مہنگائی کا ٹیکہ روز لگے گا

حکومت پاکستان کے گرما گرم تازہ بہ تازہ فیصلے کے مطابق اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمت روزانہ کی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ جو تبدیلی پہلے ماہانہ ہوا کرتی تھی، پھر پندرہ روز پر ہونا شروع ہوئی، پھر ہفت روزہ کی بنیاد پر ہونے لگی، وہی تبدیلی اب روزانہ کی بنیاد پر ہوا کرے گی۔ یعنی پہلے جو تلوار ہفتے بعد چلا کرتی تھی، اور گہرا گھاو¿ لگایا کرتی تھی، اب اس تلوار کی جگہ روزانہ کی بنیاد پر خنجر کے چھوٹے چھوٹے وار کر کے کہ تسلی کی جائے گی، کہ زخم تو پورا آئے مگر احساس کی شدت کم ہو جائے۔
حالیہ ایران – امریکہ کشیدگی میں اضافے کے بعد کی صورتحال پر بھرپور نظر رکھتے ہوئے حکومت نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ تاکہ حکومت کا نقصان نہ ہونے پائے۔ باقی عوام کو تو اس مہنگائی کی چکی میں پسنے کی عادت ہو چکی ہے۔ جب اسلام آباد امن یادداشت پر دستخط کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی میں کم ہونے لگیں، تو ہمارے حکمران یہ معاہدہ کروانے کی انتھک کوششوں میں اتنے تھک گئے تھے، کہ وہ قیمتوں میں کمی پر نظر ہی نہ رکھ سکے۔ تب وہ تھک کر گہری نیند سو گئے تھے۔ پھر ایک دم ان کو جگا کر بتایا گیا کہ جاگ جاو¿، دنیا میں پٹرولیم مصنوعات پھر مہنگی ہو گئی ہیں، یوں ساری دنیا کا درد رکھنے والے ہمارے حکمرانوں نے اس کا فوری حل یہ نکالا ہے کہ عام آدمی روزانہ کی بنیاد پر قربانی دینے کے لئے تیار ہو جائے۔
~ خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
دل پر بھاری پتھر رکھ کر ہمارے وزیر پٹرولیم جناب علی پرویز ملک صاحب اور وزیر اطلاعات جناب عطا محمد تارڑ صاحب نے یہ مڑدہ عوام کے گوش گزار کر دیا ہے، کہ بحالت مجبوری اب ہمیں قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑے گا۔ اب عام صارف روزانہ اس بات پر نظر رکھے گا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمت بڑھ رہی ہے یا گھٹ رہی ہے۔
حکومت نے اس طرح کالا سونا کہلائے جانے والی پٹرولیم مصنوعات کو سونے کا درجہ دے ہی دیا ہے، اور سونے کے طرز پر قیمتوں کا تعین کرنے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے۔ اب ڈر صرف اتنا ہے کہ غیر یقینی حالات کے پیش نظر یہ تعین بحالت مجبوری کہیں گھنٹے کے حساب سے نہ شروع کرنا پڑ جائے۔
ویسے شنید یہ بھی ہے، کہ کشیدگی کے خاتمے پر حکومت اس کالے سونے کو اپنی اوقات پر واپس لے آئے گی، کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر مہنگائی تو کی جا سکتی ہے، مگر روزانہ کی بنیاد پر سستائی کر کے عوام کو فائدہ پہنچانا ممکن نہیں ہے۔
اب ان حالات میں عوام تو کڑوا گھونٹ پی کر ہمیشہ کی طرح خاموش ہی رہے گی۔ جس کی وہ عادی ہو چکی ہے، مگر پٹرول پمپ مالکان کی تنظیم آل پاکستان پٹرول پمپ آنرز ایسوسی ایشن نے اس تجویز کو ناقابل عمل قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر یہ فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وگرنہ دوسری صورت میں اگلے ہفتے سے ہڑتال کی دھمکی دے دی گئی ہے۔ مطلب اس ایک ہفتہ تو حکومت کو پوری آزادی ہے کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر عوام پر بوجھ ڈال سکتی ہے۔ اس صورتحال پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے یونین کے وائس چیئرمین جناب نعمان علی بٹ صاحب نے حکومتی فیصلہ ان کی مشاورت سے نہ کرنے پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کو ملک بھر میں 15000 پٹرول پمپ مالکان کی گہری تشویش سے آگاہ کیا ہے۔
اب دو طرفہ مذاکرات سے کیا حل نکلے گا۔ اس کا فیصلہ تو مستقل میں مذاکرات کی میز طے کرے گی، مگر یہ طے ہے کہ دونوں کے مفادات کا جہاں سمجھوتہ ہو گا وہاں عوام کے حقوق کا خیال مشکل سے ہی رکھا جائے گا۔
انڈیا واحد ایسا ملک ہے، جہاں روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا جا رہا ہے۔ ہم نے اس کی تنہائی دور کرتے ہوئے اس معاملے میں اسی کا طرز عمل اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مگر انڈیا میں قیمتوں کا گراف اتنی تیزی سے نہیں بدلتا جتی تیزی سے پاکستان میں بدلتا ہے۔ اس لئے یہاں روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین ذرا بے رحمانہ فیصلہ تصور ہو سکتا ہے۔
حکومت چاہتی ہے کہ بوجھل دل سے کئے گئے اس فیصلے کا عوام بھرپور ساتھ دے۔ مشکل وقت جو پہلے ہی بڑی مشکل سے کٹ رہا ہے، اس میں کچھ مشکلات کا اضافہ تسلیم کرتے ہوئے عوام خندہ پیشانی سے کہے کہ، “حضور سر تسلیم خم ہے”۔ ویسے کسی بھی عوامی جماعت کو عوام پر گزرتے یہ مشکل دن نظر آ بھی نہیں رہے ہیں۔ ہر طرف خاموشی ہے۔ سب تسلیم کر چکے ہیں، کہ عوام کے کچھ خاص حقوق نہیں ہیں۔ وہ ہمیشہ کی طرح بھیڑ بکریوں کی طرح زندگی گزارنے پر ہی مجبور رہیں گے۔ سو حضور بے فکر ہو جائیے، عوام کا سر تسلیم خم ہی ہے۔ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں