پاکستان میں مزدور یونین تحریک: تاریخی پس منظر سے عصرِ حاضر کے چیلنجز تک


تحریر: ساروان ناصر
مزدور یونین، جسے ٹریڈ یونین، ایمپلائی یونین یا محض یونین بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسی تنظیم ہے جو کارکن اپنے مشترکہ مفادات اور کام کی جگہ پر اپنے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے قائم کرتے ہیں۔ امریکی محکمہ محنت (U.S. Department of Labor) کے مطابق، “لیبر یونین دو یا دو سے زیادہ ملازمین پر مشتمل ایک ایسی تنظیم ہے جو اجرت، مراعات، اوقاتِ کار، ڈیوٹی شیڈول اور ملازمت سے متعلق شرائط و ضوابط جیسے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے متحد ہوتی ہے۔” اجتماعی طور پر متحد ہونے یا اجتماعی اقدام کے ذریعے یونین سے وابستہ کارکن ایک مضبوط اجتماعی آواز حاصل کرتے ہیں، جو انہیں اپنے آجروں کے ساتھ اپنے مسائل، مطالبات اور حقوق کے حوالے سے مو¿ثر انداز میں مذاکرات کرنے کی قوت فراہم کرتی ہے۔ بہتر اجرت، صحت کی سہولیات، سالانہ تعطیلات، تنخواہ کے ساتھ بیماری کی رخصت، ریٹائرمنٹ کے فوائد اور دیگر فلاحی مراعات ان اہم کامیابیوں میں شامل ہیں جو کارکن اپنی یونینوں کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ ٹریڈ یونینیں ارکان پر مشتمل جمہوری تنظیمیں ہوتی ہیں، جنہیں ایسے قوانین کے تحت چلایا جاتا ہے جو مالی شفافیت، دیانت داری، منصفانہ انتخابات، جمہوری اقدار اور تمام کارکنوں کی مساوی نمائندگی کو یقینی بناتے ہیں۔
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے ایک مضمون بعنوان “Trade Union History of Pakistan” کے مطابق، قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت کا ایک نسبتاً کم معروف پہلو یہ بھی ہے کہ وہ مزدوروں کے حقوق کے حامی اور ایک مو¿ثر مزدور رہنما تھے۔ 1925ءمیں وہ آل انڈیا پوسٹل اسٹاف یونین کے صدر منتخب ہوئے، جس کی رکنیت تقریباً ستر ہزار (70,000) افراد پر مشتمل تھی۔ برطانوی ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے، جہاں انہوں نے پینتیس برس سے زائد عرصہ خدمات انجام دیں، انہوں نے ٹریڈ یونین ایکٹ 1926ءکی منظوری میں اہم کردار ادا کیا، جس کے ذریعے مزدور یونینوں کے قیام کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا۔ قائداعظمؒ نے اکتوبر 1920ءمیں آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کے بانی اجلاس میں بھی شرکت کی۔ اس دور کے ممتاز مزدور رہنماو¿ں، جن میں لالا لاجپت رائے، دیوان چمن لال، ایم۔ ایم۔ علوی اور سبھاش چندر بوس شامل تھے، کے ساتھ ان کے قریبی تعلقات تھے۔ پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک کی بنیادیں اِسی قبل از تقسیم دور میں استوار ہوئیں۔ برصغیر میں ریلوے کے نظام، زرعی شجرکاری (Plantation) اور دیگر صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کے نتیجے میں ایک باقاعدہ مزدور طبقہ وجود میں آیا، جس نے بعد ازاں ٹریڈ یونین تحریک کی شکل اختیار کی۔
بین الاقوامی سطح پر ٹریڈ یونینوں اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ سے متعلق بنیادی قوانین اور معیارات بین الاقوامی مزدور تنظیم (International Labour Organization – ILO) کے ذریعے وضع کیے جاتے ہیں، جو اقوامِ متحدہ کا ایک خصوصی ادارہ ہے۔ عالمی سطح پر مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کی قانونی بنیادوں میں آزادی تنظیم (Freedom of Association)، تنظیم سازی کا حق (Right to Organize) اور اجتماعی سودے بازی (Collective Bargaining) شامل ہیں۔
آئی ایل او کنونشن نمبر 87 ، کارکنوں اور آجروں کو یہ بنیادی حق فراہم کرتا ہے کہ وہ سرکاری اداروں سے پیشگی اجازت لیے بغیر اپنی مرضی کی تنظیمیں قائم کریں یا ان کی رکنیت اختیار کریں۔ اسی طرح آئی ایل او کنونشن نمبر 98 کارکنوں کو یونین مخالف امتیازی سلوک سے تحفظ فراہم کرتا ہے اور آجروں اور کارکنوں کی تنظیموں کے درمیان روزگار سے متعلق شرائط و ضوابط پر رضاکارانہ اجتماعی مذاکرات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی طرح عالمی منشورِ حقوقِ انسانی (Universal Declaration of Human Rights – UDHR) کے آرٹیکل 23 کی شق 4 یہ ضمانت دیتی ہے کہ ہر شخص کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ٹریڈ یونین قائم کرنے اور اس کی رکنیت اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔
تحقیق کے مطابق، پاکستان میں ٹریڈ یونینوں کا نظام صنعتی تعلقات کے قوانین کے تحت منظم کیا گیا ہے۔ پاکستان نے آئی ایل او کنونشن نمبر 87 اور کنونشن نمبر 98 کی توثیق بھی کر رکھی ہے، جس کے نتیجے میں ملک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آزادی تنظیم اور اجتماعی سودے بازی کے بنیادی اصولوں کا احترام اور ان پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ آئینِ پاکستان کے مطابق، مزدور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وفاقی انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ، 2012ء 14 مارچ 2012ء کو صدرِ پاکستان کی منظوری سے نافذ کیا گیا، جس کا مقصد ملک میں صنعتی تعلقات کو قانونی بنیاد فراہم کرنا اور مزدوروں و آجروں کے درمیان متوازن تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کا قیام اگرچہ لیبر پالیسی 1972ءکے تحت عمل میں آیا، تاہم بعد ازاں اسے مختلف صنعتی تعلقات کے قوانین کے ذریعے مزید مو¿ثر قانونی حیثیت دی گئی۔ یہ ایک نیم عدالتی (Quasi-Judicial) ادارہ ہے، جس کا مقصد حقیقی ٹریڈ یونین ازم کو فروغ دینا، صنعتوں کی سطح پر یونین فیڈریشنوں کی تشکیل میں معاونت کرنا اور قومی سطح پر صنعتی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔
نیشنل انڈسٹریل ریلیشنز کمیشن کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، سال 2016ء تک پاکستان میں 1,390 رجسٹرڈ ٹریڈ یونینیں موجود تھیں، جن کی مجموعی رکنیت تقریباً 14 لاکھ (1.4 ملین) افراد پر مشتمل تھی۔ اس عرصے میں 16 رجسٹرڈ فیڈریشنیں بھی قائم تھیں، جبکہ مجموعی ملازمت یافتہ افرادی قوت کے مقابلے میں ٹریڈ یونینوں کی رکنیت کا تناسب صرف 2.2 فیصد تھا، جو اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان میں ٹریڈ یونین تحریک کو اپنی نمائندگی اور اثر و رسوخ بڑھانے کےلئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی معیارات کے مطابق ، پاکستان کی وفاقی حکومت نے صنعتی تعلقات ایکٹ 2012ءاور بلوچستان حکومت نے بلوچستان انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2022 نافذ کیا ہے۔ اس قانون کا مقصد آجروں اور کارکنوں کے درمیان بہترین صنعتی تعلقات کے اصولوں کو برقرار رکھنا، باہمی اعتماد کو فروغ دینا اور اس اعتماد کے ذریعے پیداوار میں اضافہ اور معاشی خوشحالی کو یقینی بنانا ہے۔ مذکورہ قانون کی دفعہ 17، ذیلی دفعہ (1) (الف) میں واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی آجر، آجروں کی کوئی ٹریڈ یونین، یا ان کی جانب سے کام کرنے والا کوئی شخص، ملازمت کے معاہدے میں ایسی کوئی شرط عائد نہیں کر سکتا جس کا مقصد اس معاہدے میں شامل کسی فرد کے اس حق کو محدود کرنا ہو کہ وہ کسی ٹریڈ یونین میں شامل ہو سکے یا ٹریڈ یونین کی اپنی رکنیت برقرار رکھ سکے۔ اسی قانون کی دفعہ 24 کے مطابق، کسی ٹریڈ یونین کو اپنے ارکان کی نمائندگی کرتے ہوئے اجتماعی سودے بازی کے نمائندہ ادارے (Collective Bargaining Agent) کے طور پر کام کرنے کی اجازت حاصل ہوگی۔ مزید برآں، یہ قانون کسی حد تک کارکنوں کو انتظامی فیصلوں میں باضابطہ شرکت کا حق بھی فراہم کرتا ہے۔ بلوچستان انڈسٹریل ریلیشنز ایکٹ 2022ءکی دفعہ 29 (1) کے مطابق، ہر ایسے ادارے یا کارخانے میں جہاں پچاس یا اس سے زیادہ افراد ملازم ہوں، کارکنوں کے نمائندے منتخب یا نامزد کیے جائیں گے، جو کارخانے کے انتظامی معاملات میں پچاس فیصد تک شرکت کر سکیں گے۔
جرمنی کے مشہور فریڈرک ایبرٹ فاو¿نڈیشن (Friedrich Ebert Stiftung) کی جانب سے 27 ستمبر 2022 کو شائع ہونے والے ایک مضمون بعنوان “Pakistan’s Labour Movement: A Reality Check” میں لکھا گیا ہے کہ آج، 75 سال بعد، پاکستان میں ٹریڈ یونینیں محرومی، تقسیم اور محدود نمائندگی کا شکار ہیں۔ اس صورتحال کی متعدد وجوہات ہیں، جن میں ٹریڈ یونینوں کا سیاسی عمل میں حد سے زیادہ شامل ہونا، جہاں سیاسی جماعتوں نے سرکاری شعبے اور صنعتی اداروں میں اپنی مزدور تنظیمیں قائم کر رکھی ہیں، روزگار کے شعبے میں بڑھتی ہوئی غیر رسمی نوعیت، جس کے نتیجے میں کنٹریکٹ لیبر اور آو¿ٹ سورسنگ کے رجحانات میں اضافہ ہوا ہے، مخصوص مفادات کے لیے قائم کی جانے والی پاکٹ یونینز (Pocket Unions) کا قیام، اور حکومت کی جانب سے ادارہ جاتی معاونت کا فقدان شامل ہیں۔ تاہم، مزدور تحریک کی کمزوریوں کی کچھ ذمہ داری خود مزدور قیادت اور یونینوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ پاکستان میں مزدور یونینوں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے فریڈرک ایبرٹ فاو¿نڈیشن (FES) کے مطالعے کے دوران مزدور رہنماو¿ں کے انٹرویوز میں ٹریڈ یونینوں کے اندر موجود بدعنوانی، اقربا پروری اور جانبداری پر بھی تنقید کی گئی۔ نئی قیادت کو آگے لانے میں ناکامی، مناسب مالی وسائل پیدا نہ کر پانا، مزدور قوانین سے متعلق صلاحیت سازی (Capacity Building) کا فقدان اور مختلف ٹریڈ یونینوں کے درمیان یکجہتی کی کمی نے مزدور تحریک کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ ان تمام عوامل نے پاکستان میں مزدور تحریک کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
مذکورہ مضمون میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کی مزدور قیادت تمام کارکنوں کے اتحاد کے لیے مو¿ثر اقدامات کرے تاکہ ملک میں مزدور یکجہتی کو مضبوط اور بااثر بنایا جا سکے۔ مزید برآں، ٹریڈ یونینوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ارکان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے پر توجہ دیں اور عہدیداران کے لیے مدتِ کار (Tenure System) متعارف کروا کر اپنی تنظیموں میں جمہوری ثقافت کو فروغ دیں۔ یہ نہایت ضروری ہے کہ ٹریڈ یونینیں نئی قیادت کو آگے لائیں اور نوجوانوں اور خواتین کی مزدور تحریک اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں میں فعال شرکت کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کریں ، تاکہ متحد پاکستانی مزدوروں کی اقتدار کے ایوانوں تک اپنی آواز مو¿ثر انداز میں پہنچ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں