
تحریر: منیر احمد رڈ
گنداواہ، ضلع جھل مگسی کا صدر مقام، ایک قدیم، تاریخی اور تہذیبی شہر ہے جو ماضی میں امن، بھائی چارے اور باہمی احترام کی روشن مثال سمجھا جاتا تھا۔ اس شہر کی شناخت صرف اس کی تاریخ نہیں بلکہ یہاں بسنے والے محبت کرنے والے لوگوں سے بھی ہے، جنہوں نے ہمیشہ امن و آشتی کو اپنی روایت بنایا۔
گنداواہ میں صدیوں سے مختلف اقوام آباد ہیں، جن میں جاموٹ قوم کی بڑی اکثریت شامل ہے۔
یہ وہ لوگ ہیں جن کی اس دھرتی سے نسلوں پر محیط وابستگی ہے۔ یہاں کے پرانے خاندان ایک دوسرے سے خون کے رشتوں، خاندانی تعلقات اور باہمی اعتماد کے مضبوط بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ماضی میں اختلافات بھی محبت، رواداری اور بزرگوں کی ثالثی سے حل ہو جاتے تھے۔
وقت کے ساتھ ساتھ گنداواہ شہر کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ ضلع کے دور دراز علاقوں سے لوگ بہتر روزگار، تعلیم اور کاروبار کی غرض سے شہر کا رخ کرتے رہے۔ بہت سے خاندانوں نے یہاں زمینیں خرید کر مستقل رہائش اختیار کی، جس سے شہر کی آبادی اور ضروریات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ شہری مسائل بھی بڑھتے گئے، جن میں سب سے اہم مسئلہ امن و امان کا ہے۔
بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں گنداواہ میں ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جنہوں نے شہریوں کے احساسِ تحفظ کو متاثر کیا ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف عوام بلکہ تاجروں، طلبہ، ملازمین اور سرمایہ کاروں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ اگر کسی شہر میں امن نہ ہو تو ترقی کا سفر رک جاتا ہے، کاروبار متاثر ہوتا ہے اور عوام خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس، قبائلی عمائدین، منتخب نمائندے، سماجی شخصیات اور شہری مل کر گنداواہ میں پائیدار امن کے لیے کردار ادا کریں۔ قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اور نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے تاکہ وہ معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
گنداواہ امن کا شہر تھا، امن کا شہر ہے اور امن کا شہر ہی رہنا چاہیے۔ یہ شہر نفرت، تشدد اور خوف نہیں بلکہ محبت، بھائی چارے اور رواداری کا مستحق ہے۔ اگر ہم سب نے مل کر امن کے لیے آواز بلند کی اور اپنی ذمہ داریاں پوری کیں تو یقیناً گنداواہ ایک بار پھر اپنی پرانی شناخت واپس حاصل کر لے گا۔
گنداواہ شہر کو امن دو