
تحریر : عبدالفتاح عباسی
20 ستمبر 2026ع کو پاکستان مسلم لیگ کی وفاقی حکومت کے ریلوے کے وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی صاحب کی جانب سے گہری دلچسپی کے باعث پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے عوام ایک موھن جو دڑو مسافر ٹرین کا افتتاح کیا گیا، یہ موھن جو دڑو ریلوے اسٹیشن سکھر سے کوٹری تک اور کوٹری سے سکھر جانب روانہ ہوگی، اس سے قبل خیبر پختون خواہ صوبہ سے خوشحال خان خٹک مسافر ٹرین پشاور سے کراچی اور صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے کراچی بولان میل چلا کرتی تھی، اس کو سالوں سے بند کردیا گیا ہے، مگر سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے بیس لاکھ سے زیادہ عوام کو دونوں مسافر ٹرین بولان میل اور خوشحال خان خٹک مسافر ٹرین کی شدت سے کمی محسوس ہورہی ہے جس کو فوراً چلایا جائے، موجودہ دور میں سفری سہولیات پوری دنیا میں اپنے ملک کے عوام کو فراہم کی جاتی ہے کیونکہ جب عوام کو تیز تر سفری سہولت ملے گی تو پھر عوام کے ساتھ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا، ہمارے ملک میں ویسے تو تمام صوبوں کے عوام کو سفری سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے ریلوے ٹرینوں کی آمدورفت کی سہولیات بآسانی دستیاب ہے مگر بدقسمتی سے دو وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے شہر لاڑکانہ کے 20 لاکھ سے زائد عوام کو سفری سہولیات میں اس دور جدید میں بھی دو ٹرینوں ریلوے کی سہولیات کورونا کی وبائی بیماری آنے کے وقت سے چھین لی گئی ہے. ان ٹرینوں میں ایک خوشحال خان چٹک ایکسپریس جو کہ خیبر پختون خوا صوبے سے پشاور تا کراچی کیلئے چلتی تھی یہ واحد خوشحال خان خٹک ایکسپریس تھی جو کہ چاروں صوبوں کے عوام کو سہولت دیکر سندھ صوبہ کے کراچی شہر میں پہنچاتی تھی اسی خوشحال خان خٹک مسافر ٹرین پر سندھی، بلوچ، پختون اور پنجابی یعنی پختونخوا، پنجاب، بلوچستان اور سندھ صوبوں کا عوام سفر کرتا تھا. پشاور، جنڈ، اٹک، میانوالی، ڈیرا غازی خان، کوہاٹ ودیگر شامل ہیں. اسی طرح بلوچستان صوبے سے چلنے والی ٹرین ریلوے سہولیات میں بولان ایکسپریس کوئٹہ سے کراچی ایک عرصہ تک سندھ بلوچستان کے عوام کو ریلوے سفری سہولیات دی گئی. اسی طرح روھڑی سے کوٹری تک موھن جو دڑو ایکسپریس کی سہولت تھی جو کہ ایک بڑے عرصے تک شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار سے بھی قبل کا تھا کہ لاڑکانہ کے عوام کو سفری سہولیات میں ٹرین چلتی رہی ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ جس شہر لاڑکانہ کی اپنی ایک ھسٹری تاریخ رہی ہے. یہاں کی سیاسی شخصیات میں ملک کے اہم ترین سیاسی شخصیات پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین شہید ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی پیاری صاحبزادی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ اور موجودہ پاکستان پیپلز پارٹی کا چیئرمین، لاڑکانہ کے حلقہ این اے 200 کا ممبر قومی اسمبلی و سابق وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی لاڑکانہ سے تعلق رکھتے ہیں. اتنی بڑی سیاسی شخصیات کے باوجود بھی اسی شہر لاڑکانہ کیلئے نہ ہوائی جہاز کی کوئی سہولت میسر ہے نہ ہی ریلوے کی سہولیات دی گئی ہیں. اگر بولان ایکسپریس کوئٹہ تا کراچی اور خوشحال خاں خٹک ایکسپریس پشاور تا کراچی وایا لاڑکانہ سے چلائی جاتی ہے جیسے پہلے سالہا سال سے چلتی آرہی تھیں مگر سابق وزیراعظم عمران خان اور بعد میں وزیراعظم شہباز شریف نے پانچ سالوں سے ہمارے علاقے لاڑکانہ سے ٹریں بند کر رکھی ہیں. 20 جولائی 2023 کو بڑی کوششوں کاوشوں اور لاڑکانہ کے عوام کے جدوجہد ایک بھرپور عوامی احتجاجی تحریک شروع کرنے کے بعد مشکل سے لاڑکانہ کیلئے ٹرین ریلوے کی سہولت موھن جو دڑو ریلوے کی دی گئی . جس میں ایم این اے لاڑکانہ، پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، محترمہ فریال ٽالپر صاحبه، پی پی پی چیئرمین کے پولیٹیکل سیکرٹری جمیل احمد سومرو، سابق صوبائی وزیر سھیل انور سیال، خورشید احمد جونیجو، اعجاز علی لغاری، انور علی نواز لہر سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی کاوشیں شامل ہیں. لاڑکانہ کا عوام سندھ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بدامنی کی وجہ سے شدید پریشان ہے اور دیگر آمد و رفت کے بجائے ایک بڑا تعداد لاڑکانہ سے کراچی یا لاڑکانہ سے لاہور اسلام آباد ودیگر شہروں کی جانب ٹرین ریلوے سہولیات کا مطالبہ کررہا ہے کہ لاڑکانہ کے عوام کو خدارا دیوار سے مت لگائیں اور دیگر علاقوں شہروں کی طرح سندھ کے اس شہر لاڑکانہ کو بھی سفری سہولیات دیتے ہوئے کورونا کو ختم ہوئے کیئے سال گذر گئے ہیں مگر ابھی تک موجودہ پاکستان مسلم لیگ نواز حکومت جس سے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت الحاق بنا ہوا ہے. انتخابات سے قبل جاتے جاتے آخر میں نیکی یہ کام کیا جائے اور لاڑکانہ کے بیس لاکھ سے زائد عوام کو بولان ٹرین ایکسپریس اور خوشحال خان خٹک ایکسپریس ٹریں چلا کر لاڑکانہ کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کیا جائے. اسی طرح شہر ایک دوسرے کے قریب رہنے کے ساتھ ساتھ کاروبار بزنس اور معاشی طور پر ملک مستحکم ہونے لگے گا. لاڑکانہ کے عوام کی یہی نہیں بلکہ دیگر ٹریں ریلوے چلانے کا بھی مطالبہ ہے کہ لاڑکانہ شہر کے عوام کو نظر انداز کرنے کے بجائے لاڑکانہ کے عوام کی آواز مطالبے پر توجہ دیکر شہریوں سے احساس محرومی ختم کی جائے. آپ اندازہ نہیں کرسکتے ہیں جو 20 جولائی 2023 سے صرف روھڑی سے کوٹری ٹرین موھن جو دڑو کو کہ روھڑی شہر ، حبیب کوٹ، رک، مدیجی، سرشاہنواز بھٹو، لاڑکانہ، باقرانی ،موہن جو دڑو، رادھن، بالی شاھ، رحمانی نگر،پھلجی، پیارو گوٹھ، دادو، سہون شريف سمیت دیگر شہروں سے موھن جو دڑو ٹرین شروع ہونے سے بہت شہروں علاقوں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ خوشی مسرت ہوئی ہے اور اسی طرح روھڑی سے کوٹری تک لاکھوں عوام کو ایک بہتر سفری سہولت مل گئی ہے مگر لاڑکانہ اور دیگر شہروں علاقوں کے عوام کا دیرینہ مطالبہ یہ ہے کہ لاڑکانہ ریلوے ٹریک سے پہلی والی ٹرین خوشحال خان خٹک ایکسپریس اور بولان میل ایکسپریس کے علاوہ دیگر تیز تر شالیمار ایکسپریس، گرین ایکسپریس وے دیگر ملک کے دیگر صوبوں و شہریوں کیلئے ریلوے کی سہولیات دی جائیں اس طرح سندھ کا عوام بھی محسوس کریگا کہ ہم بھی اس ملک کے رہنے والے ہیں اور ملک میں سب سے زیادہ گیس، کوئلہ، پئٹرول، بندرگاھ سمیت دیگر ملکی معاشی بہتری کیلئے نمایاں کردار صوبہ سندھ ادا کررہا ہے تو پھر صوبہ سندھ کے چوتھے بڑے شہر لاڑکانہ کے لاکھوں عوام کو ریلوے کی سہولت سے محروم کرنا قابل افسوس کی بات ہے. لاڑکانہ کا عوام بسوں، کوچز، ویگنوں و دیگر تمام سواریوں کے مقابلے میں قدیم سواری ریلوے کو پسند کرتا ہے کیونکہ یہ ٹرین کا سفر آرام دہ اور بہتر پایا جاتا ہے. دنیا کہاں سے کہاں تک پہنچی ہے مگر ہم پاکستان کے 79 سالا تاریخ میں لاڑکانہ کے رہائشی ریلوے کی سہولت سے بھی محروم ہیں. وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف، وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی ، ایم این اے لاڑکانہ بلاول بھٹو زرداری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سندھ کے تاریخی شہر لاڑکانہ کے عوام کو فوری طور پر ملک کے دور دراز علاقوں کے قریب لانے کے لیے ریلوے کی سہولت فراہم کی جائے یہ لاڑکانہ کا عوام بھی اپنے عزیز و اقارب، رشتہ داروں سے ٹرین کی سفری سہولیات کی فراہمی کے بعد بآسانی سے مل سکے اور لاڑکانہ کی لاکھوں آبادی پر مشتمل عوام کے کاروباری، بزنس، معاشی فائدہ پہنچ سکے اور اس طرح ٹرین کی سہولت سے منڈی اور شہر ایک دوسرے سے قریب ہوسکیں. جس سے کروڑوں، اربوں روپے کا معاشی ملک کو فائدہ ہوسکتا ہے. یاد رہے کہ لاڑکانہ اور اس کے گردونواح کے علاقوں کے عوام کو 20 ستمبر 2026 ع کو مقامی لوکل سطح پر عوامی ریلوے کی موھن جو دڑو مسافر ٹرین کا سکھر تا کوٹری اور کوٹری تا سکھر کیلئے موجودہ نواز حکومت کے وفاقی ریلوے کے وزیر محمد حنیف عباسی کے ھدایت پر افتتاح کیا گیا ہے، یہ لاڑکانہ، باقرانی، موھن جو دڑو ، ڈوکری، باڈھ، رادھن، نو دیرو، بھونبٹ، نصرت اور شاھنواز بھٹو اسٹیشن وغیرہ کے عوام کو سفری سہولت مل گئی ہے، ماشاء اللہ موجودہ وفاقی حکومت اور وفاقی ریلوے کے وزیر محمد حنیف عباسی کی گہری دلچسپی کے باعث صرف ایک موھن جو دڑو مسافر ٹرین سکھر تا کوٹری اور کوٹری تا سکھر کا افتتاح کیا گیا ہے، اس موھن جو دڑو ریلوے مسافر ٹرین میں کوئی بھی ایئر کنڈیشن اے سی کی سہولت میسر نہیں ہے، حبیب کوٹ سے دادو تک ریلوے ٹریک کی مرمت کرائی جائے کیونکہ ریلوے بند ٹریک کی زبون حالت کے باعث ٹرین 20 سے 25 اسپیڈ رفتار سے ٹرین چلائی جارہی ہے، جب کہ اسپیڈ رفتار کم سے کم پچاس ہونی چاہیے، لاڑکانہ ریلوے اسٹیشن پر پینے کے ٹھنڈے پانی کی سہولت دی، پرانی ریلوے اسٹیشن کی عمارت پر مرمتی کام کرایا جائے اور ساتھ ساتھ لاڑکانہ کے عوام کو خوشحال خان خٹک مسافر ٹرین اور بولان میل سروس کی بنیادی سہولیات دی جائے، اگر موجودہ مسلم لیگ نون کی وفاقی حکومت ریلوے کا وفاقی وزیر محمد حنیف عباسی صاحب چاہیں تو یہ دونوں بولان میل اور خوشحال خان خٹک مسافر ٹرین بھی ایک ھفتے میں ہی افتتاح کرسکتے ہیں اور لاکھوں کی آبادی عوام کو بنیادی آمد و رفت کی سہولت مل سکتی ہے اور ان دونوں مسافر ٹرینوں کے شروع ہونے سے چاروں صوبوں کے عوام کو خصوصی آمد رفت کی اسپیشل سہولیات مل سکتیں ہیں.
وفاقی حکومت کا لاڑکانہ کے عوام کیلئے موھن جو دڑو مسافر ٹرین دینے کا شکریہ