چمن پسنجر ایکسپریس کی بندش: آٹھ لاکھ آبادی کی سفری مشکلات اور حکام کی خاموشی

بلوچستان کا شہر چمن کہنے کو تو صوبے کا دوسرا بڑا تجارتی اور سرحدی شہر ہے جہاں آٹھ لاکھ سے زائد انسان بستے ہیں لیکن بنیادی سہولیات کے لحاظ سے یہ شہر آج بھی پسماندگی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ اس وقت اہلیانِ چمن کا سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ چمن پسنجر ایکسپریس ریل گاڑی کی کئی مہینوں سے جاری بندش ہے جس نے پورے شہر کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ انگریزوں کے دور سے چلنے والی یہ ٹرین چمن اور کوئٹہ کے درمیان غریب عوام کے لیے سفر کا واحد سستا اور محفوظ ذریعہ تھی۔ لیکن افسوس کہ گزشتہ کئی ماہ سے یہ ریل گاڑی بغیر کسی ٹھوس وجہ کے بند پڑی ہے جس کی وجہ سے مقامی آبادی کو شدید ترین سفری اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ٹرین کی بندش کے بعد چمن کے عوام اب پوری طرح کوئٹہ شاہراہ (ہائی وے) پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔ مگر یہ شاہراہ آئے روز مختلف قسم کے احتجاجوں، دھرنوں اور بندشوں کا شکار رہتی ہے۔ جب بھی یہ سڑک بند ہوتی ہے تو چمن کا رابطہ ملک کے دیگر حصوں سے کٹ جاتا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ ہائی وے بلاک ہونے کی وجہ سے ہسپتال جانے والے مریض، بوڑھے، خواتین اور معصوم بچے گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہتے ہیں۔ کئی بار ایمرجنسی کی حالت میں مریض وقت پر کوئٹہ نہیں پہنچ پاتے جو کہ ایک بڑا انسانی المیہ ہے۔ عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ حال ہی میں ملک کے اندر پٹرولیم اشیاءکی قیمتیں سستی ہوئی ہیں اور پرانے ریٹ واپس آ چکے ہیں تو پھر ریلوے انتظامیہ چمن پسنجر ایکسپریس کو بحال کیوں نہیں کر رہی؟ جب پٹرول مہنگا ہو تو ٹرینیں بند کر دی جاتی ہیں یا کرائے بڑھا دیے جاتے ہیں لیکن اب قیمتیں کم ہونے کے باوجود ٹرین کو تاحال بند رکھنا سمجھ سے باہر اور عوام کے ساتھ سراسر ناانصافی ہے۔ چمن کے غریب اور دہاڑی دار طبقے کے لیے سڑک کے ذریعے مہنگا سفر کرنا اب بس کی بات نہیں رہی۔ ٹرین نہ صرف سستی تھی بلکہ اس کے ذریعے سفر کرنے والے مسافر احتجاج اور روڈ بلاک ہونے کی اذیت سے بھی محفوظ رہتے تھے۔
آٹھ لاکھ کی آبادی کو اس طرح بے یارومددگار چھوڑ دینا کسی بھی طور درست نہیں ہے۔ ہم حکومتِ وقت، وزیرِ ریلوے اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ چمن کے عوام کے اس اہم اور جائید مطالبے کو فوری طور پر سنا جائے۔ چمن پسنجر ایکسپریس ریل کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ غریب عوام کو سستی سفری سہولت مل سکے اور سڑکوں پر خوار ہونے والے مریضوں اور مسافروں کی مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں