات میں کمی آئے گی بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی سرگرمیوں کےلئے بھی سازگار ماحول پیدا ہوگا۔
اس امن معاہدے کے معاشی اثرات بھی انتہائی اہم ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کی فراہمی کا مرکز ہے اور وہاں پیدا ہونے والا ہر بحران براہِ راست عالمی معیشت کو متاثر کرتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ، تجارتی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاری میں کمی کے خدشات پیدا ہوتے رہے ہیں۔ ایسی صورتحال کا بوجھ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے، جو توانائی کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ پاکستان بھی انہی ممالک میں شامل ہے، جہاں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف مہنگائی بڑھتی ہے بلکہ صنعت، زراعت، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان مستقل اور پائیدار امن قائم ہو جاتا ہے تو توانائی کی عالمی منڈیوں میں استحکام پیدا ہوگا، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور عالمی معیشت کا اعتماد بھی بحال ہو سکے گا۔ ایسی صورت میں پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک معاشی فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔
تاہم کسی بھی امن معاہدے کی اصل کامیابی صرف اس کے اعلان یا تقریبات میں نہیں بلکہ اس پر مستقل اور دیانت دارانہ عملدرآمد میں ہوتی ہے۔ تاریخ میں ایسے کئی معاہدے ملتے ہیں جو اپنے ابتدائی مرحلے میں عالمی امیدوں کا مرکز بنے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ سیاسی اختلافات، بدلتی ترجیحات اور باہمی اعتماد کی کمی کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بھی دہائیوں سے موجود بداعتمادی کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ یہ امن عمل دونوں ممالک کے لیے ایک اہم آزمائش ہوگا۔ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ فریقین اپنے وعدوں پر کس حد تک عمل کرتے ہیں، اختلافات کو سفارت کاری کے ذریعے کس طرح حل کرتے ہیں اور خطے میں امن و استحکام کے لیے کتنی سنجیدگی سے آگے بڑھتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا نیا ماحول پیدا ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات صرف واشنگٹن اور تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔
اگر یہ امن معاہدہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز کرے گا بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن، استحکام اور ترقی کے نئے دروازے بھی کھولے گا۔ پاکستان کے لیے بھی یہ ایک اہم سفارتی لمحہ ہوگا، جو عالمی سطح پر ملک کی حیثیت کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ آج جب دنیا مختلف بحرانوں، جنگوں اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہی ہے، ایسے میں اس نوعیت کی پیش رفت یہ پیغام دیتی ہے کہ مذاکرات، تدبر اور سفارت کاری کے ذریعے ناممکن نظر آنے والے مسائل کا حل بھی ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اگر جمعہ کے روز جنیوا میں ہونے والی یہ امن معاہدے کی تقریب واقعی ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوتی ہے تو اسے صرف ایک سفارتی واقعہ نہیں بلکہ عالمی امن کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ امن کی یہی امید شاید اس معاہدے کا سب سے بڑا اور قیمتی پہلو ہے، جو دنیا کو تنازع کے بجائے تعاون اور جنگ کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنے کا پیغام دیتا ہے۔
امریکا۔ایران امن معاہدہ اور پاکستان کی ثالثی