عید میلاد النبی مسلمانوں کیلئے صرف خوشی اور عقیدت کا دن نہیں، بلکہ یہ دن اپنے اندر ایک ایسا عظیم پیغام لیے ہوئے ہے، جو انسان کی ذات سے لے کر پورے معاشرے کی تعمیر تک پھیلا ہوا ہے۔ حضرت محمد کی ولادتِ باسعادت انسانیت کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے، جس نے دنیا کو زندگی گزارنے کا ایسا مکمل نمونہ عطا کیا، جس میں عبادت کے ساتھ اخلاق، انصاف کے ساتھ رحم، حق کے ساتھ ذمہ داری اور طاقت کے ساتھ انسانیت کا درس موجود ہے۔ اس لیے اگر ہم عید میلاد النبی کو حقیقی معنوں میں سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے صرف محفلوں، جھنڈوں، روشنیوں اور نعروں تک محدود نہیں کرنا چاہیے، بلکہ خود سے یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ نبی کریم کی تعلیمات نے ہمارے کردار اور روزمرہ زندگی میں کتنی جگہ بنائی ہے۔
نبی پاک کی پوری زندگی انسانیت کیلئے ایک عملی نمونہ ہے۔ قرآن پاک خود رسول اللہ کو ”رحمت للعالمین“ قرار دیتا ہے۔ یہ رحمت صرف مسلمانوں تک محدود نہیں تھی، بلکہ انسانوں، جانوروں اور پوری مخلوق تک پھیلی ہوئی تھی۔ آپ نے یتیموں سے شفقت کی، مسکینوں کی مدد کی، غلاموں کے ساتھ انسانوں جیسا برتاو¿ کرنے کی تعلیم دی، پڑوسی کے حق کو اہمیت دی اور دشمنوں کے ساتھ بھی ایسا حسنِ اخلاق اختیار کیا، جس نے دلوں کو فتح کیا۔ آپ کی عظمت کا سب سے بڑا راز یہ تھا کہ آپ نے لوگوں کو الفاظ سے زیادہ اپنے عمل کے ذریعے متاثر کیا۔ آج ہمارے معاشرے کو بھی ایسے ہی عملی اخلاق کی ضرورت ہے، جہاں انسان کی پہچان اس کے لباس، عہدے، دولت یا طاقت سے نہیں، بلکہ اس کے کردار سے ہو۔
عید میلاد النبی ہمیں سچائی کا سبق بھی دیتی ہے۔ نبوت سے پہلے ہی حضرت محمد کو ”الصادق“ اور ”الامین“ کہا جاتا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جس معاشرے میں امانت، سچائی اور وعدے کی پاسداری کسی انسان کی پہچان بن جائے، وہ معاشرہ کتنا مضبوط ہو سکتا ہے۔ آج ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ اعتماد کی کمی ہے۔ کاروبار میں دھوکا، روزمرہ زندگی میں جھوٹ، وعدوں کی خلاف ورزی، سرکاری معاملات میں بددیانتی اور ذاتی مفادات کیلئے اصولوں کو نظرانداز کرنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ اگر ہم واقعی رسول اللہ سے محبت کے دعویدار ہیں تو ہمیں اپنی زبان، وعدوں، کاروبار اور ذمہ داریوں میں سچائی پیدا کرنی ہوگی۔
رسول اللہ نے انصاف کو بھی انسانی معاشرے کی بنیاد بنایا۔ اسلام میں انصاف کا تصور اتنا وسیع ہے کہ انسان کو اپنی پسند یا ناپسند سے بالاتر ہو کر حق کا ساتھ دینے کی تعلیم دی گئی ہے۔ نبی کریم کی مدنی ریاست میں قانون کی نظر میں انسانوں کی عزت اور حقوق کو اہمیت حاصل تھی۔ آج ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ ہم نے انصاف کو اصول کے بجائے ذاتی مفاد سے جوڑ دیا ہے۔ طاقتور کیلئے ایک قانون اور کمزور کیلئے دوسرا قانون کسی بھی معاشرے کو مضبوط نہیں کر سکتا۔ عید میلاد النبی کا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف سب کیلئے برابر ہونا چاہیے، جس سے معاشرہ مضبوط ہوگا۔
آپ نے خواتین کی عزت اور حقوق کے بارے میں بھی ایسے اصول عطا فرمائے، جو اس دور کے معاشرے کیلئے ایک بڑا انقلاب تھے۔ بیٹی کو رحمت قرار دینا، عورت کو عزت دینا، ماں کے مقام کو بلند کرنا اور خاندان کی ذمہ داریوں کو واضح کرنا نبی پاک کی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔ آج اگر ہم اپنے گھروں میں خواتین، بیٹیوں اور بچوں کے ساتھ عزت، شفقت اور انصاف کا برتاو¿ نہیں کرتے تو صرف میلاد کی محفلیں ہمارے کردار کو مکمل نہیں بنا سکتیں۔ رسول اللہ کی سیرت کا اصل اثر اس وقت ظاہر ہوگا، جب ہمارا گھر بھی اخلاق اور محبت کا مرکز بنے۔
نبی کریم نے تعلیم کو بھی بہت اہمیت دی۔ جہالت کی تاریکی میں علم کی روشنی پھیلانا آپ کے مشن کا اہم حصہ تھا۔ علم انسان کو صرف روزگار نہیں دیتا، بلکہ سوچنے، سمجھنے اور صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت بھی عطا کرتا ہے۔ آج ہماری نوجوان نسل کو علم کے ساتھ اخلاق، برداشت، تحقیق اور ذمہ داری کی تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ اگر اسکول اور یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں دیں، لیکن کردار نہ بنائیں تو معاشرہ ترقی کے باوجود اندر سے کمزور رہے گا۔ سیرت النبی سے ہمیں علم اور کردار کی مشترکہ اہمیت کا سبق ملتا ہے۔
ہمارے موجودہ معاشرے میں عدم برداشت، نفرت، فرقہ واریت اور ایک دوسرے کو کمتر سمجھنے کے رویے بڑھ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اختلافِ رائے اکثر دشمنی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ہم معمولی سی بات پر ایک دوسرے کو گالیاں دینے، الزام لگانے اور کردار کشی کرنے لگتے ہیں۔ جبکہ رسول اللہ کا طریقہ نرم گفتگو، حکمت، صبر اور برداشت کا ہے۔ اختلاف انسانوں کی فطرت میں شامل ہے، اختلاف کو دشمنی کے بجائے صبر، برداشت اور حکمت سے برداشت کرنا چاہیے، تاکہ دوسرے کی دل آزاری بھی نہ ہو۔ اگر میلاد النبی ہمیں برداشت، محبت اور حسنِ اخلاق سکھا دے تو یہ میلاد ہماری زندگی میں حقیقی تبدیلی لا سکتا ہے۔
عید میلاد النبی کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم خود کو سیرتِ رسول کے آئینے میں دیکھیں۔ ہماری نماز، روزہ، ذکر اور عبادت اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان عبادات کا اثر ہمارے اخلاق میں بھی نظر آنا چاہیے۔ اگر زبان پر درود ہو لیکن دل میں نفرت ہو، اگر میلاد کی محفل میں محبت کی باتیں کی جائیں لیکن گھر سے باہر انسانوں کے ساتھ ظلم کیا جائے تو ہمیں اپنے عمل پر غور کرنا چاہیے۔ نبی پاک سے محبت کا بہترین ثبوت یہ ہے کہ ہم ہر انسان کے ساتھ محبت، عزت اور احترام کا رویہ اختیار کریں۔
آج جب دنیا جنگوں، معاشی ناانصافیوں، نفرتوں، غربت، ذہنی پریشانیوں اور سماجی انتشار کا سامنا کر رہی ہے، تو سیرت النبی کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ دنیا کو ایسی انسانیت کی ضرورت ہے جو طاقت سے زیادہ رحم کو، نفرت سے زیادہ محبت کو اور مفاد سے زیادہ انصاف کو اہمیت دے۔ رسول اللہ کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ ایک انسان اپنے اخلاق، سچائی، صبر اور رحم کے ذریعے تاریخ کا رخ بدل سکتا ہے۔
لہٰذا عید میلاد النبی کے موقع پر ہمیں صرف اپنے گھروں، گلیوں اور مساجد کو روشن کرنے کے بجائے اپنے دلوں کو بھی روشن کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی زبان میں سچائی، اپنے دل میں رحم، اپنے عمل میں انصاف، اپنے گھر میں محبت اور اپنے معاشرے میں انسانیت پیدا کرنی ہے۔ اگر میلاد کے بعد ہمارا رویہ کسی یتیم کیلئے نرم، کسی غریب کیلئے مددگار، کسی کمزور کیلئے محافظ، کسی اختلاف رکھنے والے کےلئے برداشت والا اور اپنی ذمہ داری میں زیادہ ایماندار ہو جائے تو سمجھنا چاہیے کہ ہم نے عید میلاد النبی کا اصل پیغام سمجھ لیا ہے۔ نبی کریم کی ولادتِ باسعادت کا جشن حقیقت میں اسی وقت بامعنی ہوگا جب ہماری زندگی میں آپ کی سیرت کی روشنی نظر آئے، کیونکہ رسول اللہ سے محبت کا سب سے خوبصورت اظہار یہی ہے کہ ہم اپنے کردار کو آپ کے اخلاق کی خوشبو سے معطر کریں۔
٭٭٭
عید میلاد النبی : رحمت، اخلاق اور انسانیت کا پیغام