تحریر: ڈاکٹر ذوالفقار احمد گاذر
یاسین ملک کا پھانسی کی سزا مانگنے کا اعلان اور مشعال ملک سے علیحدگی کا فیصلہ ایک ایسی خبر ہے جس نے سیاسی، قانونی اور انسانی تینوں سطحوں پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ بھارتی دارالحکومت دہلی کی تہاڑ جیل میں قید جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے رہنما یاسین ملک نے سری نگر کی خصوصی عدالت میں پچیس صفحات پر مشتمل ایک حلف نامہ جمع کرایا ہے جو اب عدالت کی فائل سے زیادہ ایک انسانی داستان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
اس حلف نامے میں یاسین ملک نے چھتیس سال پرانے مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ خاص طور پر انیس سو نوے میں کشمیری پنڈت نرس سرلا بھٹ کے قتل کے مقدمے میں ریاستی تحقیقاتی ایجنسی کی جانب سے نامزد کیے جانے پر انہوں نے اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعے کے وقت وہ خود شدید زخمی حالت میں تھے اور کوما میں چلے گئے تھے ، اس لیے وہ اس قتل میں ملوث نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی بے گناہوں کے خلاف تشدد کی حمایت نہیں کی۔
اسی حلف نامے میں یاسین ملک نے یہ بھی لکھا ہے کہ انہوں نے نماز استخارہ کے بعد اپنے مقدمے کا مزید دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور عدالت سے اپنے لیے سزائے موت دینے کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام جرم کے اعتراف کے طور پر نہیں بلکہ ایک اصولی موقف کے طور پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی سیاسی جدوجہد کے حوالے سے کسی سمجھوتے کے بجائے اس کے نتائج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں ۔
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
یہ واضح رہنا چاہیے کہ ان کی سیاسی زندگی ایک طویل اور متنازع تاریخ رکھتی ہے۔ انیس سو چھیاسٹھ میں سری نگر میں پیدا ہونے والے یاسین ملک نے نوجوانی میں کشمیر کی سیاست میں قدم رکھا، اسی کی دہائی کے آخر میں مسلم متحدہ محاذ کی سرگرمیوں سے وابستہ ہوئے ، بعد میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے نمایاں رہنما بنے ، گرفتار ہوئے اور قید کاٹی۔ انیس سو چورانوے میں انہوں نے مسلح جدوجہد سے فاصلہ اختیار کر کے پرامن سیاسی راستہ اپنانے کا اعلان کیا تھا۔ دو ہزار بائیس میں بھارتی عدالت نے انہیں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی سے متعلق ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
حلف نامے کا سب سے جذباتی حصہ ان کی نجی زندگی سے متعلق ہے۔ یاسین ملک نے لکھا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے انہیں اپنی اہلیہ مشعال ملک اور بیٹی رضیہ سلطانہ سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے عدالت کے ذریعے پیغام دیا کہ وہ نہیں چاہتے کہ ان کی طویل قید اور غیر یقینی مستقبل کا بوجھ ان کی اہلیہ اٹھاتی رہے۔ اسی لیے انہوں نے کہا ہے کہ مشعال میں تمہیں اپنے نکاح سے آزاد کرتا ہوں اور تم اپنی زندگی کا نیا سفر شروع کرو۔
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
اس جملے کی قانونی حیثیت ایک الگ سوال ہے جس کا فیصلہ متعلقہ قانون اور طریقہ کار کے مطابق ہی ہوگا، لیکن انسانی سطح پر یہ الفاظ ایک ایسے شخص کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں جو یہ سوچ رہا ہے کہ اس کی قید کہیں اس کے گھر والوں کی پوری زندگی کی قید نہ بن جائے۔
یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
اسی حلف نامے میں بیٹی رضیہ سلطانہ کا ذکر بھی بہت دردناک ہے۔ انہوں نے بیٹی کے لیے نصیحت کی ہے کہ وہ اپنی دادی کی خیریت دریافت کرتی رہے اور خاندان سے جڑی رہے۔ باپ خود بیٹی سے دور ہے مگر چاہتا ہے کہ وہ خاندان کے قریب رہے۔ کچھ بچوں کے حصے میں باپ کا معمول کا ساتھ نہیں آتا، ان کے پاس تصویریں رہ جاتی ہیں جو گلے نہیں لگ سکتیں اور سوال کا جواب نہیں دے سکتیں مگر ایک پورا بچپن یاد دلاتی ہیں ۔
تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہ آئینہ ساز میں
اس پیغام کے جواب میں مشعال ملک سے منسوب ایک جواب بھی سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے وفاداری کی مثال قائم کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں آپ کے انتظار میں بیوہ بن کر جینے کو تیار ہوں لیکن کسی اور کی دلہن بننے کو نہیں ۔ امید پر دنیا قائم ہے اور میں آخری سانس تک آپ کا انتظار کروں گی کیونکہ میں نے آپ کے ساتھ جینے اور مرنے کی قسم کھائی ہے۔
وہ کہیں بھی گیا لوٹا تو مرے پاس آیا
بس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
یہاں دو پہلو ایک ساتھ سامنے آتے ہیں ۔ ایک طرف قانون ہے جس کا تقاضا ہے کہ الزام کا فیصلہ شواہد پر ہو، سزا کے باوجود قانونی حقوق برقرار رہیں اور اپیل کا راستہ موثر ہو۔ نہ عدالت کی جگہ جذبات لے سکتے ہیں اور نہ سیاست قانون کی جگہ۔ دوسری طرف ایک انسانی کہانی ہے جس میں محبت کا آخری اظہار ساتھ رہنا نہیں بلکہ یہ خواہش بن جاتا ہے کہ جسے انسان سب سے زیادہ چاہتا ہے وہ اس کی قید سے آزاد زندگی گزار سکے۔
کچھ تصویریں بولتی نہیں مگر بہت کچھ کہہ جاتی ہیں ۔ یاسین ملک کا یہ پچیس صفحات کا حلف نامہ عدالت کے لیے ایک قانونی دستاویز ہو سکتا ہے مگر انسانی احساس کے لیے ایک ایسے خاندان کی تصویر بھی ہے
جس نے سیاست اور مقدمات کے بیچ اپنے رشتے سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس کہانی کا سب سے کرب ناک پہلو یہی ہے کہ سلاخوں کے پیچھے موجود شخص اپنے لیے نہیں بلکہ اپنے پیچھے رہ جانے والوں کے مستقبل کے لیے فکر مند ہے۔ عدالتوں نے انیس ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے ، فیصلہ قانون کرے گا اور تاریخ اپنا فیصلہ محفوظ کرے گی۔