بلوچستان: ماں اور بچے کی غذائیت کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق

کوئٹہ (سٹاف رپورٹر) بلوچستان میں بچوں کی غذائی قلت، ماں کی صحت اور خوراک کی کمی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے خواتین ارکانِ اسمبلی اور اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے مشترکہ اقدامات، مؤثر قانون سازی اور غذائی مراکز کو فعال رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ اتفاق صوبائی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر اور ویمن پارلیمانی کاکس کی سرپرست غزالہ گولا کی زیر صدارت عالمی ادارہ خوراک کے وفد سے مشاورتی اجلاس میں ہوا۔ اجلاس میں WFP پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش اور بلوچستان کی سربراہ ڈاکٹر فاریہ احسن بھی شریک ہوئیں۔

اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی اختر بی بی اور پھلین بلوچ، جبکہ اراکین صوبائی اسمبلی شاہدہ رؤف، سلمیٰ کاکڑ اور صفیہ فضل الرحمٰن نے شرکت کی۔

غزالہ گولا نے کہا کہ خواتین اور بچوں کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد اور تمام اضلاع میں صحت اور نشوونما کے مراکز کی فعالیت یقینی بنانا ضروری ہے۔

انیتا ہرش نے کہا کہ عالمی ادارہ خوراک حاملہ خواتین اور بچوں کی غذائیت کے لیے کام کر رہا ہے، جبکہ مقامی وسائل سے اسکولوں میں کھانے کے منصوبے بھی جاری ہیں۔ انہوں نے ان اقدامات کے تسلسل میں پارلیمنٹیرینز کے کردار کو اہم قرار دیا۔

ڈاکٹر فاریہ احسن نے کہا کہ بلوچستان میں بینظیر نشوونما پروگرام غذائیت کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، تاہم بچوں کی غذائی قلت پر قابو پانے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہے۔

اجلاس میں سیکریٹری بلوچستان اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔ شرکاء نے غذائیت اور ماں بچے کی صحت کے تحفظ کے لیے قانون سازی، بجٹ اور ادارہ جاتی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں