مشرق وسطیٰ، امن کی بانسری بجے گی یا جنگ کا طبلہ

مشرق وسطٰی کا جنگی ماحول جسے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد سرد ہو جانا چاہیے تھا، تاحال ویسا ہی آگ کے گولے برساتا اور سخت کشیدہ ہے۔ حالات کا وہی منظر ہے جو مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے پہلے تھا۔ باقاعدہ اطراف سے گولیاں بھی چل رہی ہیں، اور زبانیں بھی چل رہی ہیں۔ وہی زبانیں جن پر کبھی تو مٹھاس کا گمان ہوتا ہے اور کبھی کڑواہٹ کا۔ پوری دنیا بالعموم اور مشرق وسطٰی کا خطہ بالخصوص ایک عجیب الجھن کا شکار ہے۔ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا اس کا فیصلہ بھی تب ہو گا جب فریقین اونٹ کو بیٹھنے دیں، جو فی الحال نظر نہیں آ رہا ہے۔
دنیا عالم ان حالات میں یہی ایک نظریہ رکھتی ہے، کہ اگر اس تند و تیز ماحول میں جنگ بندی کا معاہدہ طے بھی پا جاتا ہے، تو کیا فریقین میں سے کسی ایک کی بھی ضمانت دی جا سکتی ہے کہ وہ صدق دل سے شرائط کی پاسداری کرے گا؟
ابھی مفاہمتی یادداشت پر سہ طرفہ ہوئے دستخطوں کی سیاہی خشک بھی نہیں ہوئی تھی، کہ دوبارہ آسمان پر ایک طرف سے ڈرون اڑنے لگے ہیں، تو دوسری طرف سے میزائل اڑتے ہوئے آ کر زمین چومتے ہی آگ کے شعلے بلند کر رہے ہیں۔ ان بھڑکتے شعلوں کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ترتیب دی گئی موسیقی پر اپنا ہی بے سرا گانا بھی گانا شروع کر دیتے ہیں۔ جو بس جلتی پر تیل ڈالنے ہی کا کام کر رہی ہے۔ البتہ ان سے الگ ہو کر ایک کونے میں بیٹھے نیتن یاہو جی اپنا کام لڑاو¿ اور تماشہ دیکھو بخوبی اور اطمینان سے سر انجام دے رہے ہیں۔ یوں وہ ممالک جو ان سب کے بیچ امن کا پرچم تھامے کھڑے ہیں، اس بارے میں پریشان ہیں کہ آخر کس فریق تک امن کا پیغام پہنچائیں۔ کوئی سننے کو تیار ہی نہیں ہے۔
~ حیراں ہوں دل کو روو¿ں کہ پیٹوں جگر کو میں
اسی دوران حالیہ کشیدگی کا الزام پہلے کی طرح ایک دوسرے پر ڈالا جا رہا ہے۔ ایرانی ترجمان نے الزام عائد کیا ہے، کہ اس کی سرزمین پر ہوئے امریکی حملوں کے جواب میں اس نے کویت اور بحرین میں موجود امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں۔ جس میں کویت میں موجود علی السالم ائیر بیس اور بحرین میں پورٹ سلمان پر موجود امریکی بحریہ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایران کے بقول اس کشیدگی کی پہل امریکہ نے ہمارے 5 ساحلی مقامات پر حملے سے کی تھی۔ اس لئے یادداشت کی خلاف ورزی کا سارا ملبہ امریکہ کے سر جاتا ہے۔ جبکہ امریکہ فرما رہا ہے کہ ایران نے بحر ہرمز میں کچھ کشتیوں کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں امریکہ نے کاروائی کی ہے۔ اس وجہ سے یادداشت کی خلاف ورزی ایران نے کی ہے۔
اب دونوں ممالک ایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر تمام دنیا کو پریشان کر رہے ہیں۔ وہ دنیا جس نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد کچھ سکون کا سانس لیا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بھی کم ہو گئی تھیں اور معیشت پر پڑا بوجھ بھی کم ہونے کی نوید آ رہی تھی۔ خیر پاکستان حکومت نے اس دوران بھی تیل کی کم ہوتی قیمتوں میں ڈنڈی مار کر پورا فائدہ عوام تک پہنچانے کے بجائے مافیا کی جیبوں میں ڈالنے کو ترجیح دی۔
اب حالات یہ ہیں کہ براہ راست مذاکرات کے بجائے دوحا میں فریقین الگ الگ اپنا راگ سنا رہے ہیں۔ اب ایک فریق کے گانے سے ڈھول غائب ہے تو دوسرے فریق کے گانے سے بانسری۔ یوں دونوں گانے الگ الگ سن کر دلی اطمینان نہیں ہو پا رہا۔ پتہ نہیں چل رہا کہ فریقین مذاکرات میں امن کی طرف جا رہے ہیں یا جنگ کی طرف۔ نیتن یاہو البتہ اپنے مفادات پر یکسو ہو کر صرف طبلہ پر ہی بھروسہ کئے بیٹھے ہیں۔ سو کوئی بھی گانا ہو وہ طبلہ پیٹ کر اس کا سر بگاڑنے کی پوری پوری کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان اور دنیا فریقین کو سمجھا رہی ہے، کہ امن و محبت کا راگ چھیڑیئے۔ گولی اور گالی سے حالات صرف خراب ہی ہوتے ہیں۔ تحمل اور دانشمندی ہی دیرپا حل کی ضمانت ہو سکتی ہے۔ وہ حل جو صرف براہ راست مذاکرات، سفارتکاری اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔
اسی تناظر میں بحرین کی طرف سے اقوام متحدہ کا اجلاس بلا کر ان مسائل کا حل نکالنے کا مطالبہ بھی درست سمت کی طرف اشارہ ضرور ہے، مگر اقوام متحدہ تو تب فعال ہو جب سب اس کی حیثیت مانتے بھی ہوں۔ جب کوئی اس کی سنتا ہی نہیں، تو اس تنازعہ کے بیچ ایک بے سرے گانے کو کیا ہی اہمیت حاصل ہو سکے گی۔
دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی جیسی بڑی قدرتی آفت سے نبرد آزما ہے، معیشت کا پہیہ دھیمی رفتار سے چل رہا ہے، حالات دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں۔ اس پر یہ جنگوں کے بادل ہر دل کو مزید مشکل حالات کا منظر دکھا کر ڈر اور خوف میں مبتلا کر رہے ہیں۔
اب بھی دانشمندانہ فیصلہ یہی ہے کہ سب صاف دل سے مذاکرات کی میز پر آئیں۔ گفت و شنید سے حل نکالیں۔ اقوام عالم کو ضامن بنائیں اور دنیا کو سکون کا سانس لینے کا موقع فراہم کریں۔ یہ دانشمندانہ فیصلہ ہو گا، لیکن یہاں یہ سوال بھی ہر انسان کی ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا فریقین دانشمند ہیں بھی یا نہیں؟
٭٭٭٭

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں