بھارت ایک اور احتجاجی تحریک کی زد میں

آج کل بھارت میں ایک اور احتجاجی تحریک تیزی سے سیاسی منظر نامے کو تبدیل کرنے کے درپے ہے۔ یہ تحریک بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ 19 فروری 2025 کو بھارت کے چھبیسویں الیکشن کمشنر کا حلف اٹھانے والے گیانیش کمار پر لگنے والے الزامات کی فہرست طویل سے طویل تر ہوتی جا رہی ہے۔ بیوروکریسی میں اعلٰی خدمات انجام دے کر ریٹائرڈ ہونے والے گیانیش کمار پر ووٹنگ لسٹوں میں رد و بدل کرنے اور بہت سے شہریوں کو ووٹ سے محروم کرنے کے الزامات تو کافی عرصے سے لگ رہے تھے، مگر ان الزامات پر تصدیقی مہر تب لگی جب الیکشن کمیشن کے اندر سے آنے والی آوازیں میڈیا کی زینت بننے لگیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کمیشن کے دیگر دو الیکشن کمشنروں (سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی) نے گزشتہ دس ماہ کے دوران گیانیش کمار کے یکطرفہ فیصلوں کے خلاف چودہ مرتبہ تحریری اعتراضات درج کرائے۔ گیانیش کمار پر الزام ہے کہ وہ دیگر ارکان کو اعتماد میں لیے بغیر اکیلے ہی ضابطوں میں تبدیلیاں اور فیصلے کر رہے ہیں، جو الیکشن کمیشن کے اصول، اکثریتی فیصلے پر عملدرآمد کے خلاف ہے۔ اس کے ساتھ ہی گیانیش کمار پر مزید الزام یہ ہے کہ حال ہی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کی گئی ‘اسپیشل انٹینسیو ریویژن’ (SIR) کے تحت مبینہ طور پر ملک بھر سے تقریباً تیرہ کروڑ (130 ملین) ووٹرز کے نام ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیے گئے ہیں۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ یہ شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے اور بی جے پی (BJP) کو فائدہ پہنچانے کی ایک منظم سازش کا حصہ ہے۔
ساتھی کمشنروں کی جانب سے یہ اعتراض بھی اٹھایا گیا ہے کہ ووٹر رجسٹریشن فارم (فارم 6) اور دیگر انتخابی طریقہ کار میں کی گئی تبدیلیاں بھی غیر مجاز اور غیر قانونی تھیں۔
اگرچہ الیکشن کمیشن اور حکومت نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن کے اندر اختلافات رائے ایک معمول کا حصہ ہیں، لیکن اپوزیشن اور مظاہرین انتخابی شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے گیانیش کمار کے فوری استعفیٰ پر بضد ہیں۔
اس معاملے پر اپوزیشن کی طرف سے سپریم کورٹ میں بھی درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں، جن میں گیانیش کمار کو معطل کرنے اور ان کے فیصلوں کی قانونی حیثیت کی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
زمینی حقائق ایک بڑی تحریک کے جنم لینے کی طرف نشاندہی کر رہے ہیں۔ خصوصاً کاکروچ جنتا پارٹی اور نیہا بورا کا مہم میں بھرپور شرکت کرنا؛ تحریک کو عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا ہے۔ نیہا بورا، اب بھارتی احتجاجی سیاست کا ایک مضبوط نام بنتا جا رہا ہے۔ جس طرح وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے لئے چلائی گئی کامیاب تحریک میں نیہا بورا کا کردار ابھر کر سامنے آیا تھا، اس کے بعد نیہا بورا کی شمولیت سے اس تحریک کو بھی تقویت مل رہی ہے۔
29 سالہ نیہا بورا کا تعلق ریاست اتراکھنڈ کے علاقے خاطمہ سے ہے۔ انہوں کے والد ریٹائرڈ فوجی سپاہی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سلی گوڑی کے دہلی پبلک اسکول سے حاصل کی، جبکہ دہلی یونیورسٹی سے سماجیات میں بی اے اور امبیڈکر یونیورسٹی، دہلی سے پوسٹ گریجویشن مکمل کیا۔ اس وقت وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے اسکول آف آرٹس اینڈ ایستھیٹکس میں پی ایچ ڈی کی محقق ہیں۔ نیہا بورا ایک سماجی محقق، تھیٹر کارکن اور سرگرم طلبہ رہنما کے طور پر جانی جاتی ہیں۔ تھیٹر سے وابستگی نے ان کی گفتگو اور عوام سے مؤثر رابطے کی صلاحیت کو مزید نکھارا۔ جے این یو میں تعلیم کے دوران وہ طلبہ سیاست میں سرگرم ہوئیں، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) سے وابستہ رہیں۔ وہ اس وقت ایسوسی ایشن کی منتخب قومی صدر کی ذمہ داریاں سر انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے تعلیم کی نجکاری، فیس میں اضافہ، ہاسٹل، اسکالرشپ، خواتین کے تحفظ، دلت، قبائلی، پسماندہ اور اقلیتی طلبہ کے حقوق، ہجوم پر تشدد کے خلاف آواز اٹھانے، بلقیس بانو کے لیے انصاف کے مطالبے اور غزہ کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی جیسے موضوعات پر مسلسل سرگرمیاں دکھائی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ معیاری تعلیم ہر شہری کا حق ہے اور اسے صرف معاشی طور پر خوش حال طبقے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حالیہ احتجاج نے انہیں قومی سطح پر ایک نمایاں طلبہ رہنما کے طور پر مزید شہرت دلائی اور ان کی سرگرمیوں کو وسیع عوامی توجہ حاصل ہوئی۔ ان کی تقاریر سادہ زبان، مضبوط دلائل اور عوامی مسائل پر مرکوز ہونے کی وجہ سے خاصی توجہ کا مرکز بن چکی ہیں۔
کیا گیانیش کمار کا استعفی سیاسی منظر نامہ تبدیل کر سکتا ہے؟ کیا یہ تحریک کامیاب ہو گی؟ یا ناکامی کا منہ دیکھے گی؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن ایک بات ضرور سامنے آ رہی ہے کہ بھارت کا نوجوان تبدیلی چاہتا ہے۔ وہ صرف وعدوں پر زندگی نہیں گزارنا چاہتا۔ وہ عملی اقدامات کا منتظر ہے۔ یہ نوجوان اس وقت بھارت کا سیاسی نقشہ تبدیل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ ایک عوام دوست قیادت بھارت کے مستقبل کے لئے ان کی قوت سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ محبت کے درس سے مودی کی نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لئے زمین برد کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں