کیا نیرو فرانس میں بانسری بجا رہا ہے؟

جلاؤ، گھیراؤ اور پتھراؤ کے مناظر دیکھ کر پہلی نظر میں یوں محسوس ہوا جیسے کسی افریقی ملک میں حالات دوبارہ کشیدہ ہو گئے ہوں؛ لیکن مکمل تفصیلات سے یہ آگاہی ہوئی کہ یہ تو یورپی ملک فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مناظر ہیں۔ جہاں پولیس اور عوام باہم دست و گریباں ہیں۔ مزید یہ آگاہی بھی حاصل ہوئی کہ یہ واقعات صرف دارالحکومت پیرس تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ پورا فرانس ہی اس کی لپیٹ میں ہے۔ تقریباً پانچ لاکھ سے زائد افراد موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ فرانسیسی وزیرِ اعظم سیباستیاں لیکورنو نے پیرس، لیون، لِیل اور نیس جیسے بڑے شہروں کے شدید متاثرہ علاقوں میں جزوی اور مقامی نائٹ کرفیو نافذ کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے اگر ضرورت پڑی تو ایمرجنسی کا نفاذ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا، لیکن موجودہ مرحلے پر جزوی کرفیو کو ہی زیادہ موزوں سمجھا گیا ہے۔ پرتشدد ہنگامہ آرائی، جلاؤ گھیراؤ اور لوٹ مار کے واقعات کے بعد اب تک تقریباً 2,400 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان جھڑپوں میں 1,000 کے قریب پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔
ان مظاہروں کا آغاز ستمبر 2026 میں پیرس کے غریب مضافاتی علاقوں کے اسکولوں سے ہوا تھا، جو اب ایک بڑے ملکی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔ ان مظاہروں کے پیچھے تین بڑے عوامل کارفرما نظر آ رہے ہیں۔
سب سے پہلا مسئلہ جس سے احتجاج کا آغاز ہوا، وہ تھا اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور اسکولوں کی مخدوش عمارتیں۔ پولیس کی جانب سے احتجاجی طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور یہ مظاہرے دیگر شہروں میں بھی پھیلتے چلے گئے۔ دوسری وجہ فرانس میں مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں، جس سے عام شہریوں کی قوتِ خرید شدید متاثر ہوئی ہے۔ پرانے عسکریت پسند گروپ “یلو ویسٹس” نے اس موقع پر دوبارہ سر اٹھا لیا ہے، اور مہنگائی کے خلاف مظاہروں کو تیز کیا ہے۔ تیسری وجہ ہے حکومت کی مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے نئے بجٹ میں 54 ارب یورو کی کٹوتیوں اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ کا منصوبہ، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو منجمد کرنا بھی شامل ہے۔ اس اقدام نے ٹریڈ یونینز اور عام عوام کو بھی سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا۔
ان مظاہروں کی لپیٹ میں پیرس، لیموژ، لیون، مارسیل، لیل، نیس و دیگر شہر بھی شامل ہو گئے ہیں۔ ان تمام شہروں سے بھی بڑے پیمانے پر اسکولوں کی ناکہ بندی، جلاؤ گھیراؤ اور دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اطلاعات آ رہی ہیں۔
ان تمام حالات سے نبرد آزما ہونے اور حالات پر قابو پانے کے لئے مجموعی طور پر فرانسیسی وزارتِ داخلہ نے ملک کے طول و عرض میں بھاری پولیس نفری تعینات کر رکھی ہے۔
صدر ایمانوئل میکرون اور وزیرِ داخلہ نے انتہا پسند بائیں بازو کی جماعتوں بالخصوص اپوزیشن رہنما ژاں لک میلنشوں کی پارٹی پر مظاہرین کو اکسانے اور ہنگامہ آرائی کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عناصر سیاسی فائدے کے لیے اس بحران کا استعمال کر رہے ہیں۔ جبکہ ژاں لک میلنشوں اور ان کی پارٹی نے ان ہنگاموں یا لوٹ مار کی پشت پناہی کے الزام کو یکسر مسترد کیا ہے۔ انہوں نے الٹا حکومت کو نااہل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس کا بچوں اور طلبہ پر تشدد اس کشیدگی کی اصل وجہ بنی ہے۔ دوسری طرف فرانس کی قوم پرست اور دائیں بازو کی مقبول رہنما مرین لی پین اور ان کی پارٹی کے صدر جارڈن بارڈیلا نے بھی میکرون حکومت کو قانون کی کمزور گرفت اور امن و امان برقرار رکھنے میں ناکامی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
فرانس میں صورتحال ابھی تک مکمل طور پر کنٹرول میں نہیں آئی ہے، اور حکومت حالات پر قابو پانے کے لیے سخت جدوجہد کر رہی ہے۔ فرانسیسی وزیرِ داخلہ لارینٹ نونیئز نے عوامی سطح پر یہ اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخر میں ہونے والے ان شدید ہنگاموں کے دوران کچھ شہروں میں پولیس صورتحال پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھی تھی۔
صورتحال کو سنبھالنے کے لیے پیرس، لِل، لیون اور نیس جیسے بڑے شہروں میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کا سخت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ نیس میں خاص طور پر کم عمر نوجوانوں کے رات میں باہر نکلنے پر پابندی ہے۔ اگرچہ کرفیو کی وجہ سے عارضی طور پر سڑکوں پر خاموشی دیکھی جا رہی ہے، لیکن دکانیں اور میوزیم (جیسے مشہور لووَر میوزیم) اب بھی بند یا متاثر ہیں۔ مزید یہ کہ “ییلو ویسٹ” تحریک اور مزدور یونینوں نے آنے والے ہفتے (24 اکتوبر) کو دوبارہ ملک گیر مظاہروں اور نومبر میں بڑی ہڑتالوں کی کال دے رکھی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہی سوال اٹھتا ہے کہ کیا نیرو اس بار فرانس میں بانسری بجا رہا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں