کوئٹہ(پ ر) صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ریزیڈنشل اسکول کے زیر اہتمام بین المدارس تقریری مقابلہ 2026 کا شاندار، باوقار اور کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں کوئٹہ کے 20 مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والے 40 باصلاحیت طلبہ نے شرکت کی اور اردو و انگریزی زبانوں میں اپنی تقریری صلاحیتوں، علمی استعداد اور اندازِ بیان کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اس علمی و ادبی سرگرمی میں طلبہ نے مختلف موضوعات پر اپنے خیالات پیش کرتے ہوئے حاضرین کی توجہ حاصل کی، جبکہ مقابلے کے انعقاد کا مقصد طلبہ میں خود اعتمادی، اظہارِ خیال کی صلاحیت اور مثبت مسابقت کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔ تقریب کے مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد حیات بگٹی تھے، جو ماڈل اسکولوں کے منصوبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔ اس موقع پر مختلف تعلیمی اداروں کے معزز سربراہان، پرنسپلز اور اساتذہ کرام نے بھی خصوصی شرکت کی۔ مقررین اور شرکاء نے اس طرح کی تعلیمی سرگرمیوں کو طلبہ کی ذہنی و فکری تربیت، زبان و بیان پر عبور اور شخصیت سازی کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔ تقریری مقابلے کے منصفین کے فرائض نعیم شاہ زیارمل، فدا محمد، پروفیسر نجیب اللہ اور پروفیسر احمد شیر راحل نے انجام دیے۔ منصفین نے طلبہ کی تقاریر کا جائزہ لیتے ہوئے ان کے موضوع پر عبور، الفاظ کے درست استعمال، تلفظ، اندازِ بیان، دلائل اور خود اعتمادی کو مدنظر رکھا اور نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ کو پوزیشنوں کے لیے منتخب کیا۔ انگریزی تقریری مقابلے میں پہلی پوزیشن کوئٹہ ریزیڈنشل اسکول کے جماعت نہم کے طالب علم ہدایت اللہ نے حاصل کی، جبکہ دوسری پوزیشن دی وائس آف ویزڈم اسکول کے جماعت ہشتم کے طالب علم نصرت اللہ کے حصے میں آئی۔ برائٹ کڈز پبلک اسکول کے جماعت ہفتم کے طالب علم ابوبکر نے تیسری پوزیشن حاصل کرکے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔اسی طرح اردو تقریری مقابلے میں کوئٹہ ریزیڈنشل اسکول کے جماعت نہم کے طالب علم محمد اویس نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دی وائس آف ویزڈم اسکول کے جماعت ہفتم کے طالب علم اسامہ نے دوسری، جبکہ پاک علمی ریزیڈنشل اسکول کے جماعت ششم کے طالب علم محمد عمران نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ دونوں زبانوں کے مقابلوں میں طلبہ کی نمایاں کارکردگی کو سراہا گیا اور پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارک باد پیش کی گئی۔ اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے شرکاء نے کہا کہ تعلیم کا مقصد محض نصابی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ طلبہ کی ذہنی، فکری، اخلاقی اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانا بھی ہے۔تقریری مقابلے طلبہ کو اپنے خیالات مؤثر انداز میں پیش کرنے، دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے، تحقیق و مطالعے کی عادت اپنانے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ایسے مقابلوں سے طلبہ میں صحت مند مسابقت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور انہیں اپنی کمزوریوں پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کی ترغیب ملتی ہے۔ منتظمین نے تمام پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ، مقابلے میں شریک دیگر طلبہ، معزز منصفین، مہمان خصوصی، تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تعاون اور بھرپور شرکت نے اس تقریب کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کوئٹہ ریزیڈنشل اسکول طلبہ کی علمی، ادبی اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے آئندہ بھی ایسی مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کا انعقاد جاری رکھے گا، تاکہ نوجوان نسل کو اپنی صلاحیتیں منوانے اور مستقبل میں ملک و قوم کی خدمت کے لیے تیار ہونے کے بہتر مواقع میسر آسکیں۔
کوئٹہ ، بین المدارس تقریری مقابلہ ، 20 تعلیمی اداروں کی شرکت
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل