غیر قانونی بارودی مواد کا استعمال، کوئلہ کان حادثے میں 34 کان کنوں کی ہلاکت کی تحقیقات میں انکشاف

کوئٹہ۔۔کوئٹہ کے قریب کوئلہ کان کے ایک حادثے میں 34 کان کنوں کی ہلاکت کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ حادثہ غیر قانونی طور پر بارودی مواد کے استعمال کی وجہ سے پیش آیا۔ رپورٹ میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ کوئلہ کان میں 16 سال کی عمر کے کان کنوں سے بھی کام لیا جا رہا تھا۔بشیر احمد بنگلزئی کی سربراہی میں بلوچستان کے وزیراعلیٰ کی انسپکشن ٹیم پر مشتمل اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کان مالکان، انتظامیہ اور نیم سرکاری ادارے پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کے حکام کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔یہ حادثہ 30 جولائی 2026 کو کوئٹہ سے قریباً 30 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع سور رینج کے علاقے میں پیش آیا تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کے بعد وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم (سی ایم آئی ٹی)کے چیئرمین بشیر احمد بنگلزئی کی سربراہی میں تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ کمیٹی کے دیگر ممبران میں محمد زمان بازئی اور محمد الیاس شامل تھے۔انکوائری کمیٹی نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے، متعلقہ حکام کے بیانات قلم بند کرنے، شواہد اور دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لے کر حادثے کے دو ماہ بعد اپنی رپورٹ تیار کرلی ہے رپورٹ کے مطابق دھماکہ سردار محمد عثمان خان جوگیزئی کول کمپنی کی کان نمبر ایک میں دوپہر قریباً ڈھائی بجے ہوا جب دوسری شفٹ کام کر رہی تھی۔ دھماکہ کان کے قریباً 4 ہزار 180 فٹ اندر ہوا۔کان نمبر ایک اور دو آکسیجن اور ہوا کی آمدورفت کے لیے آپس میں جْڑی ہوئی تھیں اور اس لیے دونوں کانیں متاثر ہوئیں ۔رپورٹ کے مطابق کان نمبر ایک مکمل طور پر بیٹھ گئی اور اس کے داخلی راستے اور وینٹی لیشن کا نظام متاثر ہوا۔اس وقت دونوں کانوں میں مجموعی طور پر 32 کان کن کام کر رہے تھے جن میں صرف ایک کان کن کان زندہ باہر نکل سکا۔بعد ازاں مزید تین کان کن اپنے ساتھیوں اور رشتہ داروں کو بچانے کے لیے حفاظتی اور ریسکیو پروٹوکول نظرانداز کر کے اندر گئے لیکن وہ بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قریباً تین دن بعد تمام نعشیں نکال کر ریسکیو آپریشن مکمل کیا گیا۔ طبی معائنے کے مطابق پانچ کان کنوں کی موت جلنے سے جبکہ 29 کی دَم گھٹنے سے ہوئی۔ انکوائری رپورٹ کے نتائج میں معلوم ہوا ہے کہ حادثے کی بنیادی وجہ کان میں غیر قانونی طور پر بارودی مواد کا استعمال تھا۔ کمیٹی نے محکمہ معدنیات کی کورٹ آف انکوائری کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ دھماکہ لانگ وال فیس یعنی کوئلہ نکالنے کے مقام پر ہوا۔ کوئلے کی سات سے آٹھ فٹ کی تہہ کے درمیان سخت چٹان کی پَرت تھی جس میں ڈرل کے سوراخ ملے۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں بلاسٹنگ کی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق بلاسٹنگ سے کوئلے کی باریک دْھول پیدا ہوئی جو ممکنہ طور پر کان کے شروع تک پھیل گئی۔ کورٹ آف انکوائری نے حادثے کو بارودی مواد کے غیر قانونی استعمال کا نتیجہ اور کان انتظامیہ کی غلطی قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق مالک، مینیجر اور مائن سردار کو معلوم تھا کہ زیرِ زمین بلاسٹنگ ہو رہی ہے مگر انہوں نے اسے نظرانداز کیا اور حکام کو اطلاع نہیں دی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دھماکہ خیز مواد کے استعمال اور ذخیرہ کرنے سے متعلق کول مائنز ریگولیشنز 1926 کے ضابطہ 99 اور 97 کی خلاف ورزی کی گئی۔واضح رہے کہ ان قواعد و ضوابط کے تحت کوئلہ کانوں میں دھماکہ خیز مواد کے استعمال کی محدود پیمانے پر اجازت ہے، تاہم اس کے لیے لائسنس اور ماہر شخص کا ہونا ضروری ہے۔حکام نے بتایا کہ متعلقہ کمپنی کے پاس دھماکہ خیز مواد کے استعمال کے لیے لائسنس اور ماہر موجود نہیں تھا۔انکوائری کمیٹی نے پی ایم ڈی سی کے مینجنگ ڈائریکٹر اور سردار محمد عثمان خان اینڈ کمپنی کے مالکان اور انتظامیہ کے خلاف مائنز ایکٹ 1923 اور کول مائنز ریگولیشنز 1926 کے تحت فوجداری کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ان میں کمپنی کے شراکت دار شیخ محمد عظیم، سردار علی احمد جوگیزئی، وزیر احمد جوگیزئی، افتخار احمد جوگیزئی اور خورشید احمد جوگیزئی، مینجنگ ڈائریکٹر سردار قربان علی جوگیزئی، مینیجر اختر شہزاد اور مائن سردار محمد گلاب شامل ہیں ۔رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والوں میں چھ کان کن 18 سال سے کم عمر تھے۔ ان میں سے دو کی عمر 17 سال سے بھی کم تھی۔ ایک 16 سال تین ماہ جبکہ دوسرا 16 سال چار ماہ کا تھا۔مائنز ایکٹ 1923 کے تحت 17 سال سے کم عمر افراد کو کان کے اندر ملازمت دینے پر پابندی عائد ہے۔رپورٹ کے مطابق اس حادثے میں تین بھائی اور ان کے ایک چچا بھی ہلاک ہوئے۔ رپورٹ میں دیگر تین خاندانوں کے ایسے چھ افراد کی فہرست شامل ہے جو اس حادثے میں جان سے گئے۔رپورٹ کے مطابق قانون میں بھائیوں یا قریبی رشتہ داروں کو ایک شفٹ میں کام سے روکنے کی کوئی پابندی نہیں ۔ کمیٹی نے بھائیوں اور قریبی رشتہ داروں کے ایک ہی شفٹ میں کام پر پابندی لگانے کے لیے قانون سازی کی سفارش کی ہے۔تحقیقات میں کول مائن کمپنی کے مینیجر اختر شہزاد اور مائن سردار محمد گلاب کو اپنے فرائض کے لیے نااہل قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مائن سردار شفٹ شروع ہونے سے پہلے کے معائنے کا ریکارڈ خود نہیں لکھ سکتا تھا اور یہ کام ٹائم کیپر کرتا تھا۔کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ ایسی صورت میں مائن سردار گیس ڈیٹیکٹر کی ریڈنگ کیسے دیکھتا اور درج کرتا تھا؟رپورٹ کے مطابق کان کا علاقہ پاکستان منرل ڈیویلپمنٹ کارپوریشن (پی ایم ڈی سی) کو لیز پر ملا تھا مگر ادارے نے ایک معاہدے کے تحت 282 ایکڑ علاقے میں کوئلہ نکالنے کے لیے کمپنی کو ’رائزنگ کنٹریکٹر‘ (ٹھیکے) کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی۔ اس کے بدلے فی ٹن 1230 روپے رائلٹی مقرر تھی۔معاہدے کے مطابق کان کنی کے قوانین پر عمل اور حادثے کی صورت میں معاوضے کی ذمہ داری ٹھیکیدار پر تھی۔ اس طرح پی ایم ڈی سی نے کسی حادثے کی صورت میں خود کو کسی بھی قسم کی ذمہ داری یا جواب دہی سے بری الذمہ کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ٹھیکیداری کے اس نظام کا قانون میں کوئی ذکر نہیں ۔ یہ غیر قانونی ہے۔لیز حاصل کر کے آگے کسی اور کو ٹھیکہ دینے سے کانوں میں کام کرنے والوں کی حفاظت کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی۔ کاروبار یا منافع کے معاہدے ان قانون اور آئین کے اصولوں سے بڑے نہیں ہو سکتے جو کان کنوں کی زندگی اور حفاظت کے لیے بنائے گئے ہیں ۔رپورٹ کے مطابق پی ایم ڈی سی نے کم سے کم 15 ایسے ٹھیکیداروں کو کام کی اجازت دی ہے جو بلوچستان مائنز اینڈ منرلز ایکٹ 2025 کی دفعہ 55(5) کی خلاف ورزی ہے۔انکوائری کمیٹی نے نشان دہی کی کہ بلوچستان میں 2935 کانوں کے لیے صرف 15 انسپکشن افسران موجود ہیں اور جس ریجن میں حادثہ پیش آیا وہاں 507 کانوں اور قریباً 6 ہزار کان کنوں کے لیے صرف ایک انسپکٹر، ایک جونیئر انسپکٹر اور ایک الیکٹریکل انسپکٹر ہیں ۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اس افرادی قوت کے ساتھ ایک انسپکٹر کے لیے ایک ہی کان کا سال میں دوبارہ معائنہ بھی ممکن نہیں ۔انکوائری کمیٹی نے انسپکٹریٹ آف مائنز کی تنظیم نو، تکنیکی استعداد بڑھانے اور دیگر صوبوں کے کان کنی کی حفاتی نظام کا جائزہ لے کر بلوچستان میں قابل عمل مادل اپنانے کی سفارش کی ہے۔اس کے علاوہ ان کنی میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کی فروخت اور استعمال کو موثر طریقے سے کنٹرول اور ذیلی ٹھیکے کے تمام معاہدوں کا جائزہ لے کر انہیں منسوخ کرنے اور قانون کے مطابق کارروائی کی بھی سفارش کی ہے۔کمیٹی نے مائنز ہیلتھ اینڈ سیفٹی بل 2026 کو جلد حتمی شکل دینے کی بھی سفارش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک صدی پرانا مائنز ایکٹ موجودہ ضروریات کے لیے ناکافی ہے۔وزیراعلیٰ انسپکشن ٹیم کی انکوائری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیرِ زمین کان کنی دنیا کے خطرناک ترین پیشوں میں سے ایک ہے، لہٰذا کان کنوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے حفاظتی قوانین پر عمل درآمد اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔محکمہ معدنیات نے بھی حادثے کی اندرونی تحقیقات کی جس کے بعد مائنز انسپکٹر سمیت تین افسران کو فرائض میں غفلت پر معطل کر دیا گیا جبکہ محکمہ افرادی قوت نے جائے وقوعہ کے دورے کے بعد الگ رپورٹ حکومت کو بھیجی۔ اس کے مطابق کان میں کوئی لیبر یونین نہیں تھی اور کمپنی مزدوروں کو یونین بنانے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ مزدوروں کی رہائش انتہائی ناقص تھی اور انہیں صاف پانی بھی میسر نہیں تھامحکمہ افرادی قوت کے مطابق معائنے کے وقت کسی مزدور کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن پیش نہیں کی جا سکی۔ بعد میں 34 میں سے صرف 14 کی رجسٹریشن دکھائی گئی۔ کمپنی نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے فنڈ میں لازمی دو فیصد شراکت بھی جمع نہیں کرائی جس سے مزدوروں اور ان کے بچوں کو مالی امداد اور وظائف ملتے ہیں ۔محکمہ افرادی قوت نے سفارش کی ہے کہ مرنے والے ہر مزدور کے لواحقین کو مالکان کی طرف سے دی جانے والی رقم 5 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کی جائے۔

منظم سیاسی جماعتوں اور مضبوط تنظیموں کے ذریعے قوموں نے اپنی قومی خودمختاری، حقیقی جمہوریت، سیاسی و جمہوری اختیار اور عوام کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کو کامیاب بنایاہے، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی
کوئٹہ (این این آئی) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی غوث آباد لوڑ کاریز علاقائی کانفرنس کا بند اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے کی زیرِ صدارت احمدان سکیم غوث آباد منعقد ہوا، جس میں علاقہ بھر سے پارٹی کے سینکڑوں مندوبین، کارکنوں اور عہدیداروں نے شرکت کی۔ کانفرنس میں پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکریٹری علی محمد ترین، عبدالرزاق خان بڑیچ، عبید اللہ توخی ضلع معاون سیکریٹری محمد رسول ترین، سید عبداللہ آغا، عصمت اللہ ترین، ضلع کمیٹی کے اراکین گل شاہین، فرید کمال، ضلع معاون سیکریٹری امین اللہ کاکڑ ،روزی خان خلجی اور حافظ سلام بڑیچ اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس کی سیکریٹری کے فرائض ضلع سینئر معاون سیکریٹری ندا سنگر نے انجام دیے۔کانفرنس کے آغاز میں علاقائی سینئر معاون سیکریٹری منیر احمد خپلواک نے گزشتہ تین سال کی تنظیمی و سیاسی کارکردگی پر مشتمل تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ میں علاقائی تنظیم کی گزشتہ تین سال کے دوران سیاسی، تنظیمی اور عوامی سرگرمیوں ، پارٹی پروگراموں اور تنظیمی پیش رفت پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ کانفرنس کے سینکڑوں مندوبین نے رپورٹ کا جائزہ لیا اور بحث و مباحثے کے بعد اسے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔بعد ازاں غوث آباد لوڑ کاریز کے لیے نئے علاقائی ایگزیکٹو کا انتخاب عمل میں لایا گیا، جس کے مطابق حاجی نقیب اللہ مہربان کو علاقائی سیکریٹری، منیر احمد خپلواک کو سینئر معاون سیکریٹری جبکہ گل شاہین، شاہ جہان ترین، ڈاکٹر طاہر شہاب، محمد اسماعیل ہاشمی، حاجی شاہ آغا، بشیر احمد وردک، جمعہ خان پوپلزی حمید اللہ، نور آغا مسلم یار، حاجی حبیب اللہ اور حفیظ جان کو علاقائی ایگزیکٹو کے اراکین منتخب کیا گیا۔ نومنتخب عہدیداروں سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے حلف لیا۔ کانفرنس کے کھلے اجلاس سے پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے صوبای ڈپٹی سیکریٹری عبیداللہ توخی، ضلع معاون سیکریٹری عصمت اللہ ترین، صوبائی ڈپٹی سیکریٹری علی محمد ترین، ڈاکٹر فضل اللہ پتمن، گل شاہین اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا، جبکہ تلاوتِ کلامِ پاک کی سعادت شاہ آغا نے حاصل کی۔ کانفرنس کے آغاز میں پارٹی کا ملی ترانہ پیش کیا گیا، جس کے احترام میں شرکاء کھڑے ہوگئے، جبکہ ڈاکٹر طاہر شہاب نے اپنا شعر بھی پیش کیا۔مقررین نے کامیاب اور بھرپور علاقائی کانفرنس کے انعقاد پر سابقہ علاقائی کابینہ، منتظمین، کارکنوں اور مندوبین کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ غوث آباد لوڑکاریز جیسے اہم علاقے میں پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی علاقائی کانفرنس میں سینکڑوں مندوبین کی بھرپور شرکت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ علاقہ آج بھی پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کی سیاسی و تنظیمی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں