ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہےکہ ہم اپنا یورینیم افزودگی کا حق نہیں چھوڑیں گے، انہیں آخر کار ہمارے یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنا پڑے گا۔تہران میں تقریب سے خطاب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی صدر (ٹرمپ)کا کہنا تھا کہ ایران کو غیرمشروط طور پر ہتھیار ڈالنے چاہئیں، امریکی صدر کہتا تھا ایران کو یہ حق نہیں، ایران کو وہ حق نہیں، پھر امریکی صدر نے تقریر کی اور کہا ایران کو یہ حق حاصل ہے، اور اسے یہ رکھنے کا بھی حق ہے، امریکی صدر نے اپنے سابقہ مؤقف کے مقابلے میں 180 ڈگری کا یوٹرن لے لیا ہے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ تسلیم کرلیا ہےکہ وہ ہمارے حقوق کو نظر انداز نہیں کرسکتے، امید ہے مذاکرات میں شریک لوگ اس عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانےکے قابل ہوں گے، بادشاہت پسند گروہ نہیں چاہتےکہ ملک پُرسکون ماحول میں آگےبڑھے یاعوم کی زندگیاں بہتر ہوں، جو بھی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ نیتن یاہو کے راستے پر چل رہا ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران لکھ کر دے چکاہے کہ ایٹم بم نہیں بنائےگا لیکن اپنا یورینیم افزودگی کا حق نہیں چھوڑیں گے۔ یہ مؤقف تہران کی پہلے سے موجود پالیسی کے عین مطابق ہے، کیونکہ انقلاب اسلامی کے مرحوم سپریم لیڈر کئی برسوں سے یہ کہتے آئے تھے کہ ایران نہ جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے اور نہ ہی اس کا ارادہ رکھتا ہے، جب امریکا نے اس مؤقف کو تحریری شکل دینے کی درخواست کی تو ایرانی فریق نے معاہدے پر دستخط کر دیے۔
ہم اپنا یورینیم افزودگی کا حق نہیں چھوڑیں گے، ایرانی صدر