وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دیدی

اسلام آباد(این این آئی)وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشرق وسطی میں کشیدگی کی وجہ سے عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناظر میں ملک بھر میں سادگی و کفایت شعاری مہم کی منظوری دیدی۔ جاری اعلامیہ کے مطابق فیصلہ اسلام آباد میں وزیر اعظم کی زیر صدارت منعقدہ کفایت شعاری اور توانائی کے تحفظ کے اقدامات پر اہم اجلاس میں ہوا۔ وزیراعظم نے کہاکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے دنیا بھر مہنگائی کی لپیٹ میں ہے،سب سے پہلے حکومت اور اشرافیہ سے قربانی کا آغاذ کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہاکہ معاشی طور پر کمزور اور متوسط طبقے کیلئے فیول سبسڈی کا آغاذ ہو چکا،موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر کے تناسب سے سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔وزیراعظم نے سرکاری اخراجات میں غیر ضروری کمی اور قومی وسائل کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بنانے اور متعلقہ اداروں کو کفایت شعاری اقدامات پر مؤثر اور فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں حکومتی اخراجات میں کمی، ایندھن کے تحفظ اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کیلئے اضافی کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سرکاری گاڑیوں کیلئے ایندھن میں تین ماہ کیلئے 50 فیصد کمی کے اقدام پر عملدرآمد کی منظوری دی گئی۔ ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ضروری خدمات کی گاڑیاں اس اقدام سے مستثنیٰ ہوں گی، جبکہ انتظامی یا غیر آپریشنل نوعیت کی گاڑیوں کیلئے استثنیٰ کی اجازت نہیں ہوگی۔ اجلاس میں مالی سال 27-2026 کے نان ای آر ای بجٹ میں 5 فیصد کمی، سرکاری سطح پر ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور آئی ٹی سے متعلق خریداری کے علاوہ تمام پائیدار اشیاء کی خریداری پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ تین ماہ کیلئے سرکاری دوروں اور بیرون ملک سفری سرگرمیوں پر بھی پابندی عائد کردی گئی، ناگزیر بیرون ملک دوروں کی صورت میں وزراء ، مشیران، وزرائے مملکت، معاونین خصوصی اور سرکاری افسران اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔ اجلاس میں سرکاری امور کیلئے ویڈیو کانفرنسنگ اور ٹیلی کانفرنسنگ کے زیادہ سے زیادہ استعمال، سرکاری عشائیوں کے انعقاد پر پابندی، سوائے غیر ملکی وفود کے اعزاز میں ضروری عشائیوں اور حکومت کے زیر اہتمام سرکاری سیمینارز، تربیتی پروگراموں اور کانفرنسوں کے انعقاد میں غیر ضروری اخراجات سے گریز کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں سنگل ڈش کے اقدام پر بھی عملدرآمد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ دکانیں ، مارکیٹس، شاپنگ مالز، بازار اور دیگر عمومی کاروباری مراکز رات 9 بجے جبکہ شادی ہالز اور دیگر تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک بند ہوں گے۔ ریستوران، کیفے، کھانے پینے کے مراکز اور اسٹینڈ الون فروٹ و سبزی کی دکانوں کیلئے بندش کا وقت رات 11 بجے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، طبی مراکز، ہسپتال، بیکریاں ، پیٹرول و سی این جی اسٹیشنز، الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز، جم، کھیلوں کی سہولیات، آئی ٹی کمپنیوں اور کال سینٹرز کو اوقات کار کی پابندیوں سے استثنیٰ دے دیا گیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ کفایت شعاری اور ایندھن کے تحفظ کے اقدامات کی نگرانی کیلئے قائم کمیٹی وزارتوں ، ڈویڑنز، محکموں ، سرکاری اداروں اور صوبائی حکومتوں سے عملدرآمد رپورٹس حاصل کرے گی، عدم تعمیل اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرکے اصلاحی اقدامات تجویز کرے گی اور وزیراعظم کو ہفتہ وار پیش رفت رپورٹ پیش کرے گی۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کفایت شعاری کے اقدامات پر بلاامتیاز عملدرآمد یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ساتھ توانائی اور ایندھن کے تحفظ کیلئے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں ۔وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 27-2026 میں پہلے سے نافذ کفایت شعاری اقدامات کو جاری رکھنے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جبکہ یہ اقدامات وفاقی حکومت کے منسلک محکموں ، سرکاری ملکیتی اداروں ، قانونی اداروں اور ریگولیٹری اتھارٹیز پر بھی لاگو ہوں گے۔ اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، علی پرویز ملک، عطاء اللہ تارڑ اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں