تربت (سٹاف رپورٹر) جامعہ تربت کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے زیر اہتمام اور بلوچستان ایمرجنگ لیڈرز انیشی ایٹیو (BELI) کے تعاون سے یونیورسٹی کے اسمارٹ کلاس روم میں “اے آئی ایجوکیشن اور مستقبل کی انسانی صلاحیتیں” کے عنوان سے ایک معلوماتی انٹرایکٹو سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ بحث کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ اگر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) تمام کام انجام دے سکتی ہے تو پھر انسانوں کو کن صلاحیتوں پر توجہ دینے کی ضروت ہے؟ اس فکری نشست میں مختلف شعبہ جات کے اساتذہ کرام اور طلبہ و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے بطور مہمان خاص خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر گل حسن نے کہا کہ جامعہ تربت دسمبر 2026 کے اختتام تک اپنے تمام آپریشنل، انتظامی، تدریسی اور مالیاتی امور کو مکمل ڈیجیٹل آٹومیشن سسٹم پر منتقل کر ے گی۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کے اسٹریٹجک پلان 2030-2026 کے تحت آئی ٹی، اے آئی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ نوجوانوں کو نہ صرف بااختیار بنایا جا سکے بلکہ وہ خود روزگار پیدا کر کے قومی معیشت میں اپنا فعال کردار ادا کر سکیں۔ وائس چانسلر نے سیشن کے کامیاب انعقاد پر بی ای ایل آئی کے نمائندوں، مقررین اور منتظمین کی کاوشوں کو سراہا -سیشن کے کلیدی مقررین، فل برائیٹ پی ایچ ڈی اسکالر و فیکلٹی ممبر مختار حسین، ڈاکٹر مظہر محسن (بذریعہ ویڈیو لنک)، بالاچ خان اور شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین انجینئر بلال الرحمٰن نے اے آئی سسٹمز، لارج لینگویج ماڈلز (LLMs) اور نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) کی بڑھتی ہوئی افادیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ مقررین نے زور دیا کہ جامعات کو چاہیے کہ وہ اپنی تدریسی مواد اور طریقہ کار کو انڈسٹری کے جدید ترین رجحانات سے ہم آہنگ کریں تاکہ طلباء کو تکنیکی و پیشہ ورانہ مہارتوں کے ساتھ ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا احساس بھی دلایا جا سکے۔ ڈسکشن کے دوران اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ انسانوں کو اے آئی کو اپنا حریف سمجھنے کے بجائے ایک معاون و مددگار ٹول کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔ سیشن کی نظامت کے فرائض شعبہ کمپیوٹر سائنس کے طالب علم اور بی ای ایل آئی کے ڈپٹی سی ای او جان شیر امیر نے انجام دیے۔
آرٹیفیشل انٹیلی جنس ہمارے مستقبل کو کیسے بدلے گی؟ جامعہ تربت میں “اے آئی ایجوکیشن اور مستقبل کی انسانی صلاحیتیں” کے موضوع پر انٹرایکٹو سیشن
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل