سردار عطاءاللہ مینگل کی پانچویں برسی پر بی این پی سوراب کے زیرِ اہتمام تعزیتی ریفرنس

سوراب( نامہ نگار)بلوچ رہشون، بزرگ سیاسی رہنما اور بلوچستان کی قومی و سیاسی تاریخ کی اہم شخصیت سردار عطاء اللہ مینگل کی پانچویں برسی کے موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) ضلع سوراب کے زیرِ اہتمام تحصیل گدر میں زیر صدرات ضلعی صدر عبدالطیف قلندرانی ایک پروقار تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں پارٹی کے ضلعی عہدیداران، سابق عہدیداران، سیاسی کارکنان اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی،تعزیتی ریفرنس میں سردار عطا اللہ مینگل کی سیاسی جدوجہد، قومی سیاست میں ان کے کردار، بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے ان کی طویل جدوجہد اور ان کے سیاسی سفر پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی،مقررین نے سردار عطا اللہ مینگل کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں مشکل اور کٹھن حالات کا سامنا کیا، تاہم اپنے اصولی سیاسی موقف اور بلوچ قوم کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے سے کبھی گریز نہیں کیا،تعزیتی ریفرنس میں ضلعی صدر عبداللطیف قلندرانی، ضلعی جنرل سیکرٹری سلطان امام، نائب صدر ڈاکٹر عبد المالک رودینی، جوائنٹ سیکرٹری شاکر بلوچ، فنانس سیکرٹری ظفر جان مینگل، سابق ضلعی نائب صدر میر عبدالرحمن گرگناڑی، سابق ضلعی جنرل سیکرٹری امان اللہ مینگل، ٹکری رسول بخش قمبرانی اور بطورِ مہمان ڈاکٹر وحید لانگو سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی،پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع سوراب کے ضلعی صدر عبداللطیف قلندرانی نے سردار عطااللہ مینگل کی سیاسی و قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا،انہوں نے کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل نے بلوچ قوم کی ترجمانی صحیح معنوں میں کی اور اپنی پوری سیاسی زندگی بلوچستان کے عوام کے حقوق اور قومی مسائل کو اجاگر کرنے میں صرف کی،ان کی سیاست کا بنیادی محور عوامی حقوق، جمہوری جدوجہد اور بلوچستان کے عوام کی آواز کو سیاسی پلیٹ فارم پر بلند کرنا تھا،عبداللطیف قلندرانی نے کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل کی سیاسی جدوجہد بلوچستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے،ایسے رہنما تاریخ میں صرف اپنے عہد تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے بھی ایک مثال بن جاتی ہے،سردار عطا اللہ مینگل نے مشکل سیاسی حالات میں بھی اپنے مو¿قف پر قائم رہ کر ثابت کیا کہ اصولی سیاست میں مشکلات ضرور آتی ہیں، مگر سیاسی کارکنوں کو اپنے عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنی چاہیے،ضلعی صدر نے بلوچستان کی موجودہ صورتِ حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مو¿قف کے مطابق بلوچ قوم کو آج بھی مختلف مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے اور عوام میں خوف و ہراس کی کیفیت پائی جاتی ہے،بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور گدر گوندان میں 12 اگست 2026 کو ہونے والی فضائی بمباری کے واقعے کے خلاف آواز بلند کرنے میں بھی گدر اور سوراب کے لوگ خوف محسوس کر رہے تھے،موجودہ صورتِ حال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ عوامی مسائل اور انسانی حقوق کے معاملات پر سیاسی و جمہوری انداز میں بات کی جائے اور لوگوں کے اندر موجود خوف کی کیفیت کو ختم کیا جائے،ان کا کہنا تھا کہ اگر معاشرے میں لوگ اپنے حق اور سچ کے لیے آواز بلند کرنے سے خوفزدہ ہو جائیں تو یہ ایک انتہائی تشویش ناک صورتِ حال ہے،عبداللطیف قلندرانی نے موجودہ حکومت میں شامل سیاسی نمائندوں پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت میں شامل بعض لوگ عوامی مسائل کے بجائے حکومتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں، عوام کے مسائل کا حل محض دعووں اور نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوام کے ساتھ جواب دہ رویے سے ممکن ہے،انہوں نے سوراب کے ایم پی اے پر بھی سخت الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول سوراب میں سرکاری ملازمتوں اور سرکاری محکموں کی آسامیوں کے حوالے سے مبینہ سوداگری کی جا رہی ہے،محکمہ? صحت اور محکمہ? تعلیم کی پوسٹوں کے حوالے سے بھی عوام میں شدید تحفظات پائے جاتے ہیں اور اس معاملے کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں،تعزیتی ریفرنس میں بطورِ مہان شریک ڈاکٹر وحید لانگو نے سردار عطا اللہ مینگل کی سیاسی بصیرت، جدوجہد اور بلوچستان کے عوام کے لیے ان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماوں کی قربانیوں اور جدوجہد کو یاد رکھنا قوموں کی ذمہ داری ہوتی ہے،مزید انہوں نے کہا کہ اس سرزمین کے اصل مالک اور وارث یہاں کے عوام ہیں، کسی سرکاری عہدے یا اختیار رکھنے والے فرد کو عوام کے حقوق پر اجارہ داری حاصل نہیں، بلوچستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے اور عوام کو اپنے وسائل، روزگار، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات میں مناسب حصہ ملنا چاہیے،تعزیتی ریفرنس سے سابق ضلعی جنرل سیکرٹری امان اللہ مینگل نے بھی خطاب کیا،انہوں نے سردار عطا اللہ مینگل کی سیاسی زندگی اور قومی جدوجہد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سردار عطااللہ مینگل نے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے لیے ایک طویل سیاسی سفر طے کیا،سردار عطا اللہ مینگل کی سیاسی جدوجہد کو نئی نسل تک منتقل کرنا سیاسی کارکنوں کی ذمہ داری ہے،سابق ضلعی نائب صدر میر عبدالرحمن گرگناڑی نے خطاب کرتے ہوئے سردار عطا اللہ مینگل کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی سیاسی خدمات بلوچستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی،سردار عطا اللہ مینگل نے مشکل حالات میں بھی اپنے سیاسی اصولوں کو مقدم رکھا اور بلوچستان کے عوام کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کی،ٹکری رسول بخش قمبرانی نے بھی خطاب کرتے ہوئے سردار عطا اللہ مینگل کی سیاسی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا،انہوں نے کہا کہ سردار عطا اللہ مینگل نے اپنی زندگی کے ایک بڑے حصے کو بلوچستان کے سیاسی و قومی مسائل اجاگر کرنے کے لیے وقف کیا،پروگرام کے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ضلعی جنرل سیکرٹری سلطان امام نے انجام دیے،انہوں نے پروگرام کو منظم انداز میں آگے بڑھایا اور مختلف مقررین کو خطاب کی دعوت دی،تعزیتی ریفرنس کے اختتام پر سردار عطا اللہ مینگل کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کی گئی،شرکا نے مرحوم رہنما کے لیے مغفرت، درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی، جبکہ بلوچستان کے عوام کے لیے امن، خوشحالی، سیاسی استحکام اور بہتر مستقبل کے لیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں