اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزراء نے وزیراعظم شہبازشریف کی فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام 2 حصوں میں تقسیم ہے، پہلے حصے میں رجسٹرڈ ہونا ہے، آپ نے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم سے سی این آئی سی نمبر بھیجنا ہے، پھر آپ نے اپنی بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن بتانی ہے، آپ کو اپنے صوبے یا شہر کا بھی بتانا ہے، صوبہ آپ نے وہ ڈالنا ہے جس میں آپ کی گاڑی یا بائیک رجسٹرڈ ہے،تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، اسکیم سے صرف مستحق ہی مستفید ہو سکیں گے،ٹو ویلر، تھری ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑی والوں کو ریلیف دیا جائے گا، ٹو ویلر کیلئے 20 لٹر پیٹرول پر ریلیف ہے، 800 سی سی تک کیلئے 30 لٹر پیٹرول پر سبسڈی ہے جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہاہے کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، کیا اچھا ہوتا وہ ماڈل گورننس کی مثالیں سامنے لے کر آتے، بدقسمتی سے ان کی دھرنوں کی کال کھوکھلی کال ہے،پی ٹی آئی اپنے کسی ایک ماڈل پراجیکٹ کی نشاندہی کر دے،پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 سالوں میں صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کیا اقدامات کئے؟، پی ٹی آئی والوں کے کھوکھلے نعروں کی کوئی حیثیت نہیں ۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ ، علی پرویز ملک اور شزہ فاطمہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔وفاقی وزیر نے شزا فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ ٹو ویلر، تھری ویلر اور 800 سی سی تک کی گاڑی والوں کو ریلیف دیا جائے گا، ٹو ویلر کیلئے 20 لٹر پیٹرول پر ریلیف ہے، 800 سی سی تک کیلئے 30 لٹر پیٹرول پر سبسڈی ہے۔انہوں نے بتایا ہے کہ ہم نے توازن رکھنا ہے کہ پروگرام سے زیادہ سے زیادہ شہری مستفید ہو سکیں ، یہ پروگرام 2 حصوں میں تقسیم ہے، پہلے حصے میں رجسٹرڈ ہونا ہے۔شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ آپ نے اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سم سے سی این آئی سی نمبر بھیجنا ہے، پھر آپ نے اپنی بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن بتانی ہے، آپ کو اپنے صوبے یا شہر کا بھی بتانا ہے، صوبہ آپ نے وہ ڈالنا ہے جس میں آپ کی گاڑی یا بائیک رجسٹرڈ ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ بائیک یا گاڑی کی رجسٹریشن کی تاریخ ضروری ہے، معلومات میں کوئی کمی ہوئی تو میسج آئے گا کہ کیا کمی ہے، یہ پراسس ایک بار ہی کرنا ہے، اس سے آپ رجسٹرڈ ہو جائیں گے، پھر جب آپ پیٹرول لینے جائیں گے تو آپ نے 9771 پر TOK لکھ کر میسج کرنا ہے۔انہوں نے کہاکہ اپنا شناختی کارڈ نمبر یا کوئی بھی ڈیٹا کسی سے بھی شیئر نہیں کرنا، حکومت شہریوں سے نہ کوئی ڈیٹا مانگے گی، نہ ہی کوئی چارجز مانگے گی، اس میں جو بھی غلطیاں ہوں گی ان کو دیکھیں گے اور ٹھیک کرتے جائیں گے۔ اس موقع پر وزیراطلاعات نے کہاکہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت ہے کہ اس سہولت کے بعد کرایوں میں اضافہ نہ ہو، کفایت شعاری کے لئے بہت سے اقدامات کئے جا رہے ہیں ، کچھ کفایت شعاری اقدامات کو جاری رکھا گیا اور کچھ پر جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے، کیا اچھا ہوتا وہ ماڈل گورننس کی مثالیں سامنے لے کر آتے، بدقسمتی سے ان کی دھرنوں کی کال کھوکھلی کال ہے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی اپنے کسی ایک ماڈل پراجیکٹ کی نشاندہی کر دے، انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں ساڑھے 12 سالوں میں صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے کیا اقدامات کئے؟، پی ٹی آئی والوں کے کھوکھلے نعروں کی کوئی حیثیت نہیں ۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پی ٹی آئی دھرنوں کی سیاست چھوڑ کر عوام کی خدمت کی سیاست اپنائے، پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں کوئی ایک ایسا منصوبہ دکھا دے جس کی مثال دی جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ خدمت کی سیاست کو شعار بنایا، وزیر اطلاعات نے کہاکہ دانش سکول اور میٹرو بس جیسے مثالی منصوبے دیئے،پنجاب حکومت کے منصوبوں کو پوری دنیا میں پذیرائی مل رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ پنجاب کے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے بیرون ملک یونیورسٹیوں میں جا رہے ہیں انہوں نے کہاکہ خیبر پختونخوا کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کی سہولتیں کیوں میسر نہیں ؟۔ وزیر اطلاعات نے کہاکہ : وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کے لئے بجٹ میں گنجائش پیدا کی جائے گی، تنخواہ دار طبقے کے لئے ٹیکس سلیبس میں کمی کی گئی۔ انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹرز نے بھی بجٹ کی تعریف کی، آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے ہم نے ایسی اصلاحات کیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا،۔ وفاقی وزیر نے کہاکہ جنگ کے باعث بحری جہازوں کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے، آئل سپلائی کی وجہ سے لوڈ شیڈنگ کو بھی کم سے کم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بجلی کے حوالے سے تاریخی ریفارمز کئے گئے ہیں ، آئی پی پیز کے مسئلے کو حل کیا گیا، عوام کے لئے گنجائش پیدا کی گئی،پاور سیکٹر کے حوالے سے اصلاحات کی جا رہی ہیں ، پاور سیکٹر ریفارمز پر ہماری پوری توجہ ہے۔وزیرِ اطلاعات عطا تارڑ نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے اسکیم کا اجرا مستحق لوگوں کیلئے کیا ہے، تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، اسکیم سے صرف مستحق ہی مستفید ہو سکیں گے۔انہوں نے کہا کہ بڑا شفاف پراسس اپنایا گیا ہے، وزیرِ اعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں ، تمام وزارتیں اور محکمے اس کیلئے 24 گھنٹے دستیاب رہیں گے۔علی پرویز ملک نے کہاکہ وزیرِ اعظم کبھی نہیں چاہیں گے کہ اپنے کسی شہری پر بوجھ ڈالیں ، پاکستان 90 فیصد توانائی کی ضرورت درآمد کرتا ہے، حکومت اور وزیرِ اعظم نے پہلے بھی سبسڈی میں وسائل کا انتظام پیشگی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم نے ہمیں اضافی وسائل اکٹھے کرنے کی ہدایت کی تھی، اس وقت بھی ٹارگیٹڈ ریلیف کا انتظام ترتیب دیا گیا تھا جو 30 جون تک چلا۔
وزیراعظم شہبازشریف کی فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے تفصیلات
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل