اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرول پر تقریبا 80 اور ڈیزل پر 70 روپے لیوی وصول کر رہی ہے جبکہ لیوی ختم کرنے سے حکومتی آمدن کا متبادل بندوبست کرنا ہوگا کیونکہ اخراجات یا تو لیوی سے پورے ہوتے ہیں یا پھر مہنگائی کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کا اجلاس مصطفی محمود کی زیر صدارت ہوا جہاں وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی پیٹرول کی ضرورت کا 70 فیصد درآمد کرتا ہے، عالمی مارکیٹ میں ریفائن شدہ مصنوعات اب بھی مہنگی ہیں۔انہوں نے کہا کہ خام تیل سستا ہونے سے پیٹرول لازمی سستا نہیں ہوتا، اوگرا شفاف فارمولے کے تحت قیمتوں کا تعین کرتی ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پیلٹس بینچ مارک سے منسلک ہیں۔انہوںنے کہاکہ جنگ کے دوران انشورنس اور فریٹ اخراجات کئی گنا بڑھ گئے، بحران کے دوران ملک میں ایک دن بھی ایندھن کی قلت نہیں ہوئی، پیٹرولیم لیوی کی رقم وفاقی خزانے میں جاتی ہے، حکومت قیمتوں کے نظام میں مزید شفافیت لا رہی ہے، پیلٹس کی قیمتیں عوام کیلئے جاری کرنے کی تجویز ہے۔علی پرویز ملک نے کہا کہ پیٹرولیم سیکٹر میں ڈی ریگولیشن پر کام جاری ہے، نجی شعبے میں مسابقت سے ایندھن سستا ہونے کی توقع ہے، ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے، ریفائننگ صلاحیت بہتر بنانا حکومت کی ترجیح ہے، درآمدی ایندھن پر انحصار کے باعث عالمی قیمتوں کا اثر پڑتا ہے۔وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ گیس سیکٹر میں اصلاحات عالمی بینک کے تعاون سے جاری ہیں، گیس سیکٹر کو مرحلہ وار ڈی ریگولیٹ کیا جا رہا ہے،گیس کمپنیوں کی نجکاری کی تیاری جاری ہے، ریفائنری پالیسی پر عمل درآمد حکومت کی ترجیح ہے، بندرگاہوں کی تنظیم نو اور گورننس بہتر بنائی جا رہی ہے، توانائی سپلائی تحفظ کیلئے انفرا اسٹرکچر کی توسیع ناگزیر ہے، بڑے کارگو جہاز لانے کیلئے انفرا اسٹرکچر محدود ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانے کی ضرورت ہے، بندرگاہوں پر نائٹ نیویگیشن کی سہولت بھی درکار ہے، توانائی کے تحفظ کیلئے جامع اصلاحات پر کام جاری ہے، گیس سیکٹر میں اصلاحات عالمی بینک کے تعاون سے جاری ہیں۔انہوںنے کہاکہ اوگرا کو ازسرنو مضبوط اور فعال بنانے کی ضرورت ہے، اوگرا وزارت پیٹرولیم نہیں، کابینہ ڈویڑن کو رپورٹ کرتا ہے، اوگرا چیئرمین کے تقرر کیلئے اشتہار دیے گئے ہیں، موزوں امیدوار نہیں ملا، اوگرا چیئرمین کی تعیناتی کیلئے ہیڈ ہنٹنگ کی تجویز دی ہے اور ضرورت پڑی تو بیرون ملک سے بھی ماہر امیدوار لایا جا سکتا ہے، اوگرا کو مستقل اور کل وقتی چیئرمین کی ضرورت ہے، اوگرا کی قیادت کے معاملے پر وزیراعظم کو سمری بھجوائی جا رہی ہے۔علی پرویز ملک نے کہا کہ ملک کو یورو فائیو معیار کے ایندھن کی طرف لے جا رہے ہیں، ریفائنریوں کی نااہلی کا بوجھ صارفین پر نہیں ڈالیں گے، صارفین پر اضافی مالی بوجھ ختم کرنا وزیراعظم کا فیصلہ ہے، ایک پمپ پر بھی ایندھن ختم ہوتا تو سنگین صورت حال پیدا ہو سکتی تھی، کئی ممالک میں ایندھن بحران کے دوران فوج تعینات کرنا پڑی۔انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں ریفائن شدہ مصنوعات آج بھی جنگ سے پہلے سے مہنگی ہیں، پاکستان میں پٹرولیم لیوی ختم کر دی جائے تو قیمتیں نمایاں کم ہو جائیں گی، عوام کو عالمی قیمتوں اور مقامی قیمتوں کا فرق سمجھانا ضروری ہے
وفاقی وزیر کا پیٹرول پر80، ڈیزل پر 70 روپے لیوی وصول کرنے کا اعتراف
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل