جب چھاؤں رخصت لے لے

وہ پہلا احساس؛ جو دنیا میں آنے کے بعد اپنی گرفت میں تمام عمر کے لئے قید کر لیتا ہے ، وہ ہے والدین کا بچے کو گود میں اٹھا کر پہلا پیار کرنا۔ وہ پہلا لمس بچے کو بتاتا ہے کہ دنیا کا سب سے بے غرض اور انمول محبت سے گندھا رشتہ صرف اور صرف والدین کا بچے سے تعلق کا رشتہ ہے۔ یہ والدین ہی ہیں جو بچے کی ہر چھوٹی سے چھوٹی خوشی کو اپنی بہت بڑی خوشی سمجھ کر بے انتہا خوش ہوتے ہیں ۔ بچپن کی چھوٹی چھوٹی ضد پوری کرنے سے لے کر اپنی حیثیت کے مطابق بچے کی بڑی سے بڑی ضد پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں ۔ بچے کو کامیابی کی سیڑھی پر بلند ہوتے دیکھنے کے لئے انتھک جدوجہد کرتے ہیں ؛ بنا کسی لالچ اور غرض کے۔بچے کی تربیت کرنے میں جی جان لگا دیتے ہیں ۔ اچھے برے کی تمیز سکھاتے ہیں ۔ زندگی گزارنے کے ہر پہلو سے روشناس کراتے ہیں ۔ والدین ہر بچے کی زندگی میں اس کے لئے پہلے استاد کا درجہ رکھتے ہیں ۔ پہلے ڈگمگاتے قدم سے لے کر تیز تیز قدم چلنے تک، والدین ہر قدم پر بچے کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ یہ خوشی بھی مناتے ہیں ، کہ اب ان کا بچہ اپنے پیروں پر چلنے کے قابل ہو گیا ہے۔
ایک وقت آتا ہے ، جب یہ وقت کی گردش اسی بچے کو اپنے ڈگمگاتے قدموں سے زندگی کے مراحل طے کرواتے کرواتے ، والدین کے ڈگمگاتے قدموں کا سہارا بنا دیتی ہے۔ اور پھر اس تیز رفتار وقت کے تیزی سے گزرنے کا تب پتہ چلتا ہے ، جب والدین آہستہ آہستہ ہاتھ چھڑا کر اس فانی دنیا سے ہمیشہ کے لئے خداحافظ کہتے ہوئے ، ہاتھ چھڑا کر رخصت لے لیتے ہیں ۔ تب یہ احساس اجاگر ہوتا ہے کہ وہ پہلا لمس، وہ پہلا پیار، وہ تو ان کے ساتھ پکے رنگوں سے رنگا ہوا تھا۔ تب اس پکے رنگ کے اوپر زندگی کی طرف سے کئے گئے ہر کچے رنگ کے اترنے کا احساس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ والدین کے رخصت کے لمحات کے سامنے تمام وقتی کامیابیاں ہیچ نظر آنے لگتی ہیں ۔ تب احساس ہوتا ہے کہ کامیابی تو صرف والدین کے ساتھ میں تھی۔ کامیابی تو بس اس بے غرض خوشی میں چھپی تھی، جو والدین کے چہروں پہ اپنی کامیابی کی خوشی دیکھ کر ملتی تھی۔
پچھلے سال 24 نومبر 2025 کے دن والد محترم ہمیں ہمیشہ کیلئے داغ مفارقت دے گئے۔ دل پر اس جدائی کا احساس کافی گہرا ہوا، وہ احساس جو الفاظ میں بیان کرنا کبھی ممکن نہیں رہا، لیکن اس غم کی شدت میں والدہ کے ساتھ ہونے کا احساس بھی ساتھ ہی رہتا رہا۔ کچھ ڈھارس بندھاتا رہا۔ یہ احساس دلاتا رہا کہ بے شک والدہ سخت علیل ضرور ہیں ؛ لیکن ہمارے ساتھ، ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔ وہ خاموش لبوں سے بھی مسلسل دعا کی بارش ہم پر برسا رہی ہیں ۔ وہ ہمیں دیکھ کر ہونٹوں پر آتی ہنسی سے بھی اپنے ہونے کا احساس دلا رہی ہیں ۔ ہمارے سر پہ سایہ ہیں ۔ ہر مشکل میں دعا کا سہارا ہیں ۔ والدین کی موجودگی زندگی کو ایک ان دیکھی ترتیب میں ڈھالے رکھتی ہے۔ ایک ایسی ترتیب جہاں وہ سورج کی مانند روشن ہوتے ہیں ۔ جہاں ہماری زندگی کا ہر پل ان کے گرد گھوم رہا ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس سورج کے ہٹتے ہی زندگی کے سب سیارے ، سب ستارے ایک نامعلوم ڈگر پر بھٹکنے لگیں گے۔ سب اپنے اپنے الگ راستوں کے راہی بن جاتے ہیں ۔
21 ستمبر 2026 وہ دن تھا، جب والدہ بھی ہمیشہ کے لئے ہاتھ چھڑا کر خالق حقیقی سے جاملیں ۔ بچپن میں یہ مذاق کیا کرتے تھے ، کہ ارے یہ ستمبر تو اصل میں ستمگر ہے۔ اس سال یہ عقدہ وا ہوا کہ یہ تو واقعی ستمگر بن گیا ہے۔ اب سے آنے والے ہر سال میں یہ ماہ، ماہ ستمگر بن کر یہ احساس دلانے آتا رہے گا، کہ اس ماہ ہم نے سب سے قیمتی متاع حیات کھو دی ہے۔ دسمبر کے سرد موسم میں والد صاحب کی جدائی، اور ستمبر کے بدلتے موسم میں والدہ صاحبہ کی جدائی، اب ایک گھاؤ کی صورت ہمیشہ تازہ رہیں گے۔
سنتے تھے کہ وقت بڑا ظالم ہے۔ ہر دکھ، ہر درد، اور ہر زخم کو دھیرے دھیرے مندمل کر دیتا ہے۔ پچھلے دس ماہ میں تو اس مرہم کی رفتار کافی دھیمی رہی ہے۔ پچھلے سال کے تیر کا دکھ، درد، اور زخم تاحال ساتھ تھا، کہ ایک اور تیر اس دل کو زخمی کر گیا ہے۔
آپ تمام احباب سے درخواست ہے کہ والد اور والدہ کے بلند درجات کے لئے خصوصی دعا ضرور کر دیں ۔ اللہ تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے۔ ان کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔ روز قیامت نبی مکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے ، اور ہم تمام لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ اپنی رضا میں راضی رہنے کی استقامت عطا فرمائے۔ آمین۔
الفاظ اس بار بھی جذبات کے اظہار میں پوری طرح معاون نہیں ہیں ۔ اللہ تعالٰی ان چند الفاظ کی لاج رکھتے ہوئے والدین پر خصوصی کرم فرما دے۔ جنت الفردوس کو ان کی ابدی قیام گاہ بنا دے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں