پاکستان اور ناروے کا تجارت متعدد شعبوں کےلئے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان اور ناروے نے تجارت و سرمایہ کاری، تعلیم، دفاع، موسمیاتی تبدیلی، انفارمیشن ٹیکنالوجی(آئی ٹی)اور بحری امور سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے اور دوطرفہ تعلقات کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جمعرات کو یہاں وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے کہا کہ پاکستان اور ناروے کے درمیان دوطرفہ تجارت اس وقت دونوں ممالک کی معیشتوں کی استعداد سے کم ہے اور موثر اقدامات کے ذریعے اسے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔ یہ دورہ 2016 کے بعد ایک دہائی میں ناروے کے کسی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان ناروے کی کمپنیوں کیلئے سرمایہ کاری کے وسیع مواقع پیش کرتا ہے اور یہ امر خوش آئند ہے کہ ناروے کی متعدد معروف کمپنیاں پاکستان میں سرمایہ کاری کررہی ہیں۔ انہوں نے ناروے کی کمپنی یارا انٹرنیشنل اور پاکستان کی ایک مقامی کھاد کمپنی کے درمیان پلانٹ نیوٹریشن کے شعبے میں قائم کیے جانے والے مشترکہ منصوبے کو ایک مثالی منصوبہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی گرم جوش، تعمیری اور جامع بات چیت کے دوران مختلف وزارتوں کے درمیان زیر التوا متعدد معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز)کو جلد حتمی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران ناروے کیلئے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ بحری امور میں تعاون کے حوالے سے محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دنیا میں جہازوں کی ری سائیکلنگ کی بڑی سہولیات میں سے ایک کا حامل ہے اور اس کا تزویراتی محل وقوع اسے ناروے سے آنے والے جہازوں کیلئے اس بحری خطے میں سب سے زیادہ مسابقتی اور قریب ترین جہاز ری سائیکلنگ مرکز بناتا ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ناروے نے عوامی سطح پر روابط بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے جبکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کیلئے پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں پاک-ناروے پارلیمانی دوستی گروپس بھی قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فریقین پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کیلئے قانونی راستوں پر کام جاری رکھنے پر بھی متفق ہیں جبکہ انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی کے تدارک کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ انہوں نے ناروے کے وزیر خارجہ کو تنازعہ جموں و کشمیر سے آگاہ کیا جو طویل عرصے سے حل طلب بین الاقوامی تنازعات میں شامل ہے اور 1948 سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے جبکہ سلامتی کونسل اس حوالے سے متعدد قراردادیں منظور کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کرکے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پہلے سے موجود کشیدہ سکیورٹی صورتحال کو خراب کیا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ ختم کرے اور اپنی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے تحت معاہدے کی پاسداری کرے۔ نائب وزیراعظم نے ناروے کے وزیر خارجہ کو امریکہ اور ایران کے تنازعہ کے حوالے سے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور پرامن حل کے فروغ کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہنے پر ناروے کا شکریہ ادا کیا جبکہ دونوں رہنماﺅں کے درمیان علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیلئے مسلسل رابطہ بھی برقرار رہا ہے۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔ ناروے کے وزیر خارجہ ایسپن بارتھ ایدے نے اس موقع پر ناروے میں مقیم پاکستانی تارکین وطن کی خدمات کو اجاگر کیا اور ای ایف ٹی اے-پاکستان فریم ورک کے ذریعے تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی حمایت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں