سعودی فوجی اتحاد کی کارروائی‘ حوثیوں کے 73جنگجو مارے گئے

صنعا/ریاض/انقرہ /نیویارک(این این آئی)یمن میں حوثی ملیشیا نے اپنے 73 افرادکی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں 25 فوجی رینک رکھنے والے افرادبھی شامل ہیں جس کے بعد ان کی تعداد 413 ہوگئی ۔ان اعلانات میں یمن کے 10 صوبوں سے تعلق رکھنے والے ہلاک شدگان شامل تھے، جن میں صنعا، صعدہ، حجہ، الحدیدہ، ذمار، عمران، المحویت، تعز، اِب اور الجوف شامل ہیں ۔فہرست میں 25 فوجی رینک رکھنے والے افراد کے نام شامل تھے، جن کے عہدے اسسٹنٹ سے بریگیڈیئر تک تھے۔ ان میں 3 بریگیڈیئرز کے علاوہ متعدد کرنل، لیفٹیننٹ کرنل، میجر، کیپٹن اور لیفٹیننٹ بھی شامل تھے۔ دریں اثناء سعودی فوجی اتحاد نے کہا کہ یمن کے حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا بیلسٹک میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اتوار کو ایک بیان میں سعودی فوجی اتحاد کے مطابق بیش، طائف، فرسان اور ینبع میں بھی حوثیوں کے حملے ناکام بنا دیے۔حوثیوں نے شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔ دوسری جانب ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے اپنے بیان میں کہا کہ یمنی حوثیوں کے جاری حملوں کے باعث سعودی عرب کی کچھ عسکری ضروریات ہوسکتی ہیں ،ہم پاکستان کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت اس عسکری ضروریات کا جائزہ لیں گے،اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ یمن میں جنگ ختم کرنے کیلئے تمام فریقین تک تجاویز پہنچا دی گئی ہیں ، سعودی عرب کو امریکا ایران جنگ کا حصہ بنانا ناقابلِ قبول ہے۔ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرقِ وسطی کا بحران اب معاشی طور پر ناقابلِ برداشت ہوچکا ہے۔خاقان فیدان نے مزید کہا کہ ہم نے یوکرین اور روس کو بحیرہ اسود میں لڑائی ختم کرنے کی پیشکش بھیجی ہے۔ دریں اثناء اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے سعودی عرب میں بنیادی ڈھانچے پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔عرب ٹی وی کوانٹرویو میں گوتیریس نے بحری نقل و حمل کی آزادی کے احترام کی انتہائی اہمیت پر زور دیا جس میں آبنائے باب المندب کے راستے تجارت شامل ہے۔انہوں نے سعودی جہازوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا۔گوتیریس نے بحری نقل و حمل کے حقوق اور آزادی کے احترام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ دوسری جانب ایران کے سکیورٹی چیف محسن رضائی نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے پھیلا کی روک تھام کے معاہدے سے دستبرداری کے امکان پر غور کر رہا ہے اور اس حوالے سے فیصلہ امریکا کے آئندہ رویے کو دیکھ کر کیا جائے گا۔عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے محسن رضائی نے کہا کہ ایران اپنے شہید رہنما علی خامنہ ای کے فتوے کے حوالے سے اپنے مقف پر اب بھی قائم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کیا ہوگا، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔محسن رضائی نے واضح کیا کہ ایران اس وقت یہ جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اسے این پی ٹی سے دستبردار ہونا چاہیے یا نہیں ۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا انحصار امریکا کے اقدامات اور رویے پر ہوگا۔دوسری جانب ایران کے سکیورٹی چیف نے سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری جنگ کے خاتمے میں مدد کی پیشکش بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران حقیقی طور پر سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ ختم کرنا چاہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں