ایس ایم ایز کی ترقی کیلئے حکومتی سرپرستی اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے‘ شہباز شریف

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم شہباز شریف نے ایس ایم ایز کیلئے طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ سکیم پر کسی بھی بینک کو عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی،ایس ایم ایز کی استعداد کار میں اضافے، مہارتوں کی بہتری اور کاروبار کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔ جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت برآمدات کرنے والے ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کے حوالے سے اعلی سطحی اجلاس ہوا۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا رانا تنویر حسین، احسن اقبال، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، علی پرویز ملک، اویس احمد خان لغاری، وزیراعظم کے مشیر ہارون اختر، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی، پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار علی بھٹی، چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے تجارت جاوید حنیف خان، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد نے اور متعلقہ اعلی سرکاری حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو ایس ایم ایز کے نمائندوں کے ساتھ حالیہ مشاورتی نشستوں اور ان کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے رعایتی فنانسنگ سکیم پر کسی بھی بینک کو عمل درآمد سے انحراف کی اجازت نہیں دی جائے گی، ایس ایم ایز کو طویل مدتی فنانسنگ کی سہولت سے استفادہ کرنے کے لیے 80 فیصد برآمدات کی شرط ختم کی جائے،ایس ایم ایز کی ترقی کے لیے حکومتی سرپرستی اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے،ایس ایم ایز کی استعداد کار میں اضافے، مہارتوں کی بہتری اور کاروبار کے فروغ کے لیے حکومت ہر ممکن معاونت فراہم کرے گی۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ برآمد کنندگان کی سہولت کے لیے ایکریڈیٹیشن کے معیار، لیبارٹریز کی توسیع اور دیگر ضابطہ جاتی طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے،برآمد کنندگان کو ان کی دہلیز پر سہولیات کی فراہمی کے لیے جدید لیبارٹریز قائم کی جائیں ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مشاورتی نشستوں میں ٹیکسوں ، ریفنڈز، صوبائی محصولات، ایکریڈیٹیشن، لاجسٹکس، ادائیگیوں اور فنانسنگ سے متعلق مسائل زیر بحث آئے، پاکستان میں برآمدات سے وابستہ ایس ایم ایز کی تعداد تقریبا 17 ہزار ہے، سٹیٹ بینک آف پاکستان کے یکم نومبر سے ایس ایم ای سیکٹر کیلئے قرضوں تک آسان رسائی کے پورٹل کے اجرا کے بعد 10,000 سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئیں ،ایکسپورٹ فائنانس سکیم میں ایس ایم ای سیکٹر اور نئے ایکسپورٹرز کیلئے 300 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ، طویل مدتی ترقیاتی فنانسنگ فیسلٹی (LTGFF) کیلئے اس سال 350 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،افریقی ممالک کو پاکستانی کو برآمدات بڑھانے کے حوالے سے اقدامات لیے جارہے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں