برکس کا تازہ اجلاس انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں 12 اور 13 ستمبر 2026 کو منعقد ہوا۔ بھارت کے مشہور کنونشن سینٹر ‘بھارت منڈپم’ میں ہونے والے اس اجلاس کا بنیادی موضوع ‘جدت، تعاؤن اور پائیداری کی تعمیر کے لئے مضبوط اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔’
مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ، نیوکلیئر مقامات پر حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی تسلیم کی جائے۔ غزہ، لبنان، سوڈان اور شام میں جنگ بندی کروائی جائے۔ عالمی تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔ تمام اختلافات گفت و شنید سے طے کئے جائیں ۔
برکس کا قیام 2006 میں عمل میں لایا گیا تھا۔ ابتداء میں اس کے بنیادی ارکان کی تعداد چار تھی۔ جن میں برازیل، روس، انڈیا اور چین شامل تھے۔ ان بنیادی ممالک کے پہلے حروف سے ہی اس تنظیم کا نام برک Brick تجویز کیا گیا تھا۔ تنظیم کا پہلا اجلاس 2009 میں روس میں منعقد ہوا۔ سال 2010 میں جنوبی افریقہ کی تنظیم میں شمولیت کے بعد اس کا نام برکس BRICKS کر دیا گیا۔ سال 2010 سے لے کر 2025 تک اس تنظیم میں چھ مزید ممالک مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا کی شمولیت سے اب تنظیم کے مستقل ارکان ممالک کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ ایک مضبوط اتحاد کے طور پر سامنے آنے کے لئے بنائی گئی یہ تنظیم اس وقت مشکلات کا شکار ہو گئی، جب تنظیم میں شامل اکثر ممالک کے آپس کے اختلافات سامنے آنے لگے۔ یوں تاحال یہ تنظیم اپنی وہ افادیت قائم نہیں کر پائی ہے ؛ جس کی اس تنظیم سے توقع کی جا رہی ہے۔
مثال کے طور پر مصر اور ایتھوپیا جیسے نئے ارکان کے درمیان اپنے علاقائی مسائل ہیں ، جنہیں سنبھالنا تنظیم کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ اسی طرح موجودہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں جاری جنگ میں براہ راست ملوث ممالک ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی آپس کے اختلافات کا شکار ہیں ، اور فی الحال تنظیم کسی بھی ملک کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہی ہے۔ تنظیم کے بنیادی ارکان انڈیا اور چین بھی کئی دہائیوں کے آپسی اختلافات ابھی تک پس پشت نہیں ڈال سکے ہیں ۔ دونوں ممالک کے سرحدی تنازعات اور خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی جنگ برکس کے فیصلوں کو متاثر کرتی رہتی ہے۔
موجودہ اجلاس کے بعد کئے گئے فیصلوں سے بھی کسی بڑی پیش رفت کی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ گو یہ ممالک عالمی تناظر میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی طرف پیش قدمی کرتے ضرور دکھائی دیتے ہیں ۔ برکس نے اپنے قیام سے ہی امریکہ اور یورپی ممالک کے یک طرفہ عالمی غلبے کو چیلنج کیا ہے ؛ چنانچہ عالمی فیصلوں میں واشنگٹن کے بجائے بیجنگ، ماسکو اور نئی دہلی کی آواز بھی کافی اہم ہو چکی ہے۔
برکس کا سب سے بڑا ہدف عالمی تجارت میں امریکی ڈالر کی اجارہ داری کو ختم کرنا ہے۔ روس، چین اور بھارت اب باہمی تجارت کا 60 فیصد سے زائد حصہ اپنی مقامی کرنسیوں (روپیہ، یوآن، روبل) میں کر رہے ہیں ۔ نئی دہلی کانفرنس (2026) میں رکن ممالک کے بینکنگ اور ادائیگیوں کے نظام (جیسے بھارت کا UPI) کو آپس میں جوڑنے پر عملی پیش رفت ہوئی ہے تاکہ مغربی ممالک کے SWIFT نظام پر انحصار ختم کیا جا سکے۔
ایران، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (UAE) کی شمولیت کے بعد دنیا کے خام تیل (Crude Oil) کی پیداوار اور سپلائی کا ایک بہت بڑا حصہ برکس ممالک کے کنٹرول میں آ چکا ہے ، لیکن ان ممالک کے آپسی اختلافات کی وجہ سے برکس اس کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا پا رہی ہے۔
تنظیم کی طرف سے نیو ڈویلپمنٹ بینک (NDB) کے قیام سے اب تک یہ بینک 32 ارب ڈالر سے زائد کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے قرضے جاری کر چکا ہے۔ یہ غریب ممالک کو ورلڈ بینک کی طرح سخت سیاسی شرائط کے بغیر مالی امداد فراہم کر رہا ہے۔
رکن ممالک کے نوجوانوں اور نئی کمپنیوں کے لیے ایک مشترکہ فنڈ کا قیام بھی تنظیم کا ایک مثبت قدم ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خوراک کے بحران سے نمٹنے کے لیے ‘برکس نیٹ ورک آن ڈیجیٹل ایگریکلچر’ کا آغاز بھی برکس کے خواب کی تعبیر گردانی جا رہی ہے۔
برکس کی اس توسیع کو امریکہ اور جی-7 (G7) ممالک اپنے خلاف ایک ‘اینٹی ویسٹ’ (مغرب مخالف) بلاک کے طور پر دیکھتے ہیں ؛ اور اس پر پابندیوں کا دباؤ ڈالتے رہتے ہیں ؛ جن میں امریکہ کی طرف سے مختلف ممالک پر عائد پابندیاں اور اضافی ٹیکسوں کا نفاذ بھی شامل ہے
امید کی جا سکتی ہے کہ موجودہ اجلاس کے بعد رکن ممالک آپس کے اختلافات باہمی مشاورت سے طے کر کے اس تنظیم کو آگے لے جانے کو کوششوں کا آغاز کریں گے۔ تاکہ دنیا کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں ، وگرنہ بہت سے نام کی حد تک قائم تنظیموں میں برکس بھی ایک نام بن کر نہ رہ جائے۔
کیا برکس کوئی تبدیلی لا سکے گی؟