تہران /واشنگٹن(این این آئی)شہید ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور ان کے خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ تہران میں ادا کر دی گئی۔ایرانی میڈیا کے مطابق آیت اللہ جعفر سبحانی نے شہید ایرانی سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان، اسپیکر باقر قالیباف اور دیگر شریک ہوئے۔ایران کے شہید سپریم لیڈر کی نمازِ جنازہ میں 100 ملکوں کے وفود سمیت لاکھوں افراد نے شرکت کی۔جنازہ گاہ اور تہران کی سڑکوں پر سیاہ لباس پہنے، انتقام اور انصاف کے حصول کی علامت سرخ پرچم لہراتے سوگواروں نے شہید رہبر کو الوداع کیا۔(آج)پیر کی صبح جنازے کا جلوس تہران سے قم جائے گا، تدفین سے پہلے آیت اللہ علی خامنہ ای کی میت کو عراق کے شہر نجف اور کربلا بھی لے جایا جائے گا، آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے رواں برس 28 فروری کو مشترکہ حملے میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے سبب 8 مارچ کو یعنی تقریباً 1ہفتے ہی میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب کر لیا گیا تھا تاہم شہید سپریم لیڈر کی فوری تدفین نہیں کی گئی تھی۔دریں اثناءامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے پر ایرانیوں کو روتا دیکھ کر حیرت ہوئی۔امریکی میڈیا سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ میں سمجھتا تھا کہ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں، یا یہ بناوٹی آنسو بھی ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکا چاہے تو اس موقع پر جمع تمام ایرانی قیادت کو ایک ہی وار میں ختم کر سکتے ہیں لیکن ایسا اس لیے نہیں کریں گے کہ مذاکرات کے لیے کوئی نہیں بچے گا۔دوسری جانب امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی عوام کسی کو اپنی آزادی چھیننے نہیں دیں گے، امریکی دنیا کے سب سے بہادر اور بہترین لوگ ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ امریکا میں سب کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے، امریکا دنیا بھر میں امید کی کرن ہے، ہم امریکا کو کبھی ناکام نہیں ہونے دیں گے۔انہوںنے کہاکہ مجھے تیسری مدت کا کہنا چاہیے لیکن نہیں کہوں گا کیونکہ تنازع نہیں چاہتا، ہم نے اپنے دور میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے، وینزویلا کو دیکھیں، ایران کو دیکھیں، ہم نے اسے تباہ کر دیا، امریکا کے پاس دنیا کی سب سے مضبوط فوج ہے ادھر ایران نے آبنائے ہرمز میں غیر ملکی فوجی موجودگی پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ حساس آبی گزرگاہ کسی بھی بیرونی طاقت کے فوجی مظاہرے کی جگہ نہیں بن سکتی۔ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، کاظم غریب آبادی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کی ذمہ داری صرف ایران اور عمان پر عائد ہوتی ہے، اس لیے کسی بھی بیرونی فوجی نقل و حرکت کو قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کا ذمہ دار اور سلامتی کا ضامن ملک ہے، لہذا خطے میں کسی بھی غیر ضروری فوجی سرگرمی سے گریز کیا جانا چاہیے۔ایرانی بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ایک مشترکہ بیان میں آبنائے ہرمز کو عالمی معیشت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام ممالک کے جہازوں کی محفوظ آمدورفت یقینی بنانا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔دونوں رہنماﺅں نے کہا کہ عمان، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر اپنی علاقائی سمندری حدود میں محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کرے گاجبکہ ضرورت پڑنے پر برطانیہ اور فرانس کثیرالقومی بحری مشن کے ذریعے بھی تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے تیار ہیں۔دوسری جانب ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق تازہ بحری معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے آٹھ تجارتی جہازوں کو واپس موڑ دیا گیا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بعض آئل ٹینکرز اور مال بردار جہاز آبنائے ہرمز کے داخلی مقام تک پہنچنے کے بعد اچانک واپس مڑ گئے، جبکہ چند جہازوں نے ایرانی حکام کی ہدایات کے مطابق اپنا بحری راستہ تبدیل کر لیا۔
آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ ادا‘100 ملکوں کے وفود سمیت لاکھوں افراد کی شرکت
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل