بلوچستان کے 70 اہلِ قلم علامہ اقبال صوبائی ایوارڈز مستحق قرار

شیخ فرید
سر زمینِ بلوچستان کو کثیرالالسانی مردم خیز خطہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
یہاں کا ادب کئی لسانی آمیزش سے ایک ایسا گلدستہ کہلاتا ہے جس میں کئی کئی رنگوں کے پھول اپنی تابنائیوں ، رعنائیوں ، جولانئیوں اور رنگ و مہک سے منفرد مقام کا شرف لیئے ہوئے ہے۔
یہی وجہ ہے بلوچستان کا ادب اور ادیب کا ہنر و فن کا کلائمکس اپنے عروج پر دکھائی دیتا ہے۔
یہاں کے ادباء و شعراء کو حکومتی سطح پر بھی سراہا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں بھی صوبے بھر سے 70 اہلِ قلم کو علامہ اقبال ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا۔
ادارہ نظامت ثقافت و سیاحت اور آثارِ قدیمہ حکومت بلوچستان کی جانب سے نوری نصیر خان کلچرل کمپلیکس تقسیمِ ایوارڈز کی تقریب منعقد ہوئی جس کا افتتاح معتمد ثقافت و سیاحت حمید اللہ ناصر نے اپنے دستِ مبارک سے کیا۔
تقریب میں معززینِ شہر ، ادباء حضرات اور شعراء کرام کی کثیر تعداد کے علاؤہ سیاسی عمائدین ، سرکاری افسران اور اساتذہ کرام نے اپنے طلبہ کے ساتھ شرکت کی۔ محترمہ راحیلہ درانی صوبائی وزیرِ تعلیم تقریب میں مہمانِ خاص کی حثیت سے مدعو تھیں ۔
صوبائی وزیرِ تعلیم راحیلہ درانی نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی بیداری میں علم و ادب کا کلیدی کردار رہا ہے۔ وزیر موصوفہ کا کہنا تھا کہ سماجی بدلاؤ کیلیے ضروری کہ مثبت سوچ و فکر کو پروان چڑھایا جائے۔ اٗنھوں نے اہلِ قلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ادیب اپنے قلم سے منفی رویوں کے خلاف جہاد کریں تاکہ معاشرے میں اصلاح کے عمل کو تیز تر کی جا سکے۔
تقریب میں صوبائی حکومت کی جانب سے اردو ، بلوچی ، براہوی ، پشتو اور ہزارگی ز ممتاز افسانہ نگار اور ناول نویس آغاگل کو اّن کی کتاب “حقل دما” ڈاکٹر قیوم بیدار کو “حرم نا سفر” شفقت علی عاصمی کو ” دیوارِ سندھ کے سائے میں ” اکبر خان کو ” جادو کی نگری” علی طورانی کو دیملاج آزرگی پر علامہ اقبال ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ڈاکٹر عرفان احمد بیگ ، افضل مراد ڈاکٹر عصمت درانی ، محسن شکیل ، صابر وحید ، غریب شاہ انجم اور صابر ندیم سمیت ستر کے قریب اہلِ قلم کو اّن کی بہترین تصانیف پر سال 2021ء اور سال 2022ء کیلیے ایوارڈز دینے کی تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے معتمد ثقافت و سیاحت اور آثار قدیمہ حمید اللہ ناصر نے کہا کہ کتاب کی اہمیت و افادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اُنھوں نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ عصرِ حاضر میں جدید ڈیجیٹل سورسسز اور سائنسی ٹیکنالوجی کے باوجود کتاب سے دوستی کا رشتہ قائم رکھنا ہی علم و ادب کا فروغ ممکن ہے۔
ہیلپرز پبلک گرلز کالج کیمپس کی پرنسپل ڈاکٹر آمنہ سومرونے کہا ہے کہ ادبا وشعرامعاشرے کا حساس طبقہ ہیں جو اپنے قلم سے نہ صرف مسائل کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ تہذیب ثقافت اورزبانوں کے فروغ کے لئے ان جاندار کردار قابل ستائش ہے یہ فن گالا کے موقع پر ادبی نشست کے شرکا سے کیں اس موقع پر ہیلپرز بوائز کیمپس کے پرنسپل پروفیسر آصف اختر ، بلوچستان ریفارمز ادبی سوسائٹی کے صدر شاہ محمد شامی اور نرگس نہاں بھی موجود تھیں ۔ قبل ازیں طالبات میں مقابلہ بیت بازی بھی ہوا مقررین نے کہا کہ ادب انسانی جذبات کا ترجمان اورمعاشرے کا آئینہ ہوتا ہے جو زندگی کی کھردردی حقیقتوں کو بھی حسن اورقرینے سے بیان کرتا ہے قلم کی طاقت اس تلوارسے بڑھ کر تلوار ہے
جیوز گوادر کے زیرِ اہتمام معروف بلوچی شاعر ، ادیب ، افسانہ نگار اور مترجم مراد ساحر کی یاد میں ادبی نشست منعقد ہوئی ، جس میں ان کے فکر و فن پر مقررین اظہار خیال کیا۔ تقریب میں رحیم مہر ، اصغر ملنگ اور طاہر تاج نے مراد ساحر کی شاعری افسانہ نگاری اور ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔تقریب نظامت کے فرائض بی فراق نے انجام دیے۔ نشست میں مراد ساحر کے کلام کو ترنم سے بھی پیش کیا گیا۔
ڈاکٹر رحیم مہر نے مراد ساحر کی زندگی ادبی کردار اور فکر و فن پر گفتگو کرتے ہوئے جیوز گوادر کی جانب سے ادبی تسلسل برقرار رکھنے کو سراہا۔ نشست کے اختتام پر مراد ساحر کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔
٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں