عالمی امن کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت انتہائی اہم ہے،ترک صدر

استنبول (05 جولائی 2026)ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ عالمی امن کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت انتہائی اہم ہے امن اور خوشحالی کیلئے کوششوں کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے، پاکستان کے اقدامات قابل ستائش ہیں،ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے، خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے متعلقہ وزارتیں قریبی روابط جاری رکھیں گے جبکہ و زیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ صدر اردوان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ملا،پاکستان اور ترکیہ کے عوام کے درمیان قلبی تعلق ہے، جنگ ہو یا قدرتی آفات ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، مظفر گڑھ اور سیلاب سے متاثرہ دوسرے علاقوں میں ترکیہ کی مدد تاریخ کا حصہ ہے، زلزلہ زدہ علاقوں میں سماجی اور معاشی ترقی کیلئے ترکیہ کے تعاون کے مشکور ہیں۔ہفتہ کو ترک صدر رجب طیب اردوان نے استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف کا سرکاری استقبالیہ دیا ۔دونوں ممالک کے رہنماﺅں کے درمیان ملاقات کے بعد ترک صدر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وہ شاندار استقبال اور بھرپور میزبانی پرصدر رجب طیب اردوان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے استنبول کو خوبصورت شہر اور مشرق و مغرب کا حسین امتزاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام ایک دوسرے سے گہری محبت اور وابستگی رکھتے ہیں ۔ دونوں کے درمیان قلبی تعلق ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ترکیہ کی جنگ آزادی میں برصغیر کے مسلمانوں نے بھرپور حمایت کی اور ماں بہنوں نے اپنے زیورات تک عطیہ کردیے ۔ یہ منفرد تعلق مشترکہ عقیدے، ثقافت، تاریخ، باہمی اخوت اور قربانیوں کی بنیاد پر استوار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی ایک شاندار تاریخ ہے۔ دونوں ممالک نے ہمیشہ ہر مشکل میں ایک دوسرے کا بھر پور ساتھ دیا۔ جنگ ہو یا زلزلہ ، قدرتی آفات ہوں یا سیلاب، ترکیہ نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ مظفر گڑھ اور سیلاب سے متاثرہ دوسرے علاقوں میں ترکیہ کی مدد تاریخ کا حصہ ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان خود اپنی اہلیہ کے ہمراہ سیلاب متاثرہ مظفر گڑھ آئے اور ترک صدر کی اہلیہ نے اپنے گلے کا ہار تک متاثرین کیلئے عطیہ کردیا ،ان کے اس عمل نے پاکستان کے عوام کے دل جیت لیے۔ وزیر اعظم نے قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں جدید ہسپتال اور سکولز قائم کرنے اور سماجی اور معاشی ترقی کے لئے ترکیہ کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم فخر کرتے ہیں کہ پاکستان اور ترکیہ یک جان دو قالب ہیں۔ مولانا جلال الدین رومی اور علامہ اقبال کی فکر ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ وزیر اعظم نے صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ کی تمام شعبوں میں بے مثال ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ترکیہ کے ساتھ اپنی دوستی پر فخر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بی ٹو بی فورم میں ترکیہ کی کاروباری شخصیات سے اہم نشست ہوئی۔ صدر اردوان کے ساتھ جامع اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ ہم نے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری میں اضافے پر گفتگو کی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہم دوطرفہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر کا ہدف حاصل کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ انہوں نے عالمی و علاقائی تنازعات پر دونوں ممالک کے مشترکہ مقف اور تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر دوٹوک موقف رکھنے پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابی ترکیہ کی کامیابی اور ترکیہ کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان اور ترکیہ کی شراکت داری کو نئی جہت دینی ہے۔ قبل ازیں ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ان کے وفد کو خوش آمدید کہتے ہیں ۔ انہوں نے بلوچستان میں گزشتہ روز حادثے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جس میں کئی قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد امن مفاہمتی یادداشت سے پوری دنیا نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں کاوشوں پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور پاکستانی قوم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ترکیہ نے بھی اس کیلئے اپنا تعاون فراہم کیا۔ اور خطے میں امن اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے ترکیہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور امن اور خوشحالی کے لئے کوششوں کی ہمیشہ حمایت جاری رکھیں گے۔ انہوں نے امن ، ترقی اور خوشحالی کےلئے پاکستان کے اقدامات کو قابل ستائش قرار دیا۔ ترک صدر نے کہا کہ اسرائیلی انتظامیہ امن کو سبوتاژ کرنے کیلئے اشتعال انگیز کارروائیاں کر رہی ہے اور اپنی سیاسی بقا کیلئے کشیدگی کو ہوا دی جارہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے تجارت ، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون میں اضافے سے متعلق گفتگو کی۔خصوصی اقتصادی زونز کے حوالےسے متعلقہ وزارتیں قریبی روابط جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت کا حجم پانچ ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ انہوں نے دفاعی تعاون، توانائی، آئی ٹی، ٹرانسپورٹیشن اور منرلز سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے میں ترکیہ کی دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں