اسلام آباد/کوئٹہ (این این آئی) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے چیئرمین وتحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی تقریر کو مسلط فارم47کی حکومت نے ایک بار پھر سنسر کردیا۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ میرے دوست نے بڑی دیدہ دلیریا سے اچھے الفاظ کا استعمال کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خیبر پشتونخوا میں دہشت گردی کو نہیں روکا جارہا تھا یا وہ اس کی معاونت کررہے تھے۔ دہشت گردی کی معنی اگر ہم لیں کوئی بُرا نہ مانے میری کسی کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں ، گزشتہ انتخابات جس کے نتیجے میں ہمارے وزراء کی فوج ظفر موج بیٹھی ہوئی ہیں آپ سب خدا کو حاضر وناظر جان کر اپنے بہوں ، بہن بیٹیوں کے سامنے یہ کہہ دیں کہ ہم الیکشن جیت چکے ہیں ہم سلنڈر کرجائینگے۔ جناب سپیکر ! یہ حکومت 8فروری 2024کو زروزور کی بنیاد پر ، وردی پوش ہمارے اداروں کی سپورٹ سے 24کرورڑ انسانوں کو دہشت زدہ کرکے ایک دہشت گرد حکومت ہے ۔ پیسے، بندوق کے زور پر ، اسمبلیاں بیچی گئی اس حکومت نے اپنی اسمبلیاں خریدی ہیں اور اپنی مرضی کی ایک دہشت گرد حکومت بنائی ہے ۔ اور خیبر پشتونخوا کا قصور یہ ہے کہ اُس نے اس دہشت گردی کے مقابلے میں اپنے عوام کی ہمت سے اپنے صوبہ کو بچایا ہے ۔تخت لاہور بڑا ظالم ہے جناب سپیکر ۔ بنگالیوں پارٹیوں کا قصور یہ تھا کہ انہوں نے متحدہ محاذ بنایا اور مغربی پاکستان کی جو پارٹیاں تھیں اُنہیں شکست دی۔ اُس کی سزا دینی تھی ان کو ۔ مجیب الرحمن مسلم لیگی کارکن تھا جسے غدار اور پتہ نہیں کیا کیا کہا گیا وہ سائیکل پر بیٹھ کر مسلم لیگ کیلئے کام کرتا تھا ۔ مشرقی پاکستان کے 48فیصدسے زیادہ لوگوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا ۔آپ نے مجبور کیا اس رویہ سے کہ میری بات مانو !ورنہ ۔۔۔۔ جس طرح شیخ مجیب کوگھر سے گرفتار کرکے لاہور لے آئیں آپ نے یہ مہربانی کی کہ آپ نے ہمارے خیبرپشتونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو پکڑ کر ہاتھ پاؤں باندھ کر یہاں نہیں لے آئیں ۔ یہ بھی کردی جیئے۔ عمران خان اچھا تھا یا بُرا میں ماضی میں نہیں جاتا ۔ لیکن آپ نے اُس کے ساتھ مقابلے کیلئے اُس پر حملہ کیا اس کا انتخابی نشان چھین لیا ۔ اُس کی پارٹی کے کارکنوں نے یہ غلطی کی کہ 200انتخابی نشانات پر الیکشن لڑ کر آپ کے تمام تماشہ کو اُلٹا کردیا۔ آپ انہیں اور ملک کے 24کرورڑ انسانوں کا اس کی سزا دے رہے ہیں ۔ بُرائی کی جڑ یہ حکومت ہے اور اس بُرائی کو سیدھے راستے پر لانے کیلئے خیبر پشتونخوا وزیر اعلیٰ ٹھیک تھا نہ وہ گالی دیتا نہ پتھر مارتا تھا۔ کہ بھائی اس بُرائی کے خلاف اُٹھ کھڑے ہو۔ شہباز بھائی یہاں نہیں ہے لیکن یہ ہمارا فیصلہ ہے کہ جب آپ ہمارے حق خودداریت ، حق ووٹ کو طاقت کے بل بوتے پر چھیننے کی کوشش کرینگے تو ہم سب آپ کے خلاف کھڑے ہوں گے سارے لوگ سارے صوبے بلوچستان ، پنجاب ، سندھ سب۔ مجھے دُکھ ہوتا ہے کہ سندھی بھائی اس بلا میں شریک ہوئے ہیں ۔ اگلی گورنر راج پانیوں ، مائنز ، نہروں کے قبضے پر سندھ میں لگے گا اور پھر آپ کو یاد آئے گا کہ ہم نے کیا غلطی کی ۔ جناب سپیکر صاحب اب بھی وقت ہے کہ ان فیصلوں کو واپس لیں ۔آئیں سب توبہ کریں ، اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں ۔ پیپلز پارٹی ، جماعت اسلامی ، جمعیت علماء ، مسلم لیگ ، اے این پی تمام پارٹیاں بسم اللہ کریں کہ جو غلطیاں ہم نے کیں ،یہاں ایک پارلیمنٹ ہوگی وہ طاقت کا سرچشمہ ہوگی ،پشتون ، بلوچ ، سندھی ، سرائیکی کے وطنوں پر ان کے عوام کا راج ہوگا تب پاکستان بچ جائے گا۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ جناب سپیکر لوٹ کیا ہوتی ہے ۔ سرائیکی علاقے کی چولستان کی زمینیں ایک سو روپے میں الاٹ ہوئی ہیں ، ایک سو روپے میں ! جب آپ قوموں کی زمینیں سو روپے فی ایکڑ الاٹ کریں گے، معدنیات (مائنز) پانیوں پر قبضہ کریں گے اور جب آپ قوموں کی ہستیوں پر قبضہ کریں گے تو بغاوت ہو گی۔ کل آپ نے دیکھا یا نہیں دیکھا باڑہ میں چھوٹے چھوٹے بچے بالکل پرندوں کی طرح گر رہے تھے۔چھوٹے چھوٹے بچے گولیوں سے گر رہے تھے، آخر کب تک؟ اس دن سے ڈرو، خدا کو مانو! خدا کو مانو اور لوگوں کو تنگ مت کرو۔”آپ نے یہی طریقہ بنگال میں بھی استعمال کیا کہ بنگالی چھوٹے چھوٹے لوگ ہیں ، یہ لڑ نہیں سکتے اور ان کی حیثیت کیا ہے؟ جب آپ نے مارشل لا لگایا تو ایک شریف جرنیل نے انکار کیا۔ جب آپ نے مارشل لا لگایا تو صاحبزادہ یعقوب نے انکار کیا کہ میں اپنے لوگوں کے خلاف گولیاں نہیں چلاؤں گا۔ پھر آپ نے ایک اور آدمی بھیجا جس نے کہا کہ ہمیں زمین چاہیے، ہمیں بنگالی نہیں چاہئیں ؛ تو پھر کیا ہوا؟یہاں ریاست کی بات ہوئی کہ ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے، ریاست بچوں کو پالتی ہے اور ریاست لوگوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرتی ہے۔ لیکن جب ریاست اپنے ہی عوام کے خلاف لڑتی ہے، تو پھر عوام مجبور ہو کر ملک سے باہر دیکھتے ہیں ۔ ہم نے بنگالیوں کے ساتھ تماشا کیا، بنگالی بھاگ گئے، مکتی باہنی بنی، اس کے نتیجے میں ہمارا ملک ٹوٹ گیا۔اور جس آدمی نے یہ ساری بربادی پھیلائی تھی، اس کو ہم سینیٹر بنا کر یہاں لے آئے۔ ہم نے اس کو یہ تمغہ دیا کہ تم نے بڑا اچھا کیا، بہت بڑا کلیان کیا، لہٰذا آپ بھی آؤ سینیٹر بن جاؤ۔یہ رویہ بربادی کا ہے ، آئیں ، بسم اللہ کریں ، آئیں اس پارلیمنٹ کو طاقت کا سرچشمہ بنائیں ۔ آئیں صوبوں کو ان کے جو اختیارات ہیں وہ دیں ۔ سندھی ، بلوچ، پشتون ، سرائیکی اور آپ کا غریب پنجابی آپ سے کیا مانگتا ہے ۔ہمیں شرم نہیں آتی؟ میرے دوست آصف کبھی کہتے ہیں کہ شرم کرو، حیا کرو۔ ہمیں شرم نہیں آتی جناب اسپیکر؟ عام غریب آدمی کی حالت کیا ہے؟ چھ کروڑ انسان خطِ غربت سے نیچے ہیں اور یہاں وزیرِ خزانہ نے کہا کہ وہ آدمی آسودہ حال ہے جس کی ماہانہ آمدنی 20 یا 25 ہزار روپے ہے۔ ہماری سول اور ملٹری ایجنسیوں سے کہیں کہ یہ بتائیں کہ موجودہ حکومت کے تین سال میں کتنے کھرب کی کرپشن ہوئی ہے؟ ہماری سول ایجنسیاں ، ہماری فوجی ایجنسیاں بتائیں ، کیا حکومتیں اس لیے بنتی ہیں کہ منسٹر بنو اور لوٹو؟ منسٹر بنو اور تماشے کرو؟ منسٹر بنو اور عیش کرو! اوباما دو دفعہ امریکہ کا صدر بنا، لیکن اپنا دوسرا دورِ حکومت ختم ہونے کے دو ہفتے بعد وہ ایک ہوٹل میں پلیٹیں صاف کر رہا تھا۔ یہاں ایک آدمی کونسل کا چیئرمین بن جاتا ہے اور کروڑ پتی بن جاتا ہے، یہ کروڑوں روپے کہاں سے آتے ہیں ؟ آپ ریاست والو! آپ پاکستان کی بربادی کے ذمہ دار ہیں ، آپ پاکستان کے وسائل لوٹ رہے ہیں اور پاکستان کے عوام کا پیٹ پھاڑ رہے ہیں ۔ کل کوئی بتا رہا تھا کہ ہمارے 23 ہزار سول اور ملٹری بیوروکریٹس ہیں ۔امریکہ میں ایک خاتون کی دو یا تین لاکھ ڈالر مالیت کی قیمتی گاڑی کھڑی تھی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کا نام کیا ہے اور آپ کیا کرتی ہیں ، تو انہوں نے جواب دیا کہ میں کچھ نہیں کرتی، میں پاکستان کے ایک ریٹائرڈ افسر کی بیٹی ہوں ۔ کیا ہم ملک کو لوٹ کر کینیڈا اور امریکہ فرار ہونے کیلئے ہی بیٹھے ہیں ؟ خدا کیلئے، اس ملک پر رحم کریں ۔ خدا کیلئے رحم کریں اس ملک پر، ملک ڈوب رہا ہے اور اندرونی بدمعاشیوں کی وجہ سے ڈوب رہا ہے، ہماری اپنی غلطیوں کی وجہ سے ڈوب رہا ہے، بچانے کا ایک راستہ ہے؛ پاکستان کا آئین، پاکستان کی پارلیمنٹ، یہاں جمہوری نظام ۔ یہ جو ان کے پیچھے ہم بھاگ رہے ہیں ، آپ بھی تو شریف لوگ ہیں ، آپ کا وزیراعظم ہے۔ پھر آپ کا وزیراعظم فلانے کو جواب دہ ہے، پھر وہ اس کو جواب دہ ہے، شرم کی بات ہے ۔الیکٹڈ پارلیمنٹ پاکستان کی چوبیس کروڑ عوام کی پارلیمنٹ اتنی گئی گزری کہ کوئی آ کے بس ہمیں دیکھے۔ ہم اس ملک سے محبت کرنے والے لوگ ہیں ۔ یہاں کوئی فاتح اور مفتوح نہیں ہے۔ یہ رضاکارانہ فیڈریشن ہے۔ ہم سب یہاں ہیں ۔ یہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم دودھ کی نہریں بہائیں گے۔ انہوں نے پینتیس سال بلا شرکتِ غیرے حکومت کی۔ جنرل ایوب دس سال رہا، اس کے بعد میرے دوست اعجاز الحق صاحب کے والد صاحب ضیاء الحق گیارہ سال رہے۔ اس کے بعد مشرف صاحب گیارہ سال رہے۔ کون سا انقلاب؟ ان کا ایک ایک فقرہ حکمِ آخر تھا۔ جو کچھ وہ چاہتے تھے، جو کچھ کرنا چاہتے تھے، ان کے جانے کے بعد پاکستان دہشت گردوں کا اڈا بنا۔ پاکستان دہشت گردی اور دنیا بھر کے مافیاز کا اڈا بنا۔ افغانستان کی جنگ میں ہم کود پڑے، اور اب دہشت گردی کا رونا رو رہے ہیں ۔ دنیا کے سارے دہشت گردوں کی تربیت ہم نے دی، ان کی تربیت کی گئی تھی۔ ابھی دہشت گردی کے چرچے ہو رہے ہیں ؛ دنیا کے سارے دہشت گرد آپ نے تربیت کیے، آپ نے تربیت دی۔ پاکستان تمام دنیا کے دہشت گردوں کا اڈا تھا، یہاں عرب، عجم اور دنیا بھر کے بدمعاش موجود تھے۔ چھ ہزار سے اوپر عرب دہشت گرد یہاں آئے تھے، پھر آپ نے انہیں فاٹا میں چھوڑ دیا۔ فاٹا میں ایک ایک کرکے بارہ سو سماجی شخصیات کو قتل کیا گیا، وہ شریف لوگ ہیں جو آج بھی پاکستان زندہ باد کہتے ہیں ۔ توبہ کرو، ابھی توبہ کرو، ہم بھی توبہ کرتے ہیں ، آپ بھی توبہ کریں ۔ آئیں ، سندھی عوام سے کہیں کہ سندھ کے وسائل آپ کے حوالے ہیں ، بلوچ سے کہیں کہ آپ کے وسائل آپ کے حوالے ہیں ۔ ایک جمہوری نظام میں آئیں ، بسم اللہ کریں ؛ سرائیکی سے کہیں ، پنجابی سے کہیں ، یہ ملک اب بھی بچ سکتا ہے ۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ہمارا ملک خارجی طور پر یکہ و تنہا ہو گیا ہے۔ اس پارلیمنٹ میں ، جہاں شہباز صاحب بیٹھے ہوئے ہیں ، نہ کوئی معزز شخصیت آئی ہے اور نہ ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ایران نے اتنی بڑی طویل جنگ کیوں چھیڑی، امریکہ آیا، ناٹو آیا، پتہ نہیں کون سی آفت آئی، اس پارلیمنٹ کو کسی نے اعتماد میں نہیں لیا۔ کوئی پوچھتا نہیں ، عقلِ کل کوئی نہیں ہوتا، عوام سے پوچھنا پڑتا ہے، عوام کی رائے معلوم کی جاتی ہے۔ ”آپ کے ہمسائے میں جتنے بھی ممالک ہیں ، سب سے آپ کے سِنگ پھنسے ہوئے ہیں ۔ کیوں ؟ ہندوستان سے تو چلو ایک منجھ ہے، افغانستان سے بھی جھگڑا، ایران سے بھی جھگڑا، فلانے سے بھی جھگڑا، کس بات پہ؟ اس دن روس کے ذمہ دار ترین لوگوں نے کہہ دیا کہ افغانستان کی حکومت وہاں کی صحیح حکومت ہے، نیشنل گورنمنٹ ہے۔ ہم میں پھر کیا رہا؟ ان کا وزیر دفاع آیا ہے، پتہ نہیں آپ نے کیا بات کی ہے۔ اس پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں ، اس پہ بھروسہ کریں ۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ابھی بات ہو رہی تھی دھرنے کی۔ دھرنے کیلئے کیا شرط تھی؟ دو متارب گروپ اور دو متارب پارٹیاں ہیں ۔ ایک کا لیڈر جیل میں ہے، جبکہ ہمارا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ ہمیں اپنے لیڈر سے ملنے دیا جائے۔
پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر سنجیدگی سے بات چیت کی جائے‘ محمود اچکزئی
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل