
تحریر : عبدالفتاح عباسی
26 اگست کو دارالحکومت اسلام آباد کے مشہور سرکاری پمز اسپتال میں آگ لگنے سے 15 نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کی دل دہلا دینے والی خبر سامنے آئی۔ یہ خبر قیامت خیز خبر تھی، ایک خوفناک اور زور دار دھماکہ جیسی خبر سننے اور دیکھنے کے بعد کافی ٹائم سوچتا رہا کہ اس ملک میں جہاں نوجوان، مرد، عورت، پیرسن ضعیف العمر بھی محفوظ نہیں ہیں مگر اب معصوم پھول بھی غیر محفوظ ہیں، ایسی خبروں کے بعد واضح ہو گیا کہ یہ ملک کس طرف جا رہا ہے۔ پمز ہسپتال کی اس دردناک اور خوفناک خبر نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ہر باشعور انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی انصاف بھی ہے۔ کیا دور دراز سے دارالحکومت اسلام آباد میں علاج کے لیے آنے والے بچوں کا علاج صحیح طرح ہو سکتا ہے، لیکن ان زندہ، جاگتے، پھول جیسے معصوم، مسکراتے ہوئے بچے شعلوں کی نذر ہو جاتے ہیں؟ پھول جیسے معصوم بچوں کے والدین ان کی امیدوں کا مرکز، ان کے خوابوں کی تعبیر، ان کے گھروں کے روشن چراغ اور پوری کائنات ہوتے ہیں۔ وہ معصوم بچے تھے، ان کی موت بغیر کسی وجہ کے ہوئی۔ ان پھولوں سے ہر ماں باپ کے کتنے ہی خواب، امیدیں جڑی ہوں گی۔ بہت سے والدین کے لیے، وہ ان کا آخری سہارا ہوں گے۔ ان میں سے ایک شخص پمز ہسپتال کے ایک کونے میں درخت کے نیچے بیٹھا روتے ہوئے کہتا ہے کہ مجھے کئی سالوں سے اولاد نہیں ہوئی، اللہ کا شکر ہے لیکن پمز ہسپتال اور وفاقی محکمہ صحت کی کھلی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے میرا جھولا خالی ہو گیا ہے، اللہ رب العالمین ان ظالموں کے گھر کو بھی خالی کر دے جنہوں نے ہماری دنیا اجاڑ دی ہے، ڈپارٹمنٹ ہیلتھ کے اسپتال کے بجائے خوفناک موت کا گھر اور زندہ بچوں کے مسکراتے چہرے آگ میں جل کر خاکستر ہو گئے۔ اسی طرح ایک اور باپ نے اپنے بچے کے آگ میں جل کر راکھ ہونے کے بعد کہا کہ اللہ نے مجھے چار سال بعد اولاد سے نوازا لیکن وفاقی حکومت کے محکمہ صحت کی نااہلی اور لاپرواہی کے باعث آج میرا بچہ جاں بحق ہوگیا۔ بڑے افسوس کی بات ہے۔ بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے پیارے پھولوں کی لاش تک نہیں دی گئی۔ بے حسی، بے شرمی اور بے حیائی کی کوئی حد ہوتی ہے لیکن اس ملک میں اور کیا ہو رہا ہے؟ لیکن یہ ہے کہ ملک کے غریب عوام کے معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے، ہسپتال میں یہ واقعہ رونما ہوتا ہے تو انتظامیہ کہاں گئی ہوئی تھی؟ ڈاکٹر، نرسیں اور تمام پیرا میڈیکل اسٹاف کہاں تھے؟ اگر کوئی ڈاکٹر، نرس یا دیگر عملہ تھا تو ان میں سے کتنے ڈاکٹر، کتنی نرسیں اور کتنا پیرا میڈیکل اسٹاف کے عملے جل گئے؟ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ علاج کے لیے آنے والے معصوم پھولوں کو قید کر کے باہر سے تالا بندی کرکےبند کر دیا گیا ہو، جبکہ ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر عملہ خود غائب ہو کر معصوم بچوں کو بے یارو مددگار چھوڑ گئے، اور نومولود بچے بغیر کسی توجہ کے خالی ہال میں تنہائی میں آگ میں تڑپ تڑپ کر مر گئے، جب کہ پمز ہسپتال کے باہر صاف لکھا ہوا ہے کہ یہ وارڈ بچوں کا ہے اور یہ انتہائی نگہداشت کا وارڈ ہے۔ اور ایسے سوالات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اگر یہ کسی چھوٹے سے گوٹھ گاو¿ں میں ہوتا تو کہا جاتا کہ وہاں سہولیات نہیں تھیں اس لیے یہ بڑا واقعہ پیش آیا ہے۔ لیکن ملک کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوا ہے جہاں 24 گھنٹے چوکس رہنے کی ہدایات کی اطلاعات ہیں۔ لیکن یہاں یہ واقعہ رات کے اندھیرے میں نہیں بلکہ صبح چھ بجے کے قریب دن کی روشنی میں پیش آیا ہے۔ پمز اسپتال میں ایسے دردناک واقعے کے بعد پورے ملک میں کہرام مچ گیا ہے۔ ہم اپنے معصوم بچوں کو علاج کے لیے کہاں لے جائیں؟ جب شہر اسلام آباد ہمیں معصوم بچوں کی زندہ و جاوید لاشیں دیتا ہے تو ہم ان کے لیے کہاں علاج کیلئے جائیں؟ یہ واقعہ ترقی یافتہ ممالک میں پہلی بات ہو نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں اتفاقاً ایسا ہو جاتا تو اس محکمے کے تمام ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی جاتی اور انہیں جیل میں سخت سزا دی جاتی۔ اور جو بھی وزیر، سیکرٹری، ڈائریکٹر، ایم ایس میڈیکل سپرنٹنڈنٹ و دیگر عملہ آفیسر ملوث ہوتے تو ہاں وہ مثالی سزا کے مستحق بن جاتے، لیکن ہمارے پیارے ملک میں کرپٹ لوگ آزاد ہیں…!
اگر ہم پورے معاملے کو دیکھیں اور وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال سے پوچھیں تو 22 ارب روپے کے بجٹ اور یورپین بینک، ایشین بینک، یو ایس ایڈ، ورلڈ بینک، یو این اے وغیرہ کی غیر ملکی امداد کے باوجود جو کہ اربوں روپے میں بنتی ہے، یہ بہت بڑی رقم ہے اور وفاقی وزیر کے پاس پمز اسپتال، پولی کلینک، سی ڈی اے اور دو دیگر اسپتال ہیں، یعنی دو یا پانچ اسپتالیں ہین جن میں سے ہم سب نے ایک اسپتال کی حالت غیر دیکھ چکے ہیں، باقی چار ہسپتالوں کا کیا حشر ہو گا؟، کون سا وفاقی وزیر ہے جو وفاقی حکومت کے صرف پانچ ہسپتال نہیں چلا سکتا؟
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی الیکٹرانک میڈیا کے سامنے پریس کانفرنس، جہاں نہ صرف ایک بزرگ بلکہ کئی معصوم بچوں کے والدین اور دیگر نے ان کے سامنے آھ و زاری کی، اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، اس کی زبان اور لہجے کو تو چھوڑیں جو وفاقی وزیر بول رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں بچہ پر بیس ہزار روپے روزانہ خرچہ آتا ہے۔
یہ عجیب مخلوق کیا کر رہی ہے، کیا اسے نہیں معلوم کہ ترقی یافتہ ممالک میں ہر انسان کی زندگی پر کروڑوں روپے بھی خرچہ ہوتا ہے اور علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنے کے بجائے وہ ایک بے سہارا غریب عورت کو ڈرا دھمکا کر اس کی تذلیل کر رہا ہے اور ظالمانہ انداز میں اس کی تذلیل کر رہا ہے، اور کیا بات کر رہا ہے۔ انہوں نے سندھ کے شہر کراچی میں ایسا مذاق کیا ہے اور وہ ہر وقت انسانی جانوں کے جلنے اور مرنے کو مذاق اور تماشا سمجھ کر ڈرامہ رچا چکے ہیں۔ اگر خدانخواستہ یہ واقعہ سندھ کے کسی بھی شہر میں ہوتا تو یہ مخلوق نئے صوبے بنانے کی بات کرتے اور ہنگامہ آرائی اور نفرت کی باتیں کرنا شروع کردیئے، جب 15 انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں تو اب وہ کیوں خاموش ہیں؟ بعض آئینی گواہوں نے میڈیا میں یہ بھی کہا ہے کہ پمز ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں 15 نہیں بلکہ ایک سو سے زائد بچے زیر علاج تھے۔ اللہ کریم کسی میڈیکل آفیسر، نرس یا کسی اور کو سچائی کا راستہ دکھائے تو وہ میڈیا کے سامنے اصل حقائق بیان کریں۔ پندرہ انسانی جانوں کے قاتلوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے جیل کیوں نہیں بھیجا جاتا؟ نہ صرف استعفیٰ دے کر بلکہ تمام ذمہ داروں کو سزا دے کر قتل ہونے والے بچوں کے والدین کے ساتھ انصاف کیوں نہیں کیا جاتا؟ جب تک ملوث قاتلوں، سفاک مافیاﺅں کو سرعام سزا نہیں دی جاتی، پمز اسپتال اور بلدیہ ٹاو¿ن، گل پلازا جیسے دل دہلا دینے والے واقعات کیسے ختم ہوں گے؟ پمز ہسپتال ہو یا کوئی اور ہسپتال، ملک کے عوام غیر محفوظ ہو چکے ہیں۔ ان سرکاری ہسپتالوں سے وزیر، مشیر، صلاحکار ،افسران کیوں علاج نہیں کرواتے؟ یہ سب ہمیشہ بیرون ملک، لندن، امریکہ یا کم از کم دبئی سے علاج کرواتے ہیں۔ ملک کے اربوں روپے ان کے علاج پر خرچ ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ بھاری ٹیکس ادا کرتے ہیں انہیں وینٹی لیٹر، ڈسپوزایبل سرنج یا بخار کی گولیاں فراہم نہیں کی جاتیں۔ یہ بڑی بات ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں ڈسپوزایبل سرنج اور سوئی انجیکشن نہیں مل سکتیں اور انجیکشن کے بعد الکحل یا ڈیٹول کاٹن سواب استعمال کیا جاتا ہے وہ بھی میسر نہیں ہے، خاص طور پر سرکاری ہسپتال جو کہ قصاب گھروں کی طرح بنائے گئے ہیں جو سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا چیک اپ تک صحیح طرح نہیں کرتے اور یہی ڈاکٹر اپنے پرائیویٹ میڈیکل سنٹرز میں عوام کا خون چوس رہے ہیں اور بھاری فیسیں بھی وصول کر رہے ہیں۔ ملک کے عوام کو کم از کم علاج معالجے کی مناسب سہولتیں فراہم کی جائیں، ورنہ خدا کے ہاں دیر ہے لیکن اندھیر نہیں ہے اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جس نے بھی ان پھولوں جیسے معصوم بچوں کو آگ میں جھونک کر ہلاک کیا اور لاپرواہی اور غفلت سے ہسپتال کے باہر کا دروازہ بند کر دیا، رب العالمین ان سے یہاں پر اور آخرت میں حساب کتاب کرے گا، کیونکہ رب العالمین اپنی مخلوق سے بہت زیادہ محبت کرنے والا ہے۔ اپنے بندوں پر رحم کرنے والی ماں سے زیادہ مہربان اور انتھائی شفیق ذات ہے۔ ایک جان کا قتل، یعنی پوری انسانیت کا قتل، جرم اور گناہ ہے۔ سرکاری ہسپتال میں انسانی جانوں سے کھیلنا بند کریں اور محکمہ صحت میں ملوث مافیاﺅں کے خلاف کریک ڈاو¿ن کے لیے مناسب اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ تاکہ مزید انسانی جانیں بچائی جا سکیں۔
پمز ہسپتال ۔۔کیا معصوم پھولوں جیسے بچوں کے قاتلوں کو سزا ملے گی؟