7 ستمبر تاریخ کے اوراق پر ثبت ایک تابندہ باب

7 ستمبر 1974 پاکستان کی آئینی، اسلامی اور پارلیمانی تاریخ کا ایک ایسا یادگار دن ہے جو عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ یہ وہ تاریخی دن ہے جب طویل جدوجہد، مسلسل قربانیوں اور علمائے کرام کی آئینی و جمہوری کاوشوں کے نتیجے میں قادیانی گروہ کو پاکستان کے دستور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ اس تاریخی فیصلے کے پس منظر میں ملک بھر کے علمائے کرام، دینی و سیاسی رہنماو¿ں اور عوام کی ایک طویل جدوجہد شامل تھی، جس نے بالآخر ایک اہم آئینی سنگِ میل کی صورت اختیار کی۔ یہ ایک مسلمہ اور اٹل حقیقت ہے کہ عقیدہ ختمِ نبوت اسلام کے بنیادی عقائد میں شامل اور ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جز ہے۔ اسی بنیادی عقیدے کے تحفظ کے لیے برصغیر کے علمائے کرام نے ہر دور میں علمی، فکری، دعوتی اور آئینی میدان میں بھرپور کردار ادا کیا۔ پاکستان کے قیام کے بعد بھی اس عقیدے کے تحفظ کے لیے مختلف ادوار میں تحریکیں اٹھتی رہیں اور علمائے کرام نے آئینی و قانونی ذرائع سے اپنا مو¿قف پیش کیا۔ 1974 میں پارلیمنٹ کے اندر اس تاریخی معاملے پر ہونے والی کارروائی پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اس مرحلے پر مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود نے اپنی فکری بصیرت، سیاسی حکمتِ عملی، علمی استدلال اور پارلیمانی صلاحیتوں کے ذریعے نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ان کے ساتھ مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد اور دیگر دینی و سیاسی رہنماو¿ں نے بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کیں۔ پارلیمنٹ کے اندر ہونے والی بحث اور سوال و جواب نے اس معاملے کو ایک آئینی اور قانونی نتیجے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ فیصلہ محض ایک سیاسی یا پارلیمانی اقدام نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ملک کے دینی حلقوں کی ایک طویل علمی و آئینی جدوجہد کارفرما تھی۔ علمائے کرام نے اس پورے معاملے کو جذبات کے بجائے آئین، قانون، دلیل اور پارلیمانی طریقہ کار کے ذریعے آگے بڑھایا، جس کے نتیجے میں 7 ستمبر 1974ءکو پاکستان کے دستور میں ایک تاریخی ترمیم عمل میں آئی۔
یہ امر بھی قابلِ توجہ ہے کہ 1974ءکے تاریخی آئینی فیصلے کے بعد بھی قادیانی لابی نے اپنی سرگرمیاں ترک نہیں کیں، بلکہ ختمِ نبوت سے متعلق آئینی دفعات کو متنازع بنانے، کمزور کرنے اور ختم کرنے کے لیے مختلف ادوار میں متعدد کوششیں اور پروپیگنڈے کیے گئے۔ ان آئینی دفعات کو غیر موثر بنانے کے لیے مختلف ذرائع اور بالواسطہ راستے بھی اختیار کیے گئے، تاہم ملک کی سب سے بڑی سیاسی و مذہبی جماعت جمعیت علماء اسلام کی قیادت نے ہر دور میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر عقیدہ ختمِ نبوت اور پاکستان کے اسلامی تشخص کے تحفظ کے لیے مدبرانہ اور چشم کشا کردار ادا کیا۔ 1974ءمیں آئین میں اسلامی دفعات کے وجود سے لے کر آج تک ان کے دفاع کی پارلیمانی جدوجہد میں اکابرینِ جمعیت علماءاسلام کا جاندار اور اصولی کردار تاریخ کا ایک روشن اور زریں باب ہے۔ آج بھی جمعیت علماءاسلام آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عقیدہ ختمِ نبوت سے متعلق آئینی دفعات کے تحفظ کے لیے اپنا بھرپور اور ہراول کردار ادا کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور پارلیمانی قوتوں کو یہ حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ عقیدہ ختمِ نبوت مسلمانوں کے بنیادی ایمانی عقائد میں شامل ہے۔ اس معاملے کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھتے ہوئے تمام ترجیحات پر مقدم رکھا جانا چاہیے۔ اختلافِ رائے جمہوری سیاست کا حصہ ہے، مگر ایسے بنیادی معاملات جن کا تعلق ملک کے آئینی تشخص اور مسلمانوں کے بنیادی عقائد سے ہو، ان پر متفق ہونا چاہیے۔
7 ستمبر ہمیں صرف ایک تاریخی فیصلے کی یاد نہیں دلاتا بلکہ یہ روشن پیغام بھی دیتا ہے کہ بڑے قومی اور دینی مسائل جذبات، تصادم اور انتشار کے بجائے علم، دلیل، آئین، قانون اور پارلیمانی جدوجہد کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ہمارے اکابر علماءنے جس بصیرت، حکمت، تدبر اور سیاسی شعور کے ساتھ اس تاریخی مرحلے میں اپنا کردار ادا کیا، وہ آج کی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ہر سال 7 ستمبر کو یومِ تحفظِ ختمِ نبوت اور تجدیدِ عہد کے طور پر منانا دراصل ان اکابر کی لازوال جدوجہد اور قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ اس عزم کی تجدید بھی ہے کہ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے پوری ذمہ داری اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا جائے، جبکہ قومی یکجہتی، باہمی احترام اور ملک کے اسلامی تشخص کے استحکام کو بھی مقدم رکھا جائے۔ 7 ستمبر کا یہ تاریخی دن ہمیں مستقبل کی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے کہ اپنے اکابر کی حکمت و بصیرت کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے عقیدہ ختمِ نبوت کے تحفظ، آئینی اصولوں کی پاسداری اور قومی وحدت کے فروغ کے لیے پرامن اور تعمیری جدوجہد جاری رکھی جائے۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں