چار مرتبہ عالمی کپ کا تاج سر پر سجانے والی؛ آٹھ مرتبہ ایشین گیمز کا طلائی تمغہ جیتنے والی؛ تین مرتبہ چیمپئنز ٹرافی کی فاتح، اور تین مرتبہ ایشیا کپ اپنے نام کرنے والی ٹیم، جب 2018 کے عالمی کپ میں ایک میچ بھی جیت نہ پائی۔ درجہ بندی میں بارہویں نمبر پر آئی، تو اس درجہ تک ہاکی کا پہنچنا ہاکی کے کسی شائق کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کبھی پاکستان ٹیم اپنے ملک کے قومی کھیل میں اس ہزیمت کا سامنا بھی کر سکتی ہے۔ پاکستان اس عالمی کپ منعقدہ بھارت میں اپنے گروپ میں کھیلے گئے تمام چار میچ ہار کر باہر ہوا۔ تب عوام کو یہ جھوٹی تسلی دی گئی، کہ اس تنزلی کے بعد اب دوبارہ بہتری کا سفر شروع ہو گا۔ ہاکی پر بھرپور توجہ دی جائے گی۔پاکستان ہاکی ایک مرتبہ پھر وہی شان و شوکت دیکھے گی، جو کبھی اس کا خاصہ رہا ہے، لیکن وہ عظمت رفتہ کے خواب اتنا عرصہ گزرنے کے بعد بھی صرف خواب ہی ہیں؛ جن کی طرف حقیقت میں خاطر خواہ سفر ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ ان تمام دعوو¿ں کے برعکس 2023 کے ورلڈ کپ میں پاکستان ہاکی ٹیم کوالیفائی ہی نہیں کر سکی۔ وہ ٹورنامنٹ جو کبھی پاکستان کے نام کے بغیر ادھورا تصور ہوتا تھا، پاکستان کے بغیر کامیابی سے منعقد ہوا۔ ان تمام حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان میں عوام کو طفل تسلیاں دئیے جانے کا سلسلہ جاری رہا۔ یہی دہرایا جاتا رہا کہ بہتری کی طرف ہماری توجہ ہے، لیکن حقیقت وہ ہوتی ہے جو میدان میں نظر آتی ہے۔ ان تمام سالوں میں کئے گئے تمام دعوو¿ں کا نچوڑ یہ رہا کہ پاکستان اس تمام عرصے کے دوران کھیلے گئے کسی ایک بھی ٹورنامنٹ کی ٹرافی نہیں جیت سکا۔ اس تمام عرصہ کے دوران پاکستان کی سب سے بہترین کارکردگی سلطان اذلان شاہ ٹورنامنٹ منعقدہ 2024 میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنا رہی۔ باقی کسی ٹورنامنٹ میں کوئی قابل ذکر کارکردگی نہیں رہی۔ شکست کا ایک طویل سلسلہ تھا جو اس دوران جاری رہا۔ پاکستان کی خوش بختی اس عالمی کپ کے کوالیفائنگ مرحلے میں سیمی فائنل میں جاپان کو شکست دینا اب تک کی سب سے بڑی کامیابی رہی۔ جس کی وجہ سے اگست 2026 کے عالمی کپ منعقدہ بیلجیئم اور ہالینڈ میں ایک مرتبہ پھر شرکت کا موقع مل گیا۔
عالمی کپ میں شرکت تو قومی ٹیم کر رہی ہے، لیکن کامیابی سے عوام کی زیادہ امیدیں وابستہ نہیں ہیں۔ حالیہ رینکنگ میں ورلڈ نمبر بارہ ہونے سے اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ ابھی تک ہاکی ٹیم کے حالات ویسے ہی دگر گوں ہیں۔
پہلا میچ عالمی نمبر دو انگلینڈ کے ساتھ کھیلا گیا۔ میچ دیکھ کر یقین ہو گیا، کہ ورلڈ کپ 2018 میں ناکامیوں کا سلسلہ جہاں منقطع ہوا تھا؛ وہ تاحال برقرار ہے۔ اس میچ میں انگلینڈ کے ہاتھوں ایک کے مقابلے میں چار گول سے شکست اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میدان میں انگلینڈ کے سامنے بے بس نظر آئی قومی ٹیم کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں قومی ہاکی کا سفر تاحال وہیں پر منجمد ہو چکا ہے۔ اس میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔
دوسرا میچ پاکستان، جو اس وقت دنیا میں بارہویں نمبر پر ہے، اور گروپ ڈی میں سب سے کمزور ٹیم ویلز، جو اس وقت عالمی ہاکی میں پندرہویں نمبر پر ہے کے درمیان منعقد ہوا۔ یہ میچ تین تین گول سے برابر رہا۔ یہ میچ ہمیں بتانے کے لئے کافی ہے کہ ہم اپنے سے کمزور حریف کا مقابلہ کرنے کی سکت بھی نہیں رکھتے ہیں۔ یہ اہم ترین میچ برابر کھیل کر پاکستان نے اپنے اگلے مرحلے میں جانے کے مواقع محدود کر دئیے۔
گروپ کا آخری میچ پاکستان، روایتی حریف اور موجودہ عالمی درجہ چھ پر براجمان بھارت سے کھیلا۔ نتیجہ وہی رہا کہ پاکستان یہ میچ بھی تین کے مقابلے میں پانچ گول سے ہار گیا۔ یوں اس عالمی کپ میں بھی پاکستان اگلے مرحلے تک رسائی حاصل نہیں کر سکا۔ آٹھ سال کے بعد بھی محسوس یہی ہوا کہ ٹیم انہی حالات میں ہے۔ کچھ بہتری نہیں ہوئی ہے۔
اب پھر سے عوام کو طفل تسلیاں دی جائیں گی۔ پھر سے نئے خواب دکھائے جائیں گے۔ پھر بیانات شروع ہو جائیں گے، لیکن عملی طور پر میدان جو نتیجہ دکھائے گا وہی اصل ترقی کہلائے گی۔ فی الحال تو ہم الٹے قدم چل رہے ہیں۔ مزید کتنے سال وعدے حقیقت کا روپ دھاریں گے؛ کب ہاکی درست سمت کی طرف اپنے سفر کا آغاز کرے گی؛ کب تک عوام کو فتوحات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے کا انتظار کرنا پڑے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
٭٭٭٭
پاکستان ہاکی، درست سمت کا سفر کب شروع ہو گا