ساحلی علاقے سونمیانی میں پینے کے پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا

سونمیانی وندر(رپورٹ۔زبیر بلوچ)ساحلی علاقے سونمیانی میں پینے کے پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا 6 ماہ سے پانی کی عدم فراہمی کے خلاف علاقہ مکین سراپا احتجاج بن گئے مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے ساحلی علاقوں ڈام اور سونمیانی کو وندر سے ملانے والی اکلوتی اہم شاہراہ کو تمام تر آمدورفت کے لیے مکمل بند کردیا جس کے باعث شاہراہ کے دونوں اطراف چھوٹی بڑی گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں ۔ پینے کے پانی کی عدم فراہمی کے حوالے سے مظاہرین کا کہنا تھا کہ سونمیانی کے مکین گزشتہ 6 ماہ سے پینے کے پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں جبکہ بارہا نشاندہی اور مطالبات کے باوجود پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔ پینے کے پانی کی عدم فراہمی کے باعث خواتین ، بچوں اور بزرگوں سمیت علاقہ مکین شدید مشکلات سے دوچار ہیں ۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سونمیانی میں فوری طور پر پینے کے پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور طویل عرصے سے جاری پانی کے بحران کا مستقل حل نکالا جائے۔ احتجاج کی اطلاع ملنے پر سماجی شخصیت وڈیرہ سلیم کاکانی موقع پر پہنچ گئے اور احتجاجی مظاہرین سے مذاکرات کیے۔ وڈیرہ سلیم کاکانی نے مظاہرین کے مطالبات اور پانی کی عدم فراہمی کے حوالے سے ان کے تحفظات سنے اور مسئلے کے حل کے لیے یقین دہانی کرائی۔ مذاکرات کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرتے ہوئے شاہراہ کو آمدورفت کے لیے کھول دیا۔ تاہم مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ چھ ماہ سے جاری پینے کے پانی کے بحران کو مزید طول دینے کے بجائے فوری عملی اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ سونمیانی کے مکینوں کو بنیادی ضرورت پینے کے پانی کی فراہمی ممکن ہوسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں