ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدےکو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدےکو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔ امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں شامل ہو۔
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدےکو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔
صدر نے شرط سے متعلق سعودی رہنما سے ابھی بات نہیں کی، ترجمان وائٹ ہاؤس
ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کسی بھی معاہدہ کرنےکے حتمی مجاز ہوتے ہیں، سعودی سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدے میں شمولیت سے مشروط ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ میں کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے سول جوہری معاہدے کی شرط سے متعلق سعودی رہنما سے ابھی کوئی بات نہیں کی،صدر ٹرمپ سعودی عرب سے معاہدہ ابراہیمی کے بارے میں پہلے بھی بات کرچکے ہیں، صدر ٹرمپ سعودی عرب سے بات چیت جاری رکھیں گے، صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیمی معاہدے میں شامل نہ ہوا تو سول جوہری معاہدہ نہیں ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں