دُرا بلوچ بلوچستان میں کھیلوں اور نوجوانوں کیلئے متحرک انتظامی کردار

تحریر:احسان بلوچ
بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں کھیلوں اور نوجوانوں کے شعبے کی ذمہ داری محض انتظامی امور تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسے شعبے کی نگرانی ہے جس کا براہِ راست تعلق صوبے کے نوجوانوں ، ان کی صلاحیتوں ، مثبت سرگرمیوں اور مستقبل سے ہے۔ اسی تناظر میں دُرا بلوچ کا نام گزشتہ چند برسوں کے دوران بلوچستان کے محکمہ کھیل کے انتظامی ڈھانچے میں نمایاں طور پر سامنے آتا ہے۔
اگر ہم حقائق پر نظر ڈالیں تو دُرا بلوچ کم از کم 2019 سے محکمہ کھیل بلوچستان میں اعلیٰ انتظامی ذمہ داری ادا کرتی رہی ہیں ۔ اگست 2019 میں حکومت بلوچستان کے ایک نوٹیفکیشن میں انہیں محکمہ کھیل میں ا ڈائریکٹر جنرل کھیل بلوچستان کے طور زمہ داریاں دی گئیں ، جہاں وہ مختلف کھیلوں کی سرگرمیوں ، بالخصوص نوجوان اور خواتین کھلاڑیوں کے مقابلوں میں محکمہ کی نمائندگی کرتی نظر آتی ہیں ۔
دُرا بلوچ کے بطور ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس دور میں بلوچستان میں مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور فیسٹیولز کے انعقاد پر خاص توجہ دی گئی۔ 2023 میں بلوچستان کے محکمہ کھیل نے صوبے بھر میں 30 سے زائد کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے۔
ان سرگرمیوں میں گوادر اسپورٹس فیسٹیول، بیچ گیمز، خواتین کی والی بال چیمپئن شپ، انٹر یونیورسٹی اسپورٹس فیسٹیول، فٹبال، کرکٹ اور دیگر کھیلوں کے مقابلے شامل تھے۔
یہ سرگرمیاں اس لحاظ سے اہم ہیں کہ بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے کھیل صرف تفریح نہیں بلکہ صلاحیتوں کے اظہار، صحت مند سرگرمیوں اور قومی سطح پر آگے بڑھنے کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں ۔
34ویں نیشنل گیمز کی میزبانی
بلوچستان میں 34ویں نیشنل گیمز کا انعقاد بھی اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک اہم مرحلہ تھا۔ لیکن 2023 میں بلوچستان نے 19 سال کے وقفے کے بعد نیشنل گیمز کی میزبانی کی۔ دُرا بلوچ نے اس کامیابی کو محکمہ کھیل، کھلاڑیوں ، اسپورٹس تنظیموں اور صوبے کے عوام کی مشترکہ کوشش قرار دیا۔لیکن بہ حیثیت ڈی جی انہوں نے نمایاں کردار اداکیا۔
یہ ایونٹ بلوچستان کے کھلاڑیوں کو ملک بھر کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ مقابلے کا موقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو قومی سطح پر اجاگر کرنے کا ذریعہ بھی بنا۔
خواتین اور نوجوانوں کی شمولیت
دُرا بلوچ کے انتظامی کردار کا ایک نمایاں پہلو خواتین اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے کھیلوں کے مواقع پیدا کرنے کی کوششیں بھی ہیں ۔ 2019 کے محکمہ کھیل کے ریکارڈ میں ان کی جانب سے کوئٹہ ڈسٹرکٹ کے جشنِ آزادی گرلز نیٹ بال ایونٹ کے افتتاح کا ذکر ملتا ہے۔
بعد ازاں بھی خواتین سمیت مختلف کھیلوں کے مقابلوں اور فیسٹیولز کو محکمہ کھیل کی سرگرمیوں میں شامل رکھا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کھیلوں کے میدان کو مختلف طبقات اور عمر کے نوجوانوں کے لیے وسیع کرنے کی کوشش انتظامی ترجیحات میں شامل رہی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل سے سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان تک
دُرا بلوچ کی انتظامی ذمہ داریوں میں بعد ازاں مزید اضافہ ہوا اور وہ سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان بلوچستان کے منصب پر فائز ہوئیں ۔
سیکرٹری کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے یہ عہدہ محض کھیلوں کے انتظام تک محدود نہیں بلکہ صوبے کے نوجوانوں کی ترقی، انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے اور مختلف مواقع فراہم کرنے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
کھیل، نوجوان اور مثبت معاشرہ
بطور سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان دُرا بلوچ نے مختلف مواقع پر اس بات پر زور دیا ہے کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ، ضرورت صرف انہیں مناسب مواقع، تربیت اور سہولیات فراہم کرنے کی ہے۔
2025 میں بلوچستان گیمز کی تیاریوں کے حوالے سے ان کے بیان کے مطابق کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں کو صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت، فٹنس اور اعتماد سازی کے مواقع پیدا کرنا بھی محکمہ کھیل کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے بلوچستان گیمز کو نوجوانوں کی ترقی، امن اور صحت مند معاشرے کے قیام سے بھی جوڑا۔
بڑے کھیلوں کے ایونٹس پر توجہ
حالیہ برسوں میں بلوچستان میں بڑے کھیلوں کے ایونٹس کے انعقاد اور ان کے تسلسل پر بھی توجہ دی گئی۔ 2026 میں آل پاکستان چیف منسٹر بلوچستان فٹبال گولڈ کپ کے حوالے سے دُرا بلوچ نے کہا کہ ایسے مقابلے بلوچستان کے نوجوان فٹبالرز کو قومی سطح کے کھلاڑیوں اور ٹیموں کے ساتھ مقابلے کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔ ستمبر 2026 کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے اس ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں شیڈول، گراؤنڈز، کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے رہائش سمیت انتظامی معاملات کا جائزہ لیا گیا۔
کھلاڑیوں کی سہولیات اور ٹیلنٹ کی تلاش
35ویں نیشنل گیمز کراچی 2025 کے سلسلے میں بلوچستان کے کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ بھی محکمہ کھیل کی سرگرمیوں کا حصہ رہے۔ سرکاری اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ان کیمپوں میں فینسنگ، جوڈو، آرچری، کراٹے ، باسکٹ بال اور دیگر کھیلوں کے کھلاڑیوں کی تیاریوں اور سہولیات کا جائزہ لیا گیا، جبکہ دُرا بلوچ بطور سیکرٹری کھیل اس عمل میں شریک تھیں ۔
یہ اقدامات اس بات کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں کہ محض ٹورنامنٹ منعقد کرنا کافی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی تربیت، تیاری اور سہولیات بھی کامیابی کا بنیادی حصہ ہیں ۔
ایک انتظامی سفر جو کھیلوں
سے نوجوانوں تک پہنچا
دُرا بلوچ کے دستیاب سرکاری و اخباری ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے تو ان کا انتظامی سفر بنیادی طور پر بلوچستان کے کھیلوں کے شعبے کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل اسپورٹس کی حیثیت سے کھیلوں کے مقابلوں اور فیسٹیولز سے لے کر سیکرٹری کھیل و امور نوجوانان کی حیثیت سے پالیسی، انتظامی نگرانی، بڑے ایونٹس اور نوجوانوں کے مواقع تک ان کی ذمہ داریوں کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔
ان کی خدمات کا ایک اہم عنصر یہ ہے کہ بلوچستان جیسے جغرافیائی اعتبار سے وسیع صوبے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو مختلف اضلاع اور مختلف کھیلوں تک پھیلانے کی کوششیں مسلسل نظر آتی ہیں ۔ 2023 میں 30 سے زائد کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد، نیشنل گیمز کی میزبانی، خواتین کے مقابلوں ، نوجوانوں کے فیسٹیولز اور بڑے قومی سطح کے کھیلوں کے ایونٹس کا تسلسل اسی وسیع تر سرگرمی کا حصہ ہے۔
دُرا بلوچ کا کردار بلوچستان میں کھیلوں کے انتظام اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے شعبے سے نمایاں طور پر وابستہ رہا ہے۔ ان کے دور میں مختلف کھیلوں کے مقابلوں ، فیسٹیولز، قومی سطح کے ایونٹس اور کھلاڑیوں کی تیاری سے متعلق سرگرمیوں پر توجہ دی گئی۔
کسی بھی سرکاری عہدے دار کی کارکردگی کا حتمی فیصلہ اعداد و شمار، نتائج، آڈٹ، منصوبوں کی تکمیل اور عوامی و کھلاڑیوں کے تجربات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ دُرا بلوچ کا انتظامی سفر بلوچستان کے کھیلوں کے شعبے میں مسلسل ذمہ داری اور سرگرمی سے عبارت دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ مرحلے میں ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں تک کھیلوں کی سہولیات، تربیت، شفاف مواقع اور نوجوانوں کی شمولیت کو مزید وسعت دی جائے تاکہ صوبے کے پوشیدہ ٹیلنٹ کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کے زیادہ مواقع مل سکیں ۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں