افغان مہاجرین کا مسئلہ پاکستان کے اہم، پیچیدہ اور حساس معاملات میں سے ایک رہا ہے۔ 1979ء میں افغانستان پر سوویت یونین کے حملے کے بعد لاکھوں افغان شہریوں نے پاکستان میں پناہ لی۔ اس وقت پاکستان نے انسانی ہمدردی، اسلامی اخوت اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تحت انہیں پناہ، تحفظ اور بنیادی سہولیات فراہم کیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ صرف مہاجرین کی میزبانی تک محدود نہ رہا بلکہ قومی سلامتی، معاشی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباو¿، قانون کی حکمرانی، سرحدی انتظام اور پاکستان-افغانستان تعلقات سے جڑا ایک اہم قومی اور علاقائی مسئلہ بن گیا۔
2021ءمیں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی۔ اس کے بعد پاکستان نے 2023ء میں غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کی پالیسی (Illegal Foreigners’ Repatriation Plan – IFRP) پر عمل درآمد شروع کیا، جس سے افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا۔ اس پس منظر میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان افغان مہاجرین کی واپسی کے اس بڑے عمل کو مکمل اور پائیدار کامیابی کے ساتھ انجام دے سکے گا؟
سرکاری مو¿قف کے مطابق غیر دستاویزی افغان شہریوں کی بڑی تعداد قومی سلامتی، امن و امان، سرحدی انتظام اور معاشی وسائل پر اضافی دباو¿ کا سبب بن رہی تھی۔ خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے متعلق سکیورٹی خدشات اور سرحد پار دہشت گردی کے واقعات کے بعد غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے بارے میں سخت پالیسی اختیار کرنا ضروری سمجھا گیا۔ اسی تناظر میں اکتوبر 2023ءسے واپسی کے منصوبے پر مرحلہ وار عمل شروع کیا گیا۔ پہلے غیر دستاویزی مہاجرین کو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے لیے مہلت دی گئی، جس کے بعد قانون کے مطابق واپسی کا عمل آگے بڑھایا گیا۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (IOM) کے اعداد و شمار کے مطابق 15 ستمبر 2023ءسے جون 2026ءتک پاکستان سے تقریباً 25 لاکھ سے زائد افغان شہری اپنے وطن واپس جا چکے ہیں۔ ان میں تقریباً 77 فیصد غیر دستاویزی مہاجر تھے، جبکہ باقی پروف آف رجسٹریشن (PoR) اور افغان سٹیزن کارڈ (ACC) رکھنے والے افراد تھے۔ 2025ءکے بعد افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے عمل میں نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی اور 2026ءکے ابتدائی مہینوں میں بھی ہزاروں خاندان روزانہ طورخم، چمن، غلام خان اور دیگر سرحدی گزرگاہوں کے ذریعے افغانستان منتقل ہوتے رہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان افغان مہاجرین کو ایک منظم طریقے سے وطن واپس بھیج رہا ہے۔ سرحدی گزرگاہوں پر رجسٹریشن، دستاویزات کی تصدیق، ٹرانسپورٹ اور سرحد پار منتقلی کےلئے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس پالیسی سے غیر قانونی رہائش میں کمی اور داخلی سلامتی کی صورتحال میں بھی بہتری آئی ہے۔ دوسری جانب UNHCR رضا کارانہ طور پر واپس جانے والے بعض خاندانوں کو محدود مالی امداد اور لاجسٹک معاونت بھی فراہم کر رہا ہے، جس سے واپسی کے عمل کو مزید منظم بنانے میں مدد ملی ہے۔
اس مسئلے کا ایک بڑا چیلنج خود افغانستان کی موجودہ سیاسی، معاشی اور انسانی صورتحال بھی ہے۔ افغانستان اس وقت شدید معاشی بحران، بے روزگاری، غربت، صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ خواتین اور بچیوں کی تعلیم اور بنیادی حقوق کے حوالے سے عالمی خدشات بھی برقرار ہیں۔ ایسی صورتحال میں پاکستان سے واپس جانے والے لاکھوں خاندانوں کی سماجی اور معاشی بحالی (Reintegration) ایک نہایت مشکل مرحلہ ہے۔ اگر انہیں روزگار، رہائش اور تحفظ کی مناسب سہولیات فراہم نہ کی گئیں تو ان میں سے بعض دوبارہ غیر قانونی طور پر پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔
اسی دوران پاکستان بھی معاشی سست روی، محدود وسائل، بڑھتی ہوئی آبادی اور سرکاری اداروں پر بڑھتے ہوئے دباو¿ جیسے داخلی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سرکاری مو¿قف کے مطابق غیر دستاویزی افغان مہاجرین کی بڑی تعداد کی وجہ سے صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات پر اضافی بوجھ پڑ رہا تھا، اس لیے واپسی کی پالیسی قومی مفاد اور قانون کی حکمرانی کے تقاضوں کے مطابق اختیار کی گئی ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان نے بڑے پیمانے پر افغان مہاجرین کی واپسی کے عمل کو بہتر اور منظم انداز میں چلانے کی صلاحیت ضرور ثابت کی ہے، لیکن اس کی مکمل کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب واپسی بین الاقوامی اصولوں کے مطابق محفوظ اور باعزت ہو اور افغانستان میں امن، سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور واپس جانے والے افراد کی آبادکاری کے لیے سازگار حالات موجود ہوں۔ افغان مہاجرین کا مسئلہ صرف پاکستان اور افغانستان تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک علاقائی اور عالمی انسانی مسئلہ ہے، جس کا پائیدار حل قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق کے احترام، علاقائی تعاون اور عملی اور حقیقت پسند سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اس پس منظر میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی یقیناً پاکستان کےلئے ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے کامیابی کے ساتھ نمٹنا ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں ہے۔
افغان مہاجرین کی وطن واپسی: پاکستان کےلئے ایک بڑا چیلنج