اسلام آباد–پاکستان کی نیکسا روبوٹس کمپنی نے سروس روبوٹس کیلئے سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت اور سسٹمز انٹیگریشن کے شعبوں میں مقامی صلاحیتیں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ چینی ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ شراکت داروں کے ساتھ تعاون مزید مضبوط بنا رہی ہے۔ کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایچ ایم حفیظ نے کہا کہ پاکستان میں سروس روبوٹ ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ مزید گہرا تعاون ناگزیر ہے۔چائنہ اکنامک نیٹ (CEN) کو تحریری انٹرویو میں نیکسا روبوٹس کے بانی اور سی ای او ایچ ایم حفیظ نے بتایا کہ کمپنی کی فوری ضروریات میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں گہرا تعاون، اہم پرزہ جات تک رسائی اور پاکستانی مارکیٹ کیلئے مقامی سطح پر موزوں حل تیار کرنے میں معاونت شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق انہوں نے چینی ٹیکنالوجی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ طور پر مصنوعات تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ انہوںنے کہاکہ سرمایہ کاری یا اسٹریٹجک فنانسنگ تک رسائی کمپنی کو وسعت دینے میں مدد دے سکتی ہے، جبکہ صارفین کیلئے روبوٹس لیز پر حاصل کرنے یا بطور سروس ادائیگی کرنے کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ورلڈ روبوٹ کانفرنس 2026 کا آغاز 19 اگست کو بیجنگ میں ہوا ہے۔

کانفرنس کے ساتھ منعقد ہونے والی نمائش میں 300 سے زائد نمائش کنندگان اور 2 ہزار سے زیادہ مصنوعات و نمائشیں پیش کیے جانے کی توقع ہے، جن میں ریسٹورنٹس، ریٹیل، صحت اور لاجسٹکس سمیت مختلف شعبوں میں روبوٹس کے استعمال کو اجاگر کیا جائے گا۔حفیظ کے مطابق نیکسا روبوٹس پاکستان میں شین ڑین میں قائمPudu Robotics کی مصنوعات بھی تقسیم کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق کمپنی کی ابتدائی تنصیبات میں سے ایک منہاج یونیورسٹی لاہور (MUL) میں قائم کی گئی، جس نے ستمبر 2023 میں بتایا تھا کہ اس کے داخلہ دفتر اور لائبریری میں سروس روبوٹس متعارف کرائے گئے ہیں۔ یہ روبوٹس نیکسا روبوٹس نے فراہم کیے اور تکنیکی معاونت بھی دی۔ یونیورسٹی نے 2025 میں بھی اس سہولت کو اجاگر کرتے ہوئے روبوٹک لائبریری کی تصاویر اور ویڈیوز جاری کیں۔رپورٹ کے مطابق حفیظ نے بتایا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور میں اسمارٹ سروس روبوٹس روزانہ داخلہ دفتر اور لائبریری دونوں جگہ استعمال کیے جا رہے ہیں، جہاں وہ استقبالیہ، آنے والے افراد کی رہنمائی اور معلومات فراہم کرنے جیسی خدمات انجام دیتے ہیں۔ان کے مطابق نیکسا روبوٹس اب محض نمائشی یا آزمائشی منصوبوں تک محدود نہیں رہی بلکہ مہمان نوازی، تعلیم اور دیگر خدمات کے شعبوں میں منتخب صارفین کیلئے معاوضے پر روبوٹس کی تنصیب بھی شروع کر چکی ہے تاہم انہوں نے تنصیبات کی تعداد یا دیگر صارفین کے نام ظاہر نہیں کیے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روبوٹکس کی مارکیٹ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ حفیظ نے کہا کہ کم اجرت پر دستیاب افرادی قوت، معاشی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاری کے حوالے سے کاروباری اداروں کی ہچکچاہٹ وہ عوامل ہیں جن کے باعث کمپنیاں آٹومیشن اختیار کرنے سے محتاط ہیں۔انہوں نے کہا کہ روبوٹس کے مو¿ثر استعمال کیلئے تربیت یافتہ عملہ، دیکھ بھال، سافٹ ویئر انٹیگریشن اور قابلِ اعتماد مقامی تکنیکی معاونت بھی ضروری ہے۔ رپورٹ کے مطابق حفیظ کے بقول روبوٹ کا صرف مظاہرے کے دوران کام کرنا کافی نہیں، اسے صارف کے حقیقی ماحول میں بھی قابلِ اعتماد انداز میں کام کرنا چاہیے۔ان کا اندازہ ہے کہ کوئی ریسٹورنٹ یا ہوٹل اگر روبوٹ کو بھرپور انداز میں استعمال کرے تو سرمایہ کاری کی لاگت ایک سے دو سال میں پوری کرنے کا ہدف رکھ سکتا ہے جبکہ کم استعمال کی صورت میں سرمایہ واپس حاصل کرنے کا عرصہ زیادہ طویل ہو سکتا ہے۔حفیظ نے بتایا کہ نیکسا نے مقامی سطح پر روبوٹ ٹیکنالوجی کی تیاری کیلئے ابتدائی نوعیت کا کام شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں پاکستان میں سافٹ ویئر، مصنوعی ذہانت اور سسٹمز انٹیگریشن پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ اہم ہارڈویئر اور پرزہ جات چین سے حاصل کیے جا رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ مقامی طور پر پروٹوٹائپ تیار اور کامیابی سے آزمائے جانے کے بعد ابتدائی پیداوار چین میں شروع کرنے کی توقع ہے۔ بعد ازاں اگر پیداوار کے حجم اور لاگت کے اعتبار سے یہ عمل قابلِ عمل ثابت ہوا تو روبوٹس کی اسمبلینگ اور بعض اہم پرزہ جات کی تیاری بھی پاکستان میں منتقل کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کی نیکسا روبوٹس اب محض نمائشی یا آزمائشی منصوبوں تک محدود نہیں