تحریر: محمد سلیم رند
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کا نام بلوچستان کی ان خواتین پارلیمانی شخصیات میں شامل ہے جو ایوانِ بالا میں صوبے کی نمائندگی کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق خواتین کے تحفظ، بچوں کی فلاح و بہبود اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے حوالے سے سرگرم دکھائی دیتی ہیں۔ ان کی پارلیمانی سرگرمیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ وہ قومی سطح پر بلوچستان کے مسائل اور عوامی ضروریات کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کی چیئرپرسن کی حیثیت سے ان کی ذمہ داریاں خصوصی اہمیت رکھتی ہیں انسانی حقوق جیسے حساس اور اہم شعبے میں کمیٹی کی سربراہی ایک اہم پارلیمانی ذمہ داری ہے جہاں خواتین، بچوں، مزدوروں اور معاشرے کے کمزور طبقات کو درپیش مسائل پر غور کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ان کی سرگرمیاں قابلِ توجہ ہیں بچوں کے حقوق کے حوالے سے ان کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاسوں میں کم عمری کی شادی چائلڈ لیبر بچوں پر تشدد تعلیم سے محرومی اور آن لائن استحصال جیسے اہم مسائل زیرِ بحث آئے یہ وہ معاملات ہیں جن کا براہِ راست تعلق معاشرے کے مستقبل سے ہے بچوں کے تحفظ اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے ایسے مسائل کو پارلیمانی سطح پر اٹھانا ایک اہم قومی ذمہ داری ہے خواتین کے حقوق کے حوالے سے بھی سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے کمیٹی کی سطح پر مختلف اہم معاملات کو اجاگر کیا ہے خواتین پر تشدد غیرت کے نام پر قتل غیر قانونی جرگوں اور خواتین کو درپیش سماجی مشکلات جیسے موضوعات پر توجہ دینا اس بات کی اہمیت واضح کرتا ہے کہ خواتین کو معاشرے میں تحفظ عزت مساوی مواقع اور انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے بلوچستان کے محنت کش طبقے خصوصاً کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل بھی ان کی پارلیمانی سرگرمیوں کا حصہ رہے ہیں کان کنوں کی حفاظت معاوضوں ملازمت کے معاہدوں اور کام کی جگہوں پر حفاظتی انتظامات جیسے معاملات کو اجاگر کرنا ان ہزاروں خاندانوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے جن کا روزگار کان کنی سے وابستہ ہے مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کے لیے آواز بلند کرنا ایک قابلِ قدر سماجی اور پارلیمانی ذمہ داری ہے تعلیم کے شعبے میں حب اور لسبیلہ کے حوالے سے ان کی سرگرمیاں بھی توجہ کی مستحق ہیں۔ اساتذہ کی تقرری کے آرڈرز کی تقسیم کی تقریب میں شرکت، کیڈٹ کالج، دانش اسکول اور ڈیجیٹل لائبریریوں جیسے تعلیمی منصوبوں کو اجاگر کرنا بلوچستان میں تعلیمی سہولیات کے فروغ کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو معیاری تعلیمی مواقع فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے خواتین کی صحت، تعلیم روزگار اور معاشی خودمختاری کے حوالے سے ان کی گفتگو اور سرگرمیاں بھی اہمیت رکھتی ہیں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خواتین کو بااختیار بنانے ان کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے اور انہیں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرنے پر زور دینا ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے جہاں خواتین قومی ترقی میں بھرپور حصہ لے سکیں
حب اور لسبیلہ کے ترقیاتی معاملات کے حوالے سے بھی ان کی سیاسی و پارلیمانی سرگرمیاں سامنے آتی رہی ہیں چیئرمین سینیٹ سے ملاقات میں مقامی ترقیاتی منصوبوں، بنیادی سہولیات اور بلوچستان کے عوامی مسائل پر گفتگو اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبے کے مسائل کو اعلیٰ پارلیمانی فورمز تک پہنچانا نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے اسی طرح قومی تقریبات اور عوامی اجتماعات میں شرکت بھی ان کے سیاسی و سماجی رابطوں کا حصہ ہے بلاشبہ بلوچستان کو ایسی نمائندگی کی ضرورت ہے جو صوبے کے عوامی مسائل، خواتین کے حقوق بچوں کے مستقبل، مزدوروں کے تحفظ اور تعلیمی ترقی کو قومی سطح پر مؤثر انداز میں اجاگر کرے سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی ذمہ داریاں اور انسانی حقوق کے شعبے میں سرگرمیاں قابلِ ذکر ہیں۔ امید ہے کہ وہ اپنی آئندہ پارلیمانی مدت میں بھی بلوچستان کے عوام کی آواز کو مزید مؤثر انداز میں ایوانِ بالا تک پہنچائیں گی اور صوبے کی ترقی خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گی۔
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسین