کھیرتھر کینال کی ذیلی نہروں کے ٹیل تین ماہ سے پانی سے محروم

گنداخہ( نامہ نگار) جمعیت علماءاسلام کے صوبائی رہنما اور ضلع اوستا محمد کے ضلعی جوائنٹ سیکرٹری مولانا غلام نبی جاگیرانی نے کہا ہے کہ کھیرتھر کینال سے نکلنے والی ذیلی نہروں کے ٹیل میں گزشتہ تین ماہ سے زرعی پانی کی شدید قلت نے صورتحال کو انتہائی تشویشناک بنا دیا ہے۔آبپاشی حکام کی مبینہ نااہلی، ناقص انتظامی نگرانی اور پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی متاثر، کھڑی فصلیں تباہ اور کسانوں کی سال بھر کی محنت داو پر لگ گئی ہے،انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ کاشتکاروں نے اپنی جمع پونجی خرچ کرکے بیج، کھاد، زرعی ادویات اور ڈیزل سمیت دیگر اخراجات برداشت کیے، لیکن بروقت پانی نہ ملنے کے باعث لاکھوں روپے مالیت کی فصلیں خشک ہوکر تباہ ہو رہی ہیں۔ کسانوں کی فصلیں پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہی ہیں، مگر متعلقہ آبپاشی حکام خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔مولانا غلام نبی جاگیرانی نے کہا کہ مسئلہ صرف فصلوں تک محدود نہیں بلکہ نہروں کے ٹیل میں انسانی زندگی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔ کئی علاقوں کے مکین پینے، غسل اور روزمرہ ضروریات کے پانی کے حصول کے لیے پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نہروں کے ٹیل تک پانی نہیں پہنچے گا تو زرعی پیداوار، مقامی معیشت اور عوام کی زندگی براہ راست متاثر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کھیرتھر کینال سے نکلنے والی نہروں میں پانی کی منصفانہ تقسیم ہر کاشتکار کا بنیادی حق ہے۔ ٹیل کے زمینداروں کو مسلسل نظرانداز کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ اگر پانی کی قلت کا فوری ازالہ نہ کیا گیا تو بڑی تعداد میں کسانوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا اور علاقے کی زرعی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے،انہوں نے وزیراعلیٰ بلوچستان، چیف سیکرٹری بلوچستان، صوبائی وزیر آبپاشی، سیکرٹری آبپاشی، چیف انجینئر اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ کھیرتھر کینال کی ذیلی نہروں کے ٹیل میں فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، پانی کی تقسیم کا شفاف نظام نافذ کیا جائے، نہروں اور شاخوں کی نگرانی مو¿ثر بنائی جائے اور پانی کی قلت کے ذمہ دار افسران و اہلکاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے۔مولانا غلام نبی جاگیرانی نے واضح کیا کہ ٹیل کے کسانوں کو ان کے حصے کا پانی فراہم کرنا حکومت اور محکمہ آبپاشی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری عملی اقدامات نہ کیے گئے تو کسانوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوسکتا ہے اور متاثرہ زمیندار اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے آئینی و جمہوری احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں