رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت درحقیقت عالم انسانیت کے ایسے روشن دور کا آغاز تھی صدر زر داری

اسلام آباد (این این آئی) صدر مملکت آصف علی زر داری اور وزیر اعظم شہبازشریف نے پوری قوم اور عالم اسلام کو نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت باسعادت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دن ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کی یاد تازہ کرتا ہے جس کے ذریعے انسانیت کو ایمان، ہدایت، عدل، رحمت اور اخلاق حسنہ کا کامل راستہ عطا ہوا،حضور ﷺ کی ذات مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغام ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا،پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پرامن اور فلاحی ریاست بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ منگل کو ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے 12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ اللہ تعالی کا بے انتہا احسان ہے کہ اپنے محبوب نبی آخری الزماں حضرت محمد ﷺ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر مبعوث فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت درحقیقت عالم انسانیت کے ایسے روشن دور کا آغاز تھی جہاں جہالت کی تاریکی سے چھٹکارا اورعلم و ہدایت کا اجالا نصیب ہوا، ظلم کا تدارک اور عدل و انصاف کی لازوال داستان رقم ہوئی اور طبقاتی تقسیم کی حوصلہ شکنی کرکے اخوت، مساوات اور بھائی چارے کا فروغ ہوا۔ صدر مملکت نے کہا کہ آپ ﷺ نے اپنے اسوہ حسنہ سے قرآن مجید پر عمل پیرا ہوکر انفرادی اور اجتماعی فلاح اور نجات کے حصول کا وہ انقلاب برپا کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ ﷺ نے ثابت کیا کہ ایک صالح معاشرے کا حصول اعلی فطری اقدار، عدل، رحم، احساس ذمہ داری کو اختیار کرنے اور ارشاد باری تعالی پر عمل کرتے ہوئے تقوی و پرہیز گاری کا مظاہرہ کرنے سے عمل میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ انسانوں کے مابین باہمی احترام اور خیر سگالی کے جذبات کو فروغ دیا جائے، آپ ﷺ نے معاشرے میں کمزور و محروم، یتیم و مسکین اور ضرورت مند افراد کے حقوق کی حفاظت فرمائی اور آپس میں حسن سلوک و بھائی چارے کی تعلیم دی۔ صدر نے کہا کہ 12 ربیع الاول کا تقاضا ہے کہ ہم عشق رسول ﷺ کا اظہار نبی کریم ﷺ کی سیرت و سنت مبارکہ کو اپنے انفرادی و اجتماعی اعمال میں اپنا کر بنی نوع انسان کے لئے مثال بنیں۔ انہوں نے کہا کہ بحیثیت امت محمدی ﷺ ہم پر لازم ہے کہ اپنے معاشرے میں عدل و انصاف، برداشت، بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی اور انسانی وقار کے تحفظ کا عملی مظاہرہ کریں۔ صدر مملکت نے کہا کہ نوجوان نسل کو سیرت طیبہ سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے علم، بلند کردار، محنت اور خدمتِ انسانیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس پر مسرت اور بابرکت موقع پر امت مسلمہ بالخصوص پاکستان کے عوام کیلئے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی ہمیں رسول کریم ﷺ کی سچی محبت، آپ ﷺ کی اتباع اور آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے وطن کو امن، استحکام اور خوشحالی سے ہمکنار کرے اور پوری انسانیت کیلئے خیر و سلامتی کا ذریعہ بنائے۔دریں اثناء12 ربیع الاول 1448ھ کی مناسبت سے اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ وہ 12 ربیع الاول 1448ھ کے بابرکت دن پر پاکستان اور پوری دنیا میں مقیم امت مسلمہ کو سید الانبیا خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت باسعادت پر دلی مبارکباد اور اظہار عقیدت پیش کرتے ہیں ۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ حضور ﷺ کی ذات مطہرہ نے ایمان، علم، اخلاق اور عدل پر مشتمل ایک مکمل و مثالی ضابطہ حیات کا پیغام ایزدی عالم انسانیت تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ اس سال قومی سطح پر ہم اس مبارک دن کونسل نو کا تحفظ، تعبیر اور کردار سیرت النبی کی روشنی میں کے زیر عنوان منا رہے ہیں۔ نوجوان نسل کی بہترین کردار سازی کیلئے ہمیں سچائی، دیانت، محنت، نظم و ضبط، قانون کی پاسداری اور احساس ذمہ داری جیسے اسلامی شعار ان کی تربیت میں شامل کرنا ہوں گے تاکہ وہ سیرت رسول ﷺ کی روشنی سے منور اور علم و تحقیق، محنت و خدمت کے جذبات سے سر شار ہو کر ملک و قوم کی ترقی میں موثر کردار ادا کرسکیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت نے انسانی معاشرے کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایک نئی سمت سے متعارف کروایا۔ آپﷺ نے مکہ مکرمہ میں توحید، تقوی اور اخلاقی پاکیزگی جیسی اقدار کے ذریعے دائمی اصلاح کی بنیاد رکھی اور مدینہ منورہ میں عملی طور پر عدل و مساوات، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق و فرائض سے آگاہ اسلامی معاشرہ قائم کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسوہ حسنہ ﷺ تمام مسلمانوں کی دینی و دنیاوی اصلاح و فلاح اور مثالی کامیابی کیلئے مشعل راہ ہے۔ یقینا رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک دین اسلام کی تعلیمات کا بہترین نمونہ ہے جس کی گواہی قرآن پاک میں موجود ہے۔ سیرت النبی ﷺ بنی نوع انسان کے لئے صدیوں سے ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے باوجود کامل رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے انسانی شعور کو اوج کمال بخشا اور انسانوں کی ذہنی و اخلاقی نشوو نما اور انفرادی و اجتماعی زندگیوں کی ہدایت یافتہ راہ متعین کی۔شخصی اور سماجی کردار سازی سیرت نبوی ﷺ کے پیغام کا اہم ستون ہے۔ انہوں نے کہا کہ دور حاضر میں درپیش معاشی و معاشرتی اور اخلاقی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کیلئے ہمیں اپنی اجتماعی زندگی کو کامل ہدایت کے تابع سانچے میں ڈھالنا ہو گا۔ یہی ہماری اور آنے والی نسلوں کیلئے دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہے۔ آج کا یہ مبارک دن ہمیں معاشرے میں اتحاد و یکجہتی، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب احترام کے فروغ کی تاکید بھی کرتا ہے، کیونکہ باہمی اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مکالمے، برداشت اور باہمی احترام ہی اسوہ رسول ﷺ کے سنہری اصولوں کے مطابق ایک مضبوط اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئیے اس مبارک دن ہم یہ عہد کریں کہ ہم سیرت طیبہ کو اپنے کردار، انفرادی رویوں اور اجتماعی طرز عمل میں اختیار کرنے کی کوشش کریں گے اور پاکستان کو ایک مضبوط، خوشحال، پرامن اور فلاحی ریاست بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں