سندھ حکومت گونگے بہرے افراد کو میرٹ کے مطابق فوری طور پر ملازمتیں فراہم کرے، ڈیف ایسوسی ایشن

لاڑکانہ (بیورو رپورٹ) معذوری کا 5 فیصد کوٹہ عام لوگوں کو بیچ کر گونگے بہرے کب تک بنیادی حقوق سے محروم رکھے جائیں گے ؟ سندھ کے گونگے بہرے لوگ وہی مراعات، سہولتیں چاہتے ہیں جو صوبہ پنجاب میں ہیں۔ لاڑکانہ کے گونگے بہروں کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ 5 فیصد معذوری کوٹہ میں خصوصی نوجوانوں کو پہلے ہی ظلم کا نشانہ بنایا گیا ہے اور گونگے بہرے کوٹہ نارمل لوگوں کو دیا گیا ہے۔ گونگے بہرے نوجوان بھوک اور بے روزگاری کی وجہ سے کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے پڑھے لکھے گونگے بہرے لوگ سرکاری نوکریاں نہ ملنے کی وجہ سے ذہنی اذیت کا شکار ہو چکے ہیں۔ سندھ کے ہر محکمے میں دی گئی 5 فیصد معذور کوٹا کی نوکریاں دوسرے صحت مند نارمل لوگوں کو فروخت کی جارہی ہیں، معذوروں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار گونگے بہروں کی سماجی تنظیم لاڑکانہ ڈیف ایسوسی ایشن کے مرکزی رہنما پنہل خان سانگی، خلیل الرحمان عباسی، اشفاق لغاری، پپن پیچوہو اور دیگر نے اپنے مطالبات کے حق میں کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت گونگے بہرے افراد کو میرٹ کے مطابق فوری طور پر ملازمتیں فراہم کرے، گونگے بہروں میں سے غریب لڑکیوں کو سلائی کڑھائی کی مشینیں فراہم کی جائیں اور بہت سے گونگے بہرے لوگوں کے علاج کے لیے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے خصوصی معائنہ ٹیم کو بلایا جائے۔ سندھ ہائی کورٹ اور لاڑکانہ کی عدالت ان لوگوں کا سخت نوٹس لے جو گونگے بہرے لڑکوں یا لڑکیوں کو گھروں میں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ لاڑکانہ شہر کے خصوصی نوجوانوں کے لیے الگ کھیل کا میدان مختص کر کے تعمیر کیا جائے۔ گونگے بہروں کے مرکزی دفتر کی خستہ حال عمارت کی تزئین و آرائش کی جائے۔ لاڑکانہ شہر میں ایک ہزار سے زائد گونگے بہرے ہیں جن میں چار سو گونگی بہری لڑکیاں اور سات سو سے زائد گونگے بہرے نوجوان ہیں، جنہیں قومی شناختی کارڈ بنانے کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔ سکھر جانے کیلئے ہزاروں روپے کے اخراجات سے بچانے کے لیے لاڑکانہ میں گونگے بہرے ٹیسٹنگ مشین لگائی جائے۔ سابق وزرائے اعظم شہید بے نظیر بھٹو اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جائے پیدائش لاڑکانہ شہر میں گونگے بہرے ٹیسٹنگ مشین نہ ہونے کی وجہ سے لاڑکانہ کے بہرے گونگے خصوصی نوجوان سات سے دس ہزار روپے تک کرایہ کی خطیر رقم خرچ کرنے پر مجبور ہیں اور بار بار ٹیسٹ کروانے پر مجبور ہیں۔ اس کے لیے لاڑکانہ ڈسٹرکٹ ڈویژن بڑا شہر ہے، اس لیے گونگے بہرے افراد کو اپنے ہی شہر لاڑکانہ میں ٹیسٹ دینے کے لیے مشین کی سہولت فراہم کی جائے، جس سے بہرے گونگے کا ٹیسٹ ہو سکے اور پھر انھیں بہرے گونگے کا سرٹیفیکیٹ دیا جائے، تاکہ وہ اپنا قومی شناختی کارڈ تیار کر سکیں، جو کہ ان کا بنیادی آئینی اور قانونی حق بھی ہے۔ صوبہ پنجاب کی طرح سندھ صوبے کے خصوصی افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام شامل کرکے خصوصی غریب، مسکین، لاوارث، یتیم اور بے سہارا نوجوانوں کو شامل کرکے معاوضہ دیا جائے۔ لاڑکانہ ایسوسی ایشن آف دی ڈیف کے گونگے بہرے رجسٹرڈ نوجوانوں کی بہتری کے لیے خصوصی فنڈز فراہم کرے۔ گونگے بہروں کی تنظیم کے رہنماؤں پنہل خان سانگی، خلیل الرحمان عباسی اور دیگر نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، ایم این اے آصفہ بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، متعلقہ صوبائی وزراء اور سیکرٹریز سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گونگے بہروں کی شکایات کا ازالہ کریں ورنہ دیگر صورت معذور افراد اپنے حقوق کے حاصلات کے لیے بھرپور احتجاج کریں گے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں