امید کی سواری RHC وندر کے ڈرائیورز

تحریر: زبیر بلوچ
کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ایمبولینس کی آواز محض ایک سائرن نہیں ہوتی بلکہ یہ اس خاندان کے لیے امید کی آواز ہوتی ہے جس کا کوئی پیارا زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو۔ رورل ہیلتھ سینٹر (RHC) وندر سے وابستہ تین ایمبولینس ڈرائیورز امان اللہ رونجہ ، ہارون انگاریہ ، میاں خان بلوچ اسی امید کو منزل تک پہنچانے والے وہ خاموش خدمت گار ہیں جن کی ذمہ داریاں صرف اسٹیئرنگ سنبھالنے تک محدود نہیں۔ شب و روز ہنگامی صورتحال میں خدمات انجام دینا مریض کو بروقت اور بحفاظت اسپتال پہنچانا مشکل حالات میں ایمبولینس کو رواں رکھنا اور شدید نوعیت کے مریضوں کو وندر سے کراچی کے بڑے اسپتالوں تک لے جانا ان کے روزمرہ فرائض کا حصہ ہے۔ وندر میں جب کسی مریض کی حالت ایسی ہو کہ اسے مزید بہتر علاج کے لیے کراچی ریفر کیا جائے تو اس لمحے مریض کے لواحقین کی تمام امیدیں ایمبولینس اور اس کے ڈرائیور سے وابستہ ہوجاتی ہیں۔ وندر سے کراچی کا سفر صرف فاصلے کا نام نہیں بلکہ اس دوران ٹریفک کی روانی ، سڑکوں کی خستہ صورتحال ، مختلف مقامات پر ٹریفک کا دباو ، مسلسل ڈرائیونگ اور ایک ایسے مریض کی ذمہ داری جو پہلے ہی نازک حالت میں ہو ڈرائیور کے لیے ایک مسلسل امتحان ہوتا ہے۔ اس دوران ڈرائیور کو صرف گاڑی نہیں چلانی ہوتی بلکہ ہر لمحہ اس بات کا خیال رکھنا ہوتا ہے کہ مریض کو کسی اضافی خطرے کے بغیر جلد از جلد اسپتال پہنچایا جائے۔ یہ ڈرائیورز مریض کو صرف کراچی پہنچانے تک اپنا فرض نہیں سمجھتے بلکہ کراچی کے اسپتال پہنچنے کے بعد بھی مریض اور اس کے لواحقین کو تنہا چھوڑ کر واپس آنا ان کا معمول نہیں مریض کے اسپتال پہنچنے ضروری کارروائی مکمل ہونے اور ایڈمٹ ہونے تک ڈرائیور اپنی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ ایک طرف مریض کی حالت دوسری طرف لواحقین کی پریشانی اور تیسری طرف اسپتال کے مراحل ایسے حالات میں ڈرائیور کی موجودگی خاندان کے لیے ایک بڑے سہارے سے کم نہیں ہوتی۔ ان تینوں ڈرائیورز کی خدمات کا ایک اور مشکل پہلو ایمبولینسوں کی ٹوٹ پھوٹ اور محدود سہولیات کے باوجود سروس کو جاری رکھنا ہے۔ ایمبولینس ایک عام گاڑی نہیں ہوتی اسے ہنگامی حالات میں ہر وقت تیار رہنا پڑتا ہے کیونکہ کسی بھی لمحے کسی مریض کو فوری منتقلی کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ گاڑی کے پرزوں ، فنی خرابیوں اور مسلسل استعمال کے باعث پیدا ہونے والے مسائل کے باوجود یہ ڈرائیور اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کرتے ہیں کہ ایمبولینس کھڑی نہ رہے اور ضرورت مند مریض بروقت طبی سہولت تک پہنچ سکے۔ یہی وہ پہلو ہے جو ان کی ڈیوٹی کو محض سرکاری ملازمت سے بڑھ کر ایک ذمہ دارانہ عوامی خدمت بنا دیتا ہے۔ رات کا وقت ہو یا دن کی سخت گرمی اچانک ایمرجنسی کال آئے یا کسی مریض کو فوری طور پر کراچی منتقل کرنا پڑے ان ڈرائیورز کے لیے وقت کی کوئی پابندی نہیں ہوتی۔ ایک طرف اپنے گھر اور ذاتی مصروفیات دوسری طرف کسی اجنبی خاندان کی زندگی بچانے کی امید وہ اکثر اپنی ذمہ داری کو ترجیح دیتے ہوئے سڑک پر نکل پڑتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایمبولینس کے ڈرائیور کو صرف ڈرائیور سمجھنا اس کی اصل ذمہ داری کو کم کرکے دیکھنے کے مترادف ہے۔ امان اللہ رونجہ ، ہارون انگاریہ اور میاں خان بلوچ ان لوگوں میں شامل ہیں جو ہنگامی حالات میں خاموشی سے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ ان کی خدمات کا شور نہیں ہوتا ان کے نام اخبارات کی بڑی سرخیوں میں نہیں آتے مگر جب کسی خاندان کے لیے ایک ایک لمحہ قیمتی ہوتا ہے تو یہی لوگ اپنی ڈرائیونگ حوصلے اور ذمہ داری کے ذریعے اس خاندان کو امید کی منزل تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ RHC وندر کی ایمبولینسوں کی حالت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔ مسلسل استعمال ہونے والی ایمبولینسوں کی بروقت سروسنگ ، ضروری مرمت ، معیاری پرزوں کی فراہمی اور انہیں ہر وقت ہنگامی سروس کے لیے تیار رکھنا متعلقہ ذمہ داروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر ایک ایمبولینس معمولی خرابی کے باعث بھی سڑک سے ہٹ جائے تو اس کا براہِ راست اثر کسی ایسے مریض پر پڑسکتا ہے جس کے لیے چند منٹ بھی انتہائی اہم ہوتے ہیں۔ یہ تینوں ڈرائیور دراصل اس نظام کی وہ کڑی ہیں جو RHC وندر اور بڑے اسپتالوں کے درمیان مریض کو جوڑتی ہے۔ ان کی محنت کا اعتراف صرف الفاظ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان کی عملی مشکلات ایمبولینسوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ضروری سہولیات کی کمی کو بھی سنجیدگی سے حل کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ ہنگامی طبی نظام صرف ڈاکٹر نرس اور اسپتال کی عمارت سے مکمل نہیں ہوتا اس نظام کو متحرک رکھنے میں ایمبولینس اور اسے چلانے والے فرض شناس ڈرائیور کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ آخر میں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ جب وندر سے کراچی تک کی کسی سڑک پر ایمبولینس کا سائرن گونجتا ہے تو اس کے پیچھے صرف ایک گاڑی نہیں چل رہی ہوتی بلکہ کسی خاندان کی امید کسی ماں کی دعا کسی باپ کی بے قراری اور کسی مریض کی زندگی کو بچانے کی کوشش سفر کررہی ہوتی ہے۔ امان اللہ رونجہ ، ہارون انگاریہ اور میاں خان بلوچ اسی سفر کے خاموش محافظ ہیں جو اپنی ڈیوٹی کو محض ملازمت نہیں بلکہ انسانی خدمت سمجھ کر نبھا رہے ہیں۔ ایسے فرض شناس اہلکار یقیناً حوصلہ افزائی سہولیات اور بھرپور سرکاری توجہ کے مستحق ہیں۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں