عراق کی سیاسی اور سکیورٹی تاریخ میں 30 ستمبر 2026ء کا دن ایک اہم تاریخی دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ اس روز آخری امریکی فوجی دستے اربیل ایئر بیس سے روانہ ہوئے اور عراق میں امریکہ کی طویل فوجی موجودگی کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوا۔ اس وقت بغداد اور دیگر شہروں میں اس موقع کو عراقی خودمختاری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عراقی فوج اور سکیورٹی اداروں کی ذمہ داریاں اب مزید واضح طور پر ان کے اپنے کندھوں پر آ گئی ہیں ۔ امریکی قیادت کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ داعش کو بڑی حد تک شکست دی جا چکی ہے اور اب عراقی سکیورٹی فورسز ملک کی سلامتی کی مکمل ذمہ داریاں خود سنبھالیں گی۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا غیر ملکی فوج کی روانگی واقعی عراق کی مکمل خودمختاری کا ثبوت ہے ، یا اس کے ساتھ نئے سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز بھی جنم لے سکتے ہیں ؟
عراق میں امریکی فوجی موجودگی کی تاریخ کو دیکھا جائے تو موجودہ انخلا کسی ایک دن کا فیصلہ نہیں بلکہ دو دہائیوں سے جاری ایک طویل عمل کا نتیجہ ہے۔ 2003ء میں صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی قیادت میں فوجی آپریشن شروع کیا گیا، جس کے بعد عراق ایک طویل سیاسی اور سکیورٹی بحران سے گزرا۔ 2011ء میں امریکی فوجیوں کا بڑا انخلا ہوا، لیکن 2014ء میں داعش کے تیزی سے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور موصل سمیت بڑے علاقوں پر قبضے کے بعد امریکی فوجی دستے دوبارہ عراق واپس آئے۔ اس کے بعد داعش کے خلاف عالمی اتحاد کی فوجی مہم جاری رہی۔ کئی برسوں کی جنگ، تربیت اور سکیورٹی تعاون کے بعد امریکی فوجیوں کی مکمل انخلا یہ سوال سامنے لاتی ہے کہ عراق اپنے سکیورٹی نظام کو کس حد تک خود سنبھال سکتا ہے۔
اس تبدیلی کو صرف واشنگٹن اور بغداد کے درمیان فوجی معاہدے کے نتیجے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ عراق کے اندر بھی مختلف سیاسی اور مسلح قوتوں کے اپنے اپنے گروہی مفادات ہیں ۔ ایران کے قریب سمجھے جانے والے کئی مسلح گروہ طویل عرصے سے عراق میں امریکی فوجی موجودگی کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس تناظر میں امریکی فوجی اڈوں کو حملوں کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ اب امریکی فوجی انخلا کو یہ قوتیں اپنے سیاسی دباؤ اور مزاحمت کے نتیجے کے طور پر پیش کر سکتی ہیں ۔ تاہم عراقی ریاست کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ ملک میں موجود تمام مسلح گروہوں کو آئینی اور قانونی ریاستی ڈھانچے کے تحت کس حد تک لایا جا سکتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ عراقی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے ، جس کا فوری حل آسان نظر نہیں آتا۔
اس کے علاوہ عراق کے لیے ایک اور بڑا چیلنج داعش کے باقی بچے نیٹ ورک کا ہے۔ داعش اپنی سابقہ علاقائی طاقت ضرور کھو چکی ہے ، لیکن اس کے منتشر گروہوں کی حملے کرنے کی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ اس لیے امریکی اور اتحادی افواج کے انخلا کے بعد بھی دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس، تربیت، نگرانی اور تکنیکی معاونت کی ضرورت برقرار رہے گی۔ چنانچہ اتحادی قوتوں کا کردار اب بڑی زمینی فوجی موجودگی کے بجائے مختلف نوعیت کی معاونت تک محدود رہنے کے امکانات ہیں ۔ اصل امتحان عراقی فوج، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کا ہے کہ وہ داعش جیسے گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے سے کیسے روک سکتے ہیں ۔
کردستان کا علاقہ بھی اب عراقی حکومت کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے ، کیونکہ عراق کے شمالی علاقوں میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران کرد فورسز اور اتحادی افواج کے درمیان قریبی تعاون رہا ہے۔ بغداد اور اربیل کے درمیان سیاسی، مالی اور سکیورٹی معاملات پر اختلافات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہے ہیں ۔ اگر عراقی حکومت اور کردستان کی علاقائی حکومت کے درمیان تعاون مضبوط رہا تو سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنا آسان ہو سکتا ہے ، لیکن یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ اگر سیاسی اختلافات میں اضافہ ہوا تو دہشت گرد گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ اس لیے امریکی فوج کے انخلا کے بعد عراق کے اندرونی سیاسی اتحاد اور ہم آہنگی پہلے سے زیادہ اہم ہو گئی ہے۔
عراق کے مستقبل پر پڑوسی ممالک کی سیاست کے اثرات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایران کے عراق کے ساتھ مذہبی، سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات گہرے ہیں ، جبکہ امریکہ کے ساتھ ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں اور یہ صورتحال آج بھی برقرار ہے۔ عراق ماضی میں دونوں طاقتوں کے درمیان مقابلے کا میدان بھی بنتا رہا ہے۔ امریکی فوج کی مکمل انخلا کے بعد بغداد کے لیے ایک بڑا سفارتی امتحان یہ ہوگا کہ وہ کسی ایک فریق کے اثر و رسوخ میں جانے کے بجائے اپنے قومی مفاد کے مطابق متوازن خارجہ اور سکیورٹی پالیسی برقرار رکھے۔ عراق کی خودمختاری کا حقیقی مفہوم بھی یہی ہوگا کہ ملک کے اہم فیصلے عراقی ادارے اپنے قومی مفاد کے مطابق کریں ۔
امریکی فوج کی انخلا عراق کے لیے ایک علامتی کامیابی ضرور ہے ، لیکن خودمختاری کو صرف غیر ملکی فوج کی عدم موجودگی تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقی خودمختاری اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب ریاست اپنی سرحدوں ، اداروں ، معیشت، قانون اور سلامتی پر مؤثر کنٹرول رکھتی ہو۔ اگر ملک کے اندر مختلف مسلح گروہ اپنی طاقت برقرار رکھیں ، سیاسی اختلافات ریاستی اداروں کو کمزور کریں اور علاقائی طاقتیں داخلی سیاست پر غیر معمولی اثر انداز ہوں تو فوجی انخلا کے باوجود خودمختاری کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔
عراق اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی فوجیوں کی عراق سے مکمل انخلا کے بعد عراقی حکومت کو اپنی ذمہ داریاں کس انداز میں نبھانی ہیں ، اس کے ساتھ کئی اہم سوالات بھی جنم لیتے ہیں ۔ کیا وہ داعش کو دوبارہ منظم ہونے سے روک سکے گی؟ مسلح گروہوں کو ریاستی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کیسے کرے گی؟ بغداد اور اربیل کے درمیان تعاون کو کس طرح مزید مضبوط بنائے گی؟ پڑوسی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات کیسے برقرار رکھے گی؟ اور اپنے قومی اداروں کو کس طرح مضبوط کرے گی؟ یہ وہ بنیادی چیلنجز ہیں جو اب عراقی حکومت کے سامنے ہیں ۔ انہیں کس حکمت عملی کے ذریعے حل کیا جاتا ہے ، یہ وقت ہی بتائے گا۔ تاہم تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں اپنے وطن اور اپنے مستقبل کے ساتھ مخلص ہوں تو مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں ، بہتر حکمت عملی، قومی اتحاد اور مستقل مزاجی کے ذریعے ان کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ دعا ہے کہ مستقبل قریب میں عراق میں امن و سکون کی فضا قائم رہے اور عراقی عوام اطمینان اور تحفظ کے ساتھ زندگی گزار سکیں ۔
٭٭٭٭
عراق سے امریکی فوج کا مکمل انخلا: یا نئے چیلنجز کا آغاز؟