تربت: بلوچستان اکیڈمی تربت کے زیراہتمام نامور شاعر استاد حیات شوکت مرحوم کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں ادیبوں، شاعروں اور ادب سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔
تعزیتی ریفرنس دو حصوں پر مشتمل تھی پہلا حصہ نثری اور دوسرے حصے میں مشاعرہ کیا گیا، نثری حصہ میں بلوچستان اکیڈمی تربت کے چیئرمین شگر اللہ یوسف، معروف دانشور و ادیب پروفیسر غنی پرواز، مقبول انور رند، مقبول ناصر، عارف عزیز اور دیگر مقررین نے استاد حیات شوکت کی ادبی خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے بلوچی زبان و ادب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔
مقررین نے کہا کہ استاد حیات شوکت نے اپنی شاعری اور ادبی کاوشوں کے ذریعے بلوچی زبان و ادب کی خدمت میں نمایاں کردار ادا کیا اور اپنی منفرد فکری و شعری شناخت قائم کی۔ بلوچستان اکیڈمی تربت کے قیام میں استاد حیات شوکت کا نمایاں کردار رہا ہے۔
مقررین نے استاد حیات شوکت کی زندگی اور شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ذاتی دفتر جو ’’بالاخانہ‘‘ کے نام سے مشہور تھا، ہمیشہ شعر و ادب سے وابستہ افراد کی آمد و رفت کا مرکز رہا۔ اکیڈمی کے قیام سے قبل بالاخانہ ایک باقاعدہ ادبی مرکز کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں مکران سمیت مختلف علاقوں سے شاعر، ادیب اور اہل قلم آتے اور گھنٹوں ادبی مجالس جمتی تھیں۔ یہ محفلیں بلوچی زبان و ادب کے فروغ اور فکری و ادبی مباحث کے لیے اہم پلیٹ فارم ثابت ہوئیں۔
مقررین نے استاد حیات شوکت کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر بھی تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے کلام میں عوامی احساسات اور جذبات کی بھرپور ترجمانی کے ساتھ ساتھ بلوچی معاشرے، ثقافت، روایات اور اجتماعی زندگی کے مختلف رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔ ان کی شاعری نے نہ صرف بلوچی ادب کو تقویت دی بلکہ ان کے شاگردوں کا ایک وسیع حلقہ بھی موجود ہے، جو ان کے ادبی و فکری ورثے کو آگے بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ استاد حیات شوکت نے اپنی تخلیقات کے ذریعے بلوچی زبان و ادب کے فروغ، تحفظ اور نئی نسل کو اپنی زبان، ثقافت اور ادبی روایات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی ادبی خدمات ایک قیمتی اثاثہ ہیں، جنہیں محفوظ کرنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا اہل قلم اور ادبی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ استاد حیات شوکت کی شاعری اور ادبی خدمات آنے والے وقتوں میں بھی بلوچی زبان و ادب سے وابستہ افراد کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی رہیں گی۔
اس موقع پر مقررین نے استاد حیات شوکت کی وفات کو بلوچی ادب کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور مرحوم کے لیے مغفرت، بلندی درجات اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
تعزیتی ریفرنس کے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عابد علیم نے سرانجام دیئے۔
جبکہ مشاعرہ میں ممتاز شعرا پروفیسر غنی پرواز، ارشاد پرواز، عارف عزیز، مقبول انور، ظفر دوست، عابد علیم، صادق وفا ودیگر شعراء نے اپنا اپنا کلام پیش کیا ۔