کوہاٹ پولیس لائن حملہ، 18 گھنٹے بعد آپریشن مکمل

کوہاٹ (این این آئی)کوہاٹ شہر میں پرانی پولیس لائن سے ملحقہ جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والے زوردار دھماکے، اس کے بعد متعدد دھماکوں اور مسلح حملہ آوروں کی جانب سے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) اور سپیشل برانچ کی عمارتوں میں داخل ہوکر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعے کے بعد تقریباً 18گھنٹے تک جاری رہنے والا کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا گیا۔پولیس اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران تمام8 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ مزید دو پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد واقعے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 24 ہوگئی ہے جن میں 17 پولیس افسران و اہلکار اور 7 عام شہری شامل ہیں ۔ واقعے میں زخمی ہونے والوں کی مجموعی تعداد 129 بتائی جاتی ہے۔شہداء میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری ساکن تخت بھائی، مردان، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عصمت اللہ اور ان کے بھائی انسپکٹر نعمت اللہ ساکنان لکی مروت ، فرنٹیئر ریزرو پولیس کے سب انسپکٹر اشتیاق بخاری ساکن کوہاٹ، انسپکٹر صاحب الرحمن ساکن بنوں ، سی ٹی ڈی کے سب انسپکٹر معظم علی ساکن کرک اور سب انسپکٹر کفیل خان ساکن کوہاٹ سمیت دیگر پولیس اہلکار شامل ہیں ۔واقعے میں ایک ہی خاندان کے متعدد افراد بھی جاں بحق ہوئے جن میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عصمت اللہ اور ان کے بھائی انسپکٹر نعمت اللہ سمیت بعض دیگر شہداء کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا جبکہ شہری شہداء میں کوہاٹ کے رہائشی لقمان اور ان کے دو کمسن بچے عبداللہ اور اسداللہ بھی شامل ہیں ۔جاں بحق ہونے والے شہریوں میں اورکزئی سے تعلق رکھنے والے چلڈرن اسپیشلسٹ ڈاکٹر اسرائیل اور خوشحالی بینک کے منیجر اسحاق علی ساکن اورکزئی بھی شامل ہیں ۔پولیس کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف جاری طویل اور فیصلہ کن آپریشن کی قیادت کرنے والے ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس (سی ٹی ڈی) بھی دستی بم کے حملے میں زخمی ہوئے تاہم زخمی ہونے کے باوجود وہ ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ کے ہمراہ آپریشن کے آخری مرحلے تک فرنٹ لائن پر موجود رہے۔پولیس اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق سپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) کے کمانڈوز نے ہفتہ کی صبح فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے پرانی پولیس لائن کی سرکاری عمارت کی بالائی منزل، تہہ خانے اور دیگر تمام حصوں کو کلیئر کردیا۔ کارروائی کے دوران تمام آٹھ حملہ آوروں کو ہلاک کئے جانے کے بعد تقریباً 18 گھنٹے سے جاری کلیئرنس آپریشن اختتام پذیر ہوگیا۔آپریشن کے دوران پولیس ‘ سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کے ساتھ پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں حصہ لیا۔یاد رہے کہ جمعہ کے روز کوہاٹ ہنگو روڈ پر پرانی پولیس لائن کے قریب واقع جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے دوران اچانک ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کی آواز شہر کے مختلف علاقوں میں سنی گئی۔ دھماکے کے فوری بعد یکے بعد دیگرے متعدد دھماکوں اور شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔سوشل میڈیا پر زیر گردش سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کوہاٹ ہنگو روڈ پر پرانی پولیس لائن سے ملحقہ جامع مسجد کے بیرونی حصے کے قریب نماز جمعہ کے دوران ایک سیاہ رنگ کی موٹر کار کھڑی دکھائی دیتی ہے جس کے کچھ ہی دیر بعد مبینہ طور پر بارود سے بھری گاڑی میں زوردار دھماکہ ہوتا ہے۔پولیس کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد مسلح حملہ آوروں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرانی پولیس لائن کے احاطے میں قائم سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کی عمارتوں میں داخل ہونے کی کوشش کی اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔دھماکے اور فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سکیورٹی فورسز، ریسکیو 1122 اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی شروع کردی۔ کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی شدید فائرنگ کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مرحلہ وار کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔پولیس اور سکیورٹی فورسز نے آپریشن کے دوران پرانی پولیس لائن کے مختلف حصوں کو مرحلہ وار کلیئر کیا تاہم دہشت گردوں کی جانب سے مزاحمت کے باعث کارروائی رات بھر جاری رہی۔ ہفتہ کی صبح ایس ایس جی کمانڈوز نے فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے عمارت کی بالائی منزل، تہہ خانے اور دیگر تمام حصوں کو کلیئر کیا جس کے بعد تمام حملہ آوروں کی ہلاکت اور آپریشن مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی۔واقعے کے بعد کوہاٹ شہر اور گردونواح میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے حملے کی تحقیقات، جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں