میلسی کی سڑکیں: صبر کا امتحان یا ترقی کا جنازہ؟”

> سفر میں خاردار راہیں ملیں تو کیا کیجیے
> ہر قدم پر آزمائش ملیں تو کیا کیجیے
> وعدوں کے قبرستان میں دفن ہیں امیدیں ہماری
> سڑکوں پر گڑھے ملیں تو کیا کیجیے
میلسی… نام سنتے ہی ذہن میں علم، ادب اور محبت کرنے والے کا شہر آتا ہے۔ مگر آج یہی میلسی اپنی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے پورے پنجاب میں مثال بن چکا ہے۔ اور وہ بھی ایسی مثال جو عبرت کے لیے کافی ہے۔
روزانہ ہزاروں طلبہ، مریض، مزدور اور تاجر ان سڑکوں پر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر سفر کرتے ہیں۔ ایمبولینس گڑھوں میں پھنس جاتی ہے، موٹر سائیکل سلپ ہوتی ہے، اور گاڑیوں کے پرزے جواب دے جاتے ہیں۔
جب لاہور سے مہمان آیا تو میلسی کی سڑک نے کیا کہا؟
چند روز قبل معروف عالم دین علامہ ناصر مدنی صاحب لاہور سے میلسی تشریف لائے۔ ایک کروڑ 30 لاکھ کی نئی گاڑی میں بیٹھ کر انہوں نے کہا “15 منٹ میں میلسی پہنچ جائیں گے”۔
لیکن چند کلومیٹر بعد گاڑی نے جیسے خود بول کر کہا: “اگر چولیں نہ ہل گئیں تو اسے میلسی کی سڑک کون کہے گا”
اجتماع سے خطاب میں علامہ صاحب کی آنکھیں نم تھیں۔ انہوں نے کہا:
“میں باہر سے آیا ہوں تو ایک سفر میں ہی سمجھ گیا۔ میلسی والوں کو سلام ہے جو روزانہ یہ عذاب برداشت کرتے ہیں۔ آپ کا صبر پہاڑ جیسا ہے”
> وعدے سارے ہوا ہوئے، ترقی کا نام مٹ گیا
> جس شہر میں ووٹ جیتے، اسی شہر کی سڑک مٹ گئی
کون سی سڑکیں چیخ چیخ کر مدد مانگ رہی ہیں؟
1. میلسی – وہاڑی – کرم پور مین شاہراہ:* ضلع کی لائف لائن۔ آج قبرستان لگتی ہے۔ گڑھے اتنے گہرے کہ ٹرک الٹ جاتے ہیں۔
2. میلسی سے مترو – سنڈھل موڑ اور ملکو ہسپتال روڈ: دیہات کے بچے سکول نہیں پہنچ پاتے۔ بارش میں یہ سڑک دریا بن جاتی ہے۔
3. اندرون شہر: مائنر روڈ، پھاٹک تا کچہری روڈ، سبزی منڈی، غلہ منڈی۔ شہر کا دل ہی بند ہے۔ دکاندار کہتے ہیں “گاہک آتا نہیں، جھٹکوں سے ڈرتا ہے”۔
سوال صرف ایک: کھچی برادران کہاں ہیں؟
میلسی کا فخر کھچی برادران
اورنگزیب خان کھچی – وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اور سابق صوبائی وزیر
جہانزیب خان کھچی- ایم پی اے
جب وزارت بھی آپ کی، نمائندگی بھی آپ کی، تو پھر میلسی کی سڑک یتیم کیوں؟
عوام، تاجر برادری، طلبہ اور سماجی تنظیموں کا حکومت پنجاب، وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی، ایم پی اے جہانزیب خان کھچی، کمشنر ملتان اور ڈپٹی کمشنر وہاڑی سے پرزور مطالبہ ہے:
1. 7 دن میں سروے، 90 دن میں تعمیر کا ٹائم فریم دیں
2. پیچ ورک نہیں، مکمل نئی اور معیاری سڑکیں بنائیں
3. فنڈز جاری کر کے کام کا آغاز فوری کریں
علامہ ناصر مدنی نے آخر میں دعا کے ساتھ درخواست کی:
“میں کھچی برادران سے ہاتھ جوڑ کر کہتا ہوں۔ میلسی کی سڑک ایسی بنا دو جیسی سسرال کی سڑک ہوتی ہے۔ وہاں ہر گڑھا بھی پھول لگتا ہے۔ میلسی کے عوام بھی یہی عزت چاہتے ہیں”
> ڈامر کی ایک پرت مانگتے ہیں ہم
> ترقی کا ایک ثبوت مانگتے ہیں ہم
> وٹ تو دے چکے، اب حق مانگتے ہیں ہم
میلسی کے عوام اب نعرے نہیں، سڑک چاہتے ہیں۔ کیا کوئی سننے والا ہے؟
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں